گلگت بلتستان میں غذائی قلت سے نئے جنم لینے والے بچوں کی مناسب نشونما نہیں ہوتی

PND GB PIC.JPGگلگت(ارسلان علی) سکیلنگ اپ نیوٹریشن یونٹ محکمہ منصوبہ بندی و ترقی گلگت بلتستان کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر نادر شاہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں غذائی قلت سے نئے جنم لینے والے بچوں کی مناسب نشونما نہیں ہوتی جس کی وجہ سے بچوںکی عمر میں اضافے کے حساب سے ان کی قد میں اضافہ نہیں ہوتاجبکہ گلگت بلتستان پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں بسنے والے افراد میں آیوڈین اور وٹامن ڈی کی بھی کمی ہوتی ہے جس کے لےے مناسب اقدامات کی ضرورت ہے۔جمعرات کے روز مقامی ہوٹل میں سکیلنگ اپ نیوٹریشن یونٹ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان کے زیر اہتمام تمام متعلقہ محکموںصحت،پاپولیشن ویلفیئر،زراعت،خوراک،حیوانات،فشریز،تعلیم،سوشل پروٹیکشن،ترقی نسواںکے علاوہ سول سوسائٹی اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ذمہ داروںکے لےے غذائی قلت کے اثرات پر ایک روزہ ورکشاپ کاانعقاد کیا گیا جس میں مقررین نے کہا کہ پاکستان میں غذائی قلت سے سالانہ معیشت کو تین فی صد نقصان ہوتا ہے جبکہ توانائی کے بحران سے ملکی معیشت کو سالانہ دو فیصد نقصان ہو رہا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غذائی قلت کتنا اہم مسلہ ہے اس لےے غذائی قلت پت فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے اور یہ کسی ایک محکمے کاکام نہیں بلکہ اس مسلے کے حل کے لےے تمام محکموںکو مل کر کام کرنا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ غزائی قلت سے بچوںپر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو غذائی قلت کے شکار بچے مختلف بیماریوںمیں مبتلا ہوتے ہیںان کی قوت مدافعت میں کمی واقع ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مختلف بیماریوںکا مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ ان کی ذہانت بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتی ہے۔مقررین نے کہا کہ گلگت بلتستان میں لوگوںکو متوازن غذاکے حوالے سے آگاہی نہ ہونے سے ایسے مسائل جنم لے رہے ہیں اس لےے آگاہی مہم اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نادر شاہ نے کہا کہ سن(SUN)یونٹ کی تمام تر توجہ بچوںکی پہلے ایک ہزار دنوںتک ہے اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم پہلے اور دوسرے بچے کے درمیان وقفے میں بچے کی نشونما پر توجہ دے سکے اس دوران متوازن غذا استعمال کرنے سے بچوںکو غذائی قلت کی بیماری سے بچایا جاسکتا ہے۔نیوٹریشن سیل کے محمد عباس نے کہا کہ نیوٹریشن سیل کا قیام سن2000میں عمل میں لایا گیا تھا اس ادارے نے بچوںکی نشونما کے حوالے سے بہت کام کیا ہے ۔نومبر 2015میں انٹرسیکٹیریل نیوٹریشن سٹریٹجی کی منظوری وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری نے دی ہے مگر فنڈز کی کمی کی وجہ سے اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s