سی پیک اور گلگت بلتستان

1

عدنان احمد ستون
انسان عزت کا بھوکا ہوتا ہے۔ جب اسے عزت دی جاتی ہے تو گھاٹے کا سودا بھی کر لیتا ہے اور جب انسان کے عزتِ نفس کے ساتھ کھلواڑ ہوتا ہے تو اس کی غیرت جاگ اٹھتی ہے اور اس کے نتیجے میں بغاوت جنم لیتی ہے جو کہ بہت بڑی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ گلگت بلتستان کے باسیوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔ جب حقوق کی بات کی گئی تو ان کو تقسیم دار تقسیم کے فارمولا سے توڑا گیا آپس میں لڑایا گیا، آپس کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا موقع تک نہیں دیا گیا اور اب تک کشمیر کاز کے لئے ہمیں 70 سال متنازع رکھا گیا ہے۔ اب گزشتہ چند سالوں سے جب سی-پیک کی بات چل رہی ہے تو گلگت بلتستان میں امن، آئینی، معاشرتی و معاشی حقوق کی بات اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب حکومت کو گلگت بلتستان کے حقوق کی ضرورت پیش آئی تو حکومت نے حقوق کی بھی بات کی اور امن کے لیے تگ و دو بھی شروع ہے۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے اور گرشتہ کچھ سالوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ امن تو کسی حد تک قائم ہوا ہے اور انشاءاللہ حقوق بھی ضرور ملیں گے کیونکہ یہ اب ان کی مجبوری بن گی ہے۔ بنا حقوق دئے ان کا مقصد کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔بات معاشرتی و معاشی حقوق کی ہے جس پے تحفظات گلگت بلتستان کی عوام کو پہلے بھی تھے اور اب یہ تحفظات اور شدت اختیار کر گئے ہیں۔
پچھلے ہفتے جب چاروں صوبوں کے وزراء اعلئ وزیر اعظم کے ساتھ سی – پیک کانفرس میں شرکت کے لئے چین گے تھے لیکن اس پینل میں گلگت بلتستان کا وزیر اعلی شامل تھا۔ اخباری بیانات میں تو گلگت بلتستان کو اس منصوبے اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے لیکن ہمارے وزیر اعلی اس کانفرنس سے دور رکھنا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ وزیراعلی صاحب تاحال اس بارے میں کوئی ردےعمل نہں آیا ہے لیکن ان کے ترجمان نے اس عمل پر سوال ضرور اٹھایا ہے اور ساتھ ہی وزیر اعلی کے غیر ملکی دورے کا بہانہ بنا کر اپنے سوال کا جواب دینے کی بھی کوشش کی ہے۔ ہو سکتا ہے وزیراعظم صاحب نے انہں اعتماد میں لیا ہو یا پھر ایسا تو نہیں کہ خود وزیر اعلی صاحب کو بھی سی پیک کے فیصلوں پے تحفظات ہوں۔ سی-ایم صاحب کو چاہے کہ وہ خود اس معاملے کو واضع کریں کہ یہ جو سب چل رہا ہے یہ ان کو اعتماد میں لیے ہوئے ہو رہا ہے یا انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے۔اگر ان کو اعتماد میں لیا گیا ہے تو وہ اپنی عوام کو اعتماد میں لیں ورنہ یہ غلط فہمی بڑے اور برے عمل کا سبب بن سکتا ہے۔ میں جس موضوع کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہ رہا ہوں وہ صرف یہ نہں ہے کہ سی- ایم گلگت بلتستان کو باقی صوبوں کے سی- ایم کے ساتھ ون بیلٹ ون روٹ کی اجلاس میں کیوں نہں بلایا گیا،بلکہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ پاکستان اور چین کے بیچ گلگت بلتستان ایک فریق ہے جو کے بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ سی-پیک کو کامیاب بنانے کے لئے گلگت بلتستان کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ سی- پیک کو پاکستان تک پہنچنے کے لیے واحد راستہ گلگت بلتستان ہےیعنی گلگت بلتستان کے بغیر پاکستان چین کا ہمسایہ بھی نہیں ہے۔ ان سب حقائق کے باوجود پاکستان گلگت بلتستان کو اس حد تک نظر انداز کرنا محبِ وطن پاکستانیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے جسے دیکھ کے لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت خود سی – پیک کو سبوتاژ کرنے پر تلی ہے۔ کوئی بھی زی شعور حکومت اپنی ترقی اور خوشحالی کے دروازے کو خود بند کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی یہ میری سمھج سے باہر ہے کہ پاکستانی حکومت کیوں ملک دشمن حرکتیں کرنے پے تلی ہوئی ہے۔ لگتا ہے وفاق نے سوچ لیا ہے کہ گلگت بلتستان کے سینے کو چیر کے راستہ بھی لیں گے اور گلگت بلتستان والوں کو گھاس بھی نہیں ڈالیں گے۔ گزشتہ دورے میں حکومت جن منصوبوں پر دستخت کر رہی ہے ان میں سی۔پیک اور دیامر ڈیم ہے جن کی پہلا فریق گلگت بلتستان ہے اور گلگت بلتستان کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں۔ بحثت فرزند گلگت بلتستان ہم اس بات پر سخت نالاں ہیں کہ بغیر ہماری مرضی یہ حکومتی عمل ہمیں ناقبلِ قبول ہے۔ خیر یہ عمل تو وفاق اور وفاق پر قابض ہرجماعت ہر دور میں ملک دشمن پالیسوں پے عمل پیرا رہی ہے ۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اس عمل کے بعد بحثیت ایک قوم ہم نے کیا لائحہ عمل طے کیا ہے۔ اس معاملے میں قانون ساز اسمبلی کے ارکان اور بلخصوص سی-ایم صاحب کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ لوگوں نے اپنا ووٹ صرف اس لئے دیا ہے کہ آپ ہر جگہ ان کے حقوق اور عزت و تکریم کی دفاع کریں نہ کہ اپنے ذاتی مقاصد اور پروٹوکول سے بس وقت گزاریں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s