ایشیا کا ٹائیگر:  جنید احمد

1001019.jpg


ایشیا کا ٹائیگر


یہ سن کر دل باغ باغ ہوگیا کہ ترقی کا آغاز ہوگیا ہے اور پاکستان ایشیاءکا اور بلوچستان پاکستان کا معاشی ٹائیگر بنے گا، نہ بوچھئے کہ کیسی ٹھنڈک پہنچی دل کو کہ بیان سے باہر ہے اور بیان کریں بھی کیا کہ بیانیے پر تو ایک پورا لغت مرتب ہوچکا ہے اس ملک میں۔۔۔۔ اب اس میں اپنے مطلب کا بیانیہ ڈھونڈ لانا ہم جیسے نالائقوں کے بس کا روگ نہیں۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے معاشی ادارے ملکی ترقی کے گن گا رہے ہیں اور ریٹنگ بڑھاتے جارہے ہیں لیکن بھیا یہ روز روز کے الزام لگانا کہ حکومت غریب آبادیوں کو بیدخل کرکے زمین سرمایہ کاروں کو دے رہی ہے اسٹیل مل کو بند کرکے اس کی زمین کوڑیوں کے مول بیچ رہی ہے۔ عوامی اثاثوں کی نجکاری کررہی ہے، کرپشن کررہی ہے، انتہاپسندوں کی سرپرستی کرہی ہے، حکومت نا اہل ہے فلانا ہے ڈھمکانہ ہے، کوئی انصاف کی بات نہیں ہے۔ حکومت کا نجکاری کرنا، ڈی ریگولیشن کرنا، عوامی زمین اور اثاثوں پر ملکیت جتانا یا فروخت کردینا عین اسلامی، آئینی اور قانونی ہے جسے منتخب عوامی نمائندوں نے ”حلال“ یعنی جائز کی سند دی ہے۔ اب یہ واویلا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے وہ نہیں ہونا چاہیے اسے اس طرح کے نظام حکومت میں سازش کہا جاتا ہے اور اکثر اسے جمہوریت اور ترقی کے خلاف سازش سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
برا ہو اس ”سازش“ کا جب سے ملک بنا ہے یہ ہماری پیچھے ہی پڑگئی ہے میں نام گنوا کر قوم کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا ہے اور ویسے بھی اب تو ان سازشوں کے نام بھی پوری قوم کو ازبر ہوگئے ہیں جو اسے ایک نصاب کی طرح پڑھتے بڑے ہوئے ہیں۔ تو اب یہ تعین آپ خود کرلیں کہ یہ سازش جمہوریت کے خلاف آمریت کے حق میں ہے یا آمریت کے خلاف جمہوریت کے حق۔ خیر کیا فرق پڑتا ہے چھری خربوزے پہ گرے یا خربوزہ چھری پہ۔۔
غضب خدا کا آجکل جسے دیکھو دو چار ہزار کا موبائل خرید کر حکومت اور ریاستی اداروں کے پیچھے انسانی و معاشی حقوق کے صابن سے ہاتھ دھوکے پڑا۔ سوشل میڈیا پر عوام کی حالت پر آنسو بہانے والوں کو ملک میں ہر جگہ ناانصافیاں نظر آجاتی ہیں۔ ارے بھائی حکومت نے آپ کے لیے تھری جی سروس کا بندوبست اس لیے کیا تھا کہ ظلم و انصافیوں پر مبنی تصویریں، بلاگ اور ویڈیو شیئر کرکے عوام کو مظلومیت کا اشتہار بنادیں۔ دیکھو تو زرا کبھی فوج کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کبھی عدلیہ کے۔ جاو بھائی اپنا کام کرو تمہیں کیا آفت پڑی ہے کہ یورپی ممالک چھوڑ کر یہاں آو اور مظلوموں کے حق کے لیے آوازیں اٹھاو ۔۔۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم بھی آپ کے جیسے ہوجائیں گے تو سن لیں ہم اس یہود و نصاری کی سازش میں کبھی نہیں آئیں گے۔
ٹی وی سرکاری ہو یا نجی چلا چلا کر فیتے کٹائی کے مناظر دکھا رہے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے گوادر تا گلگت بلتستان دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں کیا ہوا جو پینے کا پانی نہیں، اسکول نہیں۔ اور انہیں اسکول کی ضرورت بھی کیا ہے بکریاں ہی تو چرانی ہیں بیچاروں نے یا بہت تیر مارا تو سمندر سے مچھلیاں پکڑ لائیں گے اگر غیر ملکی ٹرالروں سے بچ جائیں تو۔ بس خدارا اب یہ ظلم، غربت ناانصافی کا پرچار کرکے ریاستی اداروں اور حکومت کو پریشان کرنا چھوڑ دیں ورنہ ۔۔۔۔۔ میں بھی آبیدہ ہوجاوں گا۔۔۔۔۔۔
بس بہت ہوگیا اب یہ سب بند ہوجانا چاہیے ۔۔۔۔آخر کب تک یہ شور شرابا رہے گا کہ حکومت خراب ہے، نا اہل ہے، ریاستی ادارے اپنی زمہ داریاں پوری نہیں کررہے؟ سارا قصور عوام کا ہے جسے ملک کی معاشی ترقی اور انصاف کا بول بالا نظر نہیں آتا۔ حکومتی کامیابیوں اور معاشی ترقی دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام پی ٹی وی دیکھیں کیونکہ اس معاشی ٹائیگر کی رفتار بہت زیادہ ہے جس کا مشاہدہ عوامی بصارت کے بس کی بات نہیں۔
بیجاری حکومت پر مزید ظلم یہ کہ ملک کا دانشور، شاعر، فنکار، سیاسی نقاد طبقہ بھی ہر وقت ملک و قوم کی ترقی کا رونا روتا ہے۔ کیوں بھی کیا آپ کو ملک بھر ڈیفنس ہاو¿سنگ اتھارٹی، بحریہ ٹاون، فضائیہ ہاوسنگ اسکیم جیسی جدید رہاشی سہولیات نظر نہیں آتیں؟ بھی عوام کے لیے ایسی شاندار رہائش کا بندوبست گزشتہ 70 سالوں میں کوئی نہ کرسکا، یقین نہ آئے تو خود جاکر دیکھئے اب تو سارے ملک میں موٹر وے کا جال بچھ رہا ہے، ان سڑکوں پر شاندار بسوں اور لگژری ٹرینوں میں سفر کرکے جائیں تو اور دیکھیں کہ منٹ بھر بھی یہاں بجلی نہیں جاتی، اور تو اور قوم کے بچوں کو اعلی تعلیمی بھی یہیں دلوائیں، گولف کھلائیں، اور سب سے بڑھ کہ تو صاحب وہ مثالی امن و تحفظ جس کی توقع تو بانیان پاکستان نے بھی نہ کی ہوگی۔
بھی بس کیجیے اب یہ سب کہنا کہ ملک کی آدھی آبادی غذائی کمی کی شکار ہے اور لگ بھگ اتنی ہی غربت کے نتیجے میں بھوک سے نبردآزما ہے۔ ملک کے ہر کونے میں کھانے پینے کی اشیاءسے بازار بھرے پڑے ہیں، پیزا کھائیے برگر کھائیے، امریکی اطالوی جو چاہیں یہاں سب دستیاب ہے، پھر بھی یہ واویلا کہ تھر میں بچے بھوک سے مررہے ہیں، بلوچستان میں 83.4 فیصد، سندھ میں 70.8، پنچاب میں 65.6، خیبر پختونخوا میں 67.4 گھرانے غربت کی وجہ سے غذائی کمی کا شکار ہیں۔ یہ سب سی پیک کے خلاف دشمن کی سازش ہے۔ رد الفساد کی مار ہو ان پر ہم عوام انہیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے اور پاکستان کو ایشیا کا معاشی ٹائیگر اور بلوچستان کو پاکستان کا معاشی ٹائیگر بناکر چھوڑیں گے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s