آج بازار میں پا بہ جولاں چلو |تحریر عقیل نواز

1001013.jpgگلگت بلتستان کے مسائل کا کوئی شمار نہیں ۔ یہ خطہ دنیا کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں کے حالات دن بدن ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف جارہے ہیں۔ جہاں ادارے کمزور اور بے اختیار ہوتے جارہے ہیں اور شخصیات مضبوط اور با اثر ہوتی جارہی ہیں. بیرونی استعمار کی سازشوں اور ہتھکنڈوں کی بدولت یہاں کی تہذیب تیزی کے ساتھ متاثر ہورہی ہے. روزمرہ زندگی سے امن و آشتی ، محبت، باہمی عزت و تکریم ، جیسے جذبات کا خاتمہ ہورہا ہے ۔ لوگوں کو تعلیم تو دی جاتی ہی لیکن اس کے مقاصد اوراس کے اہداف کو یکسر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اب تو ظلم و بربریت کی انتہا ہوچکی ہے ۔ چند ماہ قبل شبیر سہام رپورٹ میں فاش ہونے والی خبروں سے یہ بات اخذ کرنا اب مشکل نہیں رہا کہ بیرونی عناصر ستر سال تک ہمارے وسائل لوٹنے کے بعد اب ہماری عزت وناموس کے درپے ہیں۔ غیر تو خیر غیر ہوتے ہیں ان سے کسی قسم کے خیر کی توقعات نہیں رکھی جاسکتیں۔

میرے لئے انتہائی کربناک بات یہ ہے کہ ہماری اس عظیم دھرتی میں پیدا ہونے والے چند عناصر بھی غیروں کے ہم قدم چلتے ہیں اور ان کے ناپاک خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں بھرپور معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ایسی مکروہ سرگرمیوں کے متعلق خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد سے جہاں گلگت بلتستان بھر میں خوف اور افراتفری کا عالم ہے وہاں پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم طلبہ وطالبات میں بھی غم و غصے کی شدید لہر پائی جاتی ہے۰ عین ممکن ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نےاس گھناونے فعل میں مرتکب افراد کو مزید بچانے کی کوشش کی تو یہ آگ مختلف شہروں کی شاہراہوں کواپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

اس حوالے سے کراچی میں مقیم طلبہ اور تعلیم سے فراغت پاکر مختلف شعبوں سے منسلک افراد نے ایک باقائدہ تحریک کا آغاز کیا ہے۔جس کی شروعات کل پریس کلب کراچی کے سامنے ہونے احتجاجی مظاہرے سے ہوگئی ہے۔ اس بات کا فیصلہ ہواہے کہ اگر اس غیر اخلاقی عمل کا ارتکاب کرنے والوں کومزید ریاستی پناہ دی گئی اور ان کو قرار واقعی سزا نہ دی گئی تو اس تحریک کے دائرہ کار کو مزید بڑھایا جائے گا ۔ اور آہستہ آہستہ شاہراہوں اور اقتدار کے ایوانوں میں اس کو منتقل کیا جائے گا ۔ہمیں بھی کل کے احتجاجی جلسے میں شرکت کرنے کا موقع ملا. یہ ہماری کاہلی سمجھیں یا بدقسمتی، ہم وہاں پر ذرا تاخیر سے پہنچے. وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ بہت سارے مقررین خطاب کر چکے تھے اور ابھی بھی مقررین کی ایک بڑی تعداد دعوتِ خطاب کی منتظر تھی. ہم نے بھی اپنے نحیف علم کے مطابق چند باتیں گوش گزار کرنے کا ارادہ کیا تھا مگر مقررین کی تعداد اور وقت کی کمی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہم نے اپنے ارادے کو ترک کیا اور ایک سامع کی حیثیت سے شریک رہے. لیکن جو باتیں ہم نے وہاں کہنی تھیں وہ اس تحریر کے ذریعے مختصراً آپ کی خدمت میں پیش ہیں.

میری دھرتی ماں ، میرے دیس کے باشعور اور باہمت جوانو! سلام ہو آپ کی اس جراتِ اظہار اور آپ کے اس عزم پر کہ ایک ظالم، جابر اور مکروہ گروہ کے ظلم و بربریت کو سہنے کے بجائے آپ ان کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ گلگت بلتستان جیسے بااخلاق اور با تہذیب علاقے میں اس قسم کی سرگرمیوں کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا. صاحبو مجھے اس بات پر زیادہ حیرت نہیں کہ بیرونی عناصر مختلف حُلیوں میں آکر میری دھرتی کے وسائل لوٹ رہے ہیں. مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ میرے دیس سے تعلق رکھنے والے کچھ بے غیرت اور بےحیا افراد پرایوں کے ساتھ مل کر نہ صرف میرے معاشرے کو برائیوں کی طرف دھکیل رہے ہیں بلکہ میری عزت و حرمت کو خاک میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں.

