خدا بخش| تحریر: عقیل نواز

10097.jpgاس رات میں دیر تک بازار میں گھومتا رہا ۔بازار سے ذاتی استعمال کی چند چیزیں خرید لینے کے بعد میں اپنےگھر کی جانب روانہ ہوا۔ایک زمانہ تھا کہ کراچی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا۔آج کل تقریباً دس بجے ہی سڑکوں اور گلیوں میں ویرانی کے سائے چھا جاتے ہیں ۔صدر سے بس کے ذریعے گھر کے قریبی اسٹاپ پر پہنچا۔گھڑی رات کے ساڑھے دس بجا رہی تھی۔سامنے گلی کے دوسرے کونے میں ایک بیکری آدھ کُھلی نظر آرہی تھی۔انسانوں کی آمد و رفت تقریباً مسدور ہوچکی تھی۔ میں تیز تیز قدموں کے ساتھ گھر کی جانب چلنے لگا۔اسی دوران ، میں نے دائیں جانب کی گلی سے کسی انسان کا سایہ محسوس کیا۔اکثر کتابی کہانیوں میں اس طرح کے مناظر پڑھ کر میرا دل دھک دھک کر نے لگتا تھا۔مگر نہ جانے کیوں ، اس دن میں ذرا برابر بھی خوف زدہ نہ ہوا۔انسانی سائے کو دیکھ کر میرے قدم خود بخود رُک گئے۔آنے والا میرے سامنے گر گیا اور مجھ سے کھانے کا تقاضا کرنے لگا۔آنے والے کا حُلیہ ڈراونا تھا۔نقاہت سے چہرے کا رنگ ہلدی کی مانند زرد پڑگیا تھا۔میں نے خوف اور حیرت کی ملی جُلی کیفیت میں ، امداد طلب نظروں سےادھر اُدھر دیکھا۔آنے والا اب نیم بے ہوش ہوچکا تھا۔میں نے اپنے آپ کو لاچار اور بے بس محسوس کیا۔میں نے اپنے سامان کو پرکھا۔ کھانے پینے کے لائق کچھ نہ تھا۔دل میں آس جاگی کہ کیوں نہ آدھ کھلی دوکان سے مدد لی جائے۔۔،میں دوڑتا ہوا دوکان کے دروازے پر پہنچا اور ایک بزرگ شخص کو آرام دہ کُرسی پر نیم دراز پایا۔میری اُجڑی صورت اور پھولی ہوئی سانسوں کو محسوس کر کے صاحب ِ دوکان گبھرا کر اُٹھ بیٹھے۔پھر ہماری کئی یقین دہانیوں کے بعد کہ، ہم لوٹ مار کی غرض سے نہیں آئے، وہ ذرا سنبھل گئے۔ان کے نامل ہوتے ہی ہم نے عرضِ مدعا کیا اور آنے والے کی حالت کا تذکرہ کر کے کچھ کھانے پینے کی چیزوں کا مطالبہ کیا۔مجھے اچھی طرح سے یاد نہیں کہ دوکاندار نے دو بسکٹز اور اتنے ہی جوسسز کے کتنے روپئے لئے۔بقایا رقم لوٹا تے ہوئے انھوں نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہا ، اچھے اور شریف گھر کے لگتے ہو ،۔اس طرح کے لوگوں سے بچ کے رہنا۔ رات کے اس پہر ان سے ملنا جلنا خطرناک ہوسکتا ہے۔میرا دل تو چاہ رہا تھا کہ دوکاندار صاحب کی گال ِ مبارک پر ایک دو نمکین تھپڑ رسید کر دوں، مگر ان کی عمر کا تقاضا تھا کی ان کی جاہلیت کو درگزر کیا جائے۔آنے والا میری نظر میں فی حال کوئی ڈاکو یا لوٹیرا نہ تھا ۔ میں صرف اتنا جانتا تھا کہ وہ صرف بھوکا اور پیاسا تھا۔
آنے والے نےتین منٹ کے مختصر دورانیے میں میری لائی ہوئی چیزیں کھا پی لیں ۔ اور مزید کھلانے کا مطالبہ کیا۔اس دفعہ اس میں اتنی ہمت آگئی تھی کہ آنکھیں کھول کر بات کرے۔دو تین ڈبوں کے بسکٹ مزید کھانے کے بعدآنے والے نے مجھے ایسی تشکر بھری نظروں سے دیکھا کہ میں شرمندہ ہوا۔اس کی نظر اور سوچ میں، میں ایک فرشتہ تھا۔ایک ایسا فرشتہ جو مصیبت میں لوگوں کی مصیبت کُشائی کرتا ہے۔پوچھنے پر آنے والے نے اپنا نام خدا بخش بتایا۔اس کی عمر چالیس کے لک بھگ ہوگی۔وہ ابھی تک دو زانوں تھا۔میں بھی اس کے قریب زمین پر بیٹھ گیا۔تقریباً بیس منٹ میں اس نے اپنی داستانِ غم سُنائی ۔اس کی داستان سن کر میں دنگ رہ گیا۔کہنے لگا کہ ، صاحب پہلے نوکری تھی۔ گھر کے اخراجات آسانی سے پورے ہوتے تھے۔میں ریڈیو پاکستان کے محکمے میں ملازم تھا۔پھر سیاسی بھرتی کا چھاپ لگا کر مجھے ملازمت سے بے دخل کردیا گیا۔گھر میں ہم میاں بیوی کے علاوہ ، ماں اور تین بچے بھی رہتے ہیں۔نوکری کے چھوٹ جانےکے بعد میں نے دوسری روز گارکیلئے کئی دروازے کھٹکھٹائے ۔ مگر ہر طرف سے ناکامی ملی۔میں دمے کا مریض ہوں،۔لھذا بھاری کام نہیں کرسکتا۔اورہلکی پُھلکی مزدوری کوئی دیتا نہیں۔ملازمت سے بے دخلی کو تین سال بیت چکے ہیں۔جتنی جمع پونجی تھی سب خرچ ہوچکی ہے۔پچھلے چار دنوں سے میں گھر نہیں جاسکا ہوں۔میں خالی ہاتھ گھر والوں کا سامنا نہیں کر سکتا۔میں باہر رہنے پر مجبور ہوں۔ہائے میرے گھر والوں کی کیا حالت ہوگی۔
مجھے نہیں معلوم خدا بخش کی کہانی حقیقت پر مبنی تھی یا خود ساختہ۔مگر اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ اس کی زندگی