انصاف | تحریر:جنید احمد

1001023.jpg
پاکستان بھر میں پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد وہ جو برحق تھے اور وہ جو باطل تھے دونوں مٹھائیاں تقسیم کرتے، مبارکباد دیتے نظر آئے۔ بیچارے عوام حیران و پریشان کہ فیصلہ کس کے حق میں ہوا، کون جھوٹا تھا اور کون سچا! سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں طرح طرح کے تبصرے اور مزاحیہ جملے خوب گردش کررہے ہیں۔ مجھے یقین ہے بادام کی دکانوں پر رش کی اطلاع تو آپ تک بھی پہنچی ہوگی۔
خیر اس میں عوام کا کیا قصور عوامی سطح پر اہمیت کے حامل فیصلے اگر عوامی زبان میں، معافی چاہتا ہوں عوامی توقع کے برعکس ہوں تو ایسی گوناگوں کیفیت ہوجاتی ہے، ایسی صورتحال میں یہ ردعمل عام سی بات ہے۔ عام آدمی کے اس کیس پر جو تاثرات تھے وہ روایتی قسم کے ہی ہوسکتے تھے کہ بھائی کچھ نہیں ہونے والا یہاں، ہمیں اس فیصلے سے کیا فرق پڑے گا۔۔۔ یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، یہ سب ہمیں مل کر بیوقوف بنارہے ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ عوام کے تاثرات ناامیدی ظاہر کرتے ہیں لیکن اندر کہیں ایک امید بھی اس فیصلے سے ضرور جڑی تھی, کہ انسان کا برے سے برے حالات میں امید رکھنا ایک فطری عمل ہے۔ جو لوگ اس فیصلے سے امید لگائے بیٹھے تھے کہ اب حکومت کی خیر نہیں وہ بھی سخت مایوسی کا شکار ہوئے۔
عوام میں فیصلے کے بعد مایوسی کی لہر نظرآتی ہے اس کی وجہ شاید یہ نہیں کہ وہ نوازشریف کو سزاوار سمجھتے تھے اور چاہتے تھے کہ کڑی سے کڑی سزا ملے۔ دراصل عوام ایک حکمران کو عدالت کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے تھے، جہاں اس سے بازپرس کی جائے، عوام کے دکھ درد، اس کی تکلیفوں کا حساب مانگا جائے۔ اس ملک کی آدھے سے زیادہ غریب عوام کو تو شاید پتہ بھی نہ ہو کہ پانامہ کہاں ہے اور آف شور کمپنی کس بلا کا نام ہے۔
عوام کی یہ حیرانکی و پریشانی اور کسی حد تک ملکی نظام کی بہتری کے حوالے سے مایوسی کے پیچھے جو سب سے بڑا عنصر نظر آتا ہے وہ یہ ہی ہوسکتا ہے کہ، خصوصاً ایسے وقت کہ جب دونوں فریقین مٹھائیاں تقسیم کرکے اپنی جیت کا جشن منارہے ہوں، سیاسی جماعتیں، سیاستدان یا عوامی نمائندے اپنی سیاسی مجبوریوں یا خواہشات کے تحت ہی اس کیس کو عدالت تک دھوم دھام سے لے کر گئے تھے، مقصد تو یہاں بھی ایک طرف اقتدار کے حصول کی کوشش تو دوسری طرف اقتدار کی حفاظت ہی تھا نہ کہ انصاف کا حصول۔ اگر مقصد عوام کے لیے انصاف کا حصول ہی تھا تو کیس فائل کرنے والوں نے وزیر اعظم کو نااہل ثابت کرنے کے لیے صرف پانامہ لیکس اور انتخابی دھاندلی پر ہی انصاف کی دہائی نہ دی ہوتی۔
آئین میں ترامیم کے زریعے بنیادی شہری حقوق پر لگائی جانے والی ضرب پر بھی انصاف مانگا گیا ہوتا، حکومت غیر ملکی کمپنیوں کو نوازنے کے لیے ملک میں اربوں روپے خرچ کرکے ایسے شمسی توانائی اور تیل سے چلنے والے بجلی گھر تعمیر کررہی ہے جن سے بجلی کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے، اس پر مزید ستم یہ کہ وہ مہنگی بجلی بھی عوام کو میسر نہیں، نندی پور، قائداعظم سولر پارک، سندھ میں ونڈ مل منصوبے جن کے لیے حکومت نے ہزاروں ایکڑ زمین بھی غیرملکی کمپنیوں کے حوالے کردی ہے، اس کی واضح مثالیں ہیں۔ جو حال عوام کا چار سال پہلے تھا اس سے برا نہیں تو کوئی اچھا بھی نہیں ہے۔ کاش کے ان سب کے لیے بھی انصاف مانگا گیا ہوتا۔
چھوٹا کسان طبقہ جو ملکی معیشت میں اہم کرداار ادا کرتا ہے حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں اپنی پیداوار کو آگ لگانے یا سڑکوں پر پھینک کر احتجاج پر مجبور ہے، جنہیں انکے حق کے بدلے زرتلافی کے عارضی لولی پاپ تھمادیے جاتے ہیں۔ ملک بھر میں ترقی اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر غریب کسان مزدور آبادیوں کو بیدخل کرکے انہیں بھوک اور غربت کی دلدل میں دھکیلا جارہا ہے۔ وطن عزیز میں بچے تعلیم کے لیے اور نوجوان روزگار کے لیے بھٹکتے بھٹکتے سماج دشمنوں کے آلہ کار بن رہے ہیں کیا آپ نے کبھی ان کے لیے انصاف مانگا ہے؟
آخ بھی ملک کی بڑی آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے، آج بھی بدامنی ہے، نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد میں حکومت ناکام رہی ہے۔ شہروں میں غریب مریض اسپتالوں کی راہداریوں میں بستر یا ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ دیتے ہیں، کیا ان لوگوں کے لیے انصاف اور حکمرانوں سے حساب مانگا گیا؟ اگر صاف لفظوں میں کہا جائے تو طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں اور ان کی جماعتوں نے کبھی اس ملک کے غریب عوام کے لئے اپوزیشن میں رہتے ہوئے نہ انصاف مانگا ہے اور حکومت میں رہتے ہوئے نہ کبھی عوام کو ان کا حق دیا ہے۔
غریب عوام نے اس ملک میں روٹی چرانے کے جرم میں ہتھکڑی لگے بچے تو دیکھے ہیں اب یہ عوام عدالتی کٹہروں میں سیاستدانوں، افسر شاہی غرض ملک کی اس پسماندگی کے ذمہ دار ہر ادارے اور ہر ظالم کو دیکھنا چاہتی ہے۔ عوام کی نظر میں یہ سب معصوم اور بے گناہ نہیں، کسی اور کو لگتے ہیں تو لگیں۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s