ذوالفقار علی بھٹو۔۔۔ ایک عہد ساز شخصیت | تحریر ۔شفیع اللہ قریشی

52-Zulfiqar-Ali-Bhutto.png

 پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی 4اپریل کو ملک بھر میں منائی جاتی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اورپاکستان کے نویں وزیرِاعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی اڑتیسویں برسی ملک بھر میں منائی جارہی ہے ‘ ایک مرتبہ قائداعظم محمد علی جناح نے انہیں انتہائی مفید مشورہ دیا تھا جس پر عمل کرکے وہ پاکستان کی انتہائی قد آور شخصیت بنے ۔ ذوالفقارعلی بھٹو5جنوری 1928کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے ، اس وقت کون جانتا تھا کہ وہ بین الاقوامی قد آورسیاسی شخصیت کے روپ میں اُبھرکرسامنے آئیں گے ، ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو بھی سیاست کے میدان سے وابستہ رہے تھے ۔آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد اُنیس سو پچاس میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات کی ڈگری حاصل کی اوراُنیس سو باون میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصولِ قانون میں ماسٹرز کیا، تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کراچی میں وکالت کا آغاز کیا اورایس ایم لاءکالج میں بین الاقوامی قانون پڑھانے لگے ۔ انہوں نے سیاست کا آغازاُنیس سواٹھاون میں کیا اور پاکستان کے پہلے آمرفیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے دورِحکومت میں وزیرتجارت، وزیراقلیتی امور، وزیرصنعت وقدرتی وسائل اوروزیرخارجہ کے قلمدان پرفائض رہے ، ستمبر1965ءمیں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کا موقف بڑے بھرپورانداز سے پیش کیا۔جنوری 1966ءمیں جب صدر ایوب خان نے اعلانِ تاشقند پردستخط کیے تو ذوالفقارعلی بھٹو انتہائی دلبرداشتہ ہوئے اور اسی برس وہ حکومت سے علیحدہ ہوگئے ۔ اُنہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت دی تھی۔قائد عوام نے دسمبر اُنیس سوسڑسٹھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی، جو بہت جلد پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن گئی۔ عوامی جلسوں میں عوام کے لہجے میں خطاب اُنہی کا خاصا تھا۔بھٹو کا قائد اعظم کا نام خطاپریل26‘ 1945آپ‘ جناب‘ نے ہمیں ایک پلیٹ فارم پرایک جھنڈے تلے متحد کیا ہے اور آج ہر مسلم کی صدا پاکستان ہونی چاہیے کہ ہماری منزل پاکستان اور ہمارا مقصد پاکستان ہے ۔ کوئی بھی ہمیں اس منزل کو پانے سے نہیں روک سکتا۔ ہم ایک قوم ہیں اور بھارت برصغیر ہے ۔ آپ نے ہمیں متاثر کیا ہے اور ہمیں آپ پر بے پناہ فخر ہے ۔ کیونکہ میں ابھی اسکول میں ہوں اس لیے اپنے مقدس ملک کے قیام میں آپ کی مدد تو نہیں کرسکتا لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب میں اپنی جان پاکستان کے نام قربان کردوں گا۔ذوالفقارعلی بھٹوقائداعظم کا ذوالفقارعلی بھٹو کو جواب1 مئی ‘ 1945مجھے آپ کا 26 اپریل والا خط پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی اور میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ آپ سیاسی حالات و واقعات کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ اگر آپ سیاست میں واقعی دلچسپی رکھتے ہیں تو پھر اس کا مفصل مطالعہ کیجئے لیکن اس دوران اپنی تعلیم کو نظرانداز نہیں کیجئے گا‘ اور جب آپ اپنی تعلیم مکمل کرلیں گے تو مجھے یقین ہے کہ اگر آپ نے بھارت کے سیاسی مسائل کا مفصل مطالعہ کیا تو زندگی کی جدوجہد میں آپ ایک قابل اور تعلیم یافتہ شخص کی طرح کامیاب ہوں گے ۔ محمدعلی جناح صدرآل انڈیا مسلم لیگ ڈان اخبار کا عکس،اُنیس سو ستر کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی نے مغربی پاکستان جبکہ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی، اقتدار کے حصول کی اس لڑائی میں نتیجہ ملک کے دوٹکڑوں کی صورت میں سامنے آیا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ 1971ءمیں پاکستان کے صدر اورپھر 1973ءمیں پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ملک کے دولخت ہونے کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورِاقتدار میں بے پناہ کارنامے انجام دیئے ، اُنہوں نے اُنیس سو تہتترمیں ملک کو پہلا متفقہ آئین دیا، یہی نہیں اُن کے دور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کو آج بھی اُن کی بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے ۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا سہرا بھی ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے ۔پیپلزپارٹی کا دورِ حکومت ختم ہونے کے بعد اُنیس سو ستتر کے عام انتخابات میں دھاندلی کے سبب ملک میں حالات کشیدہ ہوئے ، جس کے نتیجے میں پانچ جولائی اُنیس سو ستترکو جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاء نافذ کردیا۔ملک میں ہونیوالے مظاہروں کے نتیجے میں قائدِ عوام کو دوبار نظر بند کرکے رہا کیا گیا تاہم بعدازاں ذوالفقارعلی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمہ میں گرفتار کرلیا گیا اور 18 مارچ 1977ءکو انہیں اس قتل کے الزام میں موت کی سزا سنادی گئی۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس میں تین ججوں نے انہیں بری کرنے کا اور تین ججوں نے انہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا۔پاکستانی سیاست کے اُفق کے اس چمکتے ستارے کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں 4اپریل اُنیس سو اُناسی کو پھانسی دیدی گئی لیکن پاکستان کی سیاست آج بھی اُن کی شخصیت اوران کی جماعت کے گرد گھومتی ہے ۔ذوالفقارعلی بھٹو نے اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس میں تین ججوں نے انہیں بری کرنے کا اور تین ججوں نے انہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا۔پاکستانی سیاست کے اُفق کے اس چمکتے ستارے کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں 4اپریل اُنیس سو اُناسی کو پھانسی دیدی گئی
لیکن پاکستان کی سیاست آج بھی اُن کی شخصیت اوران کی جماعت کے گرد گھومتی ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s