میں کل رات کو بیٹھا سوچ رہا تھا کہ وہ قوم جو دنیا کی شریف قوم کہلاتی ہے، جو دنیا کی مہذب اور با اخلاق قوم سمجھی جاتی ہے … ایسا کیا ہوا کہ اب یہاں بے غیرتی اور بے حیائی کی آگ جلادی گئی ہے. ایسا کیا ہوا کہ یہاں بھی عزت و ناموس کے تحفظ کا جنازہ نکل گیا۔۔ اس بات کا جواب صاف ظاہر ہے کہ اپنوں اور مقامی لوگوں کی مدد کے بغیر بیرونی عناصر اپنے ہتھکنڈوں اور ارادوں کو عملی جامہ پہنا نہیں سکتے. ایسا صرف اپنوں کی کمزوری اور بے ضمیری کا نتیجہ ہے

……اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے…..

صاحبو ! اگر جسم کے کسی حصے میں ناسور ہوجائے تو اس کا ایک ہی حل ہے. وہ یہ کہ ناسور زدہ اعضاء کو کاٹ کر پھینک دیا جائے. ورنہ یہ ناسور سارے بدن میں سرایت کرجائے گا اور پورا جسم اس سے متاثر ہوگا.

ہمارے علاقوں اور صفوں میں شامل یہ مکروہ عناصر کسی ناسور ذدہ حصے سے کم نہیں ہیں.اور ان کو کاٹ کر پھینکنے کی ضرورت ہے.

ساغر صدیقی مرحوم نے شاید ایسے لوگوں کے بارے میں ہی کہاتھا

جن سے رسوائیاں ہوں گلشن کی

ان شگوفوں کو سنگسار کرو

اب وقت آگیا ہے کہ تالاب کو ناپاک کرنے والی ان مچھلیوں کو نکال پھینکا جائے اس سے قبل کہ یہ گندی مچھلیاں سارے تالاب کو ناپاک کریں.ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وفاقی جماعتوں کے خول سے نکل کر اور ہر تعصب سے بالاتر ہوکر سوچیں کہ ہم کس سمت جارہے ہیں یا ہمیں کس سمت دھکیلا جارہا ہے؟ اس صورت حال میں ہماری کیا انفرادی اور اجتمائی زمہ داریاں ہیں؟ ہماری کیا کمزوریاں اور خامییاں ہیں جو ہم اس یلغار کو روکنے میں ناکام ہیں؟ آج ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ کہ جن مکروہ لوگوں کی نشاندہی شبیر سہام رپورٹ میں کی گئی ہے ہم ان سے ہر قسم کے تعلقات ختم کریں اور ان کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کریں. تاکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو اور ہماری دھرتی ان کے نجس وجود سے پاک ہو. آج آپ کراچی میں مقیم نوجوانوں نے جذبہء بیداری سے بھرپور ہوکر حفیظ اور اس کے نا اہل وزراء کے خلاف جس تحریک کا آگاز کیا ہے انشااللہ یہ تحریک مجرموں کی سزا تک جاری رہے گی.

آج مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہورہی ہے کہ اس مجموعے میں صرف ایک ہی مسلک، ایک ہی جماعت یا ایک ہی علاقے کے لوگ نہیں ہیں. بلکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہاں شیعہ جوان بھی ہے، سنی جوان بھی ہے، نوربخش جوان بھی ہے، اور یہاں اسماعیلی فرد بھی ہے. 

اسی طرح اس احتجاج میں استور کا نوجوان بھی ہے، بلتستان کا نوجوان بھی ہے، گلگت کا نوجوان بھی ہے، دیامر کا نوجوان بھی ہے، غزر کا نوجوان بھی ہے اور ہنزہ نگر کا نوجوان بھی……

کیوں کہ یہ محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے… بلکہ یہ میری دھرتی ماں میں رہنے والے شریف لوگوں کی عزت و ناموس کا مسئلہ ہے.. یہ میری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے..

صاحبو! آپ نے اس تحریک کا آغاز کیا ہے ،مجھے خوشی ہے. اب مجھ سمیت گلگت بلتستان کے ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس کے مقاصد کو ذہین نشین کرتے ہوئے اس میں بھر پور شرکت کریں.

مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ ان مکروہ اور متنازہ چہروں کی جانب سے اس تحریک کو سبوتاژ کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی. لالچ دی جائے گی، ڈرایا دھمکایا جائے گا.. آپ کے گھر والوں کو ورغلایا جائے گا کہ آپ کے بچے پڑھائی کے بجائے سیاسی سرگرمیوں میں ڈھوبتے چلے جارہے ہیں.. لیکن مجھے اور آپ کو ثابت قدم رہنا ہے، ہمت سے کام لینا ہے، عظم سے کام لینا ہے کیونکہ یہ تحریک صرف چند افراد کے خلاف نہیں یا کسی ایک شخص کے خلاف نہیں ہے.. ۔۔ بلکہ ان تمام لوگوں کے خلاف ہے جنہوں نے میری غیرت کو للکارا ہےاور میری عزت کو للکارا ہے

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s