یاسین برکلتی میں 1970 کی دہائی میں تعمیر شدہ ڈ سسپنسری میں ادویات اور دیگر بنیادی ضروری اشیا موجود نہیں

1001022.jpg

یاسین (منظور عالم) یاسین برکلتی میں 1970 کی دہائی میں تعمیر شدہ ڈ سسپنسری میں ادویات اور دیگر بنیادی ضروری اشیا موجود نہیں۔تفصیلات کے مطابق ضلع غذر تحصیل یاسین برکلتی میں 1970 کی دہائی میں تعمیر شدہ ڈ سپنسری آج حکومتی نمائندوں کی بے حسی اور کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ،یہ علاقہ رقبہ کے لحاظ سے یاسین کا سب سے بڑا گاؤں ہے اور اس کی آبادی 600 گھرانوں پر مشتمل ہے، مگر یہاں ایک ہی ڈ سپنسری جو صرف 3 کمروں پر مشتمل ہیں، یہاں ہر صج بزرگوں ، عورتیں اور اُن ماؤں کا رش ہوتا ہے جو اپنے روتے ہوئے بچوں کو گود میں لیکر علاج کے لئے آتے ہیں صحن میں بیھٹے لوگ ڈسپنسری کے دیواروں کو تکتے ہیں اور حسرت بھری نظروں سے اُن کو کسوتے رہتے ہیں مگر افسوس یہ تمام لوگ صرف طواف کرکے ہاتھ میں ڈاکڑ کی پرچی جس پر داوں کی لمبی لسٹ ہوتی ہیں تھامے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ ڈاکڑ تو موجو د ہے مگر دوائی بالکل نہیں ، حکومتی بے حسی کا عالم تو دیکھے کہ 600 گھرانوں کے لئے ایک ڈاکڑ ایک ڈسپنسری وہ بھی داوؤں اور دیگر ضروری آلات جراحی سے خالی ہے ۔ ڈاکڑ چیک اپ کرنے کے بعد مریض کو صرف پرچی تھما دیتا ہے اور مریض کو دوا باہر موجود نجی کلینک سے خریدنا ہوتا ہے جو منہ مانگے دام دوا فروخت کرتے ہیں، عوامی نمائندہ سے ہماری بات ہوئی اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے غریب عوام کو سہولت دینے کے بجائے اُن کو نجی کلینکس کےرحم پر چھوڑا ہے۔ ہم حکومت وقت سے مطالبعہ کرتے ہے کہ یہاں کی آبادی کے مطابق بڑا ہسپتال قائم کریں اور اس سنگین مسلے کا دیرینہ حل تلاش کریں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات میں کمی واقع ہو۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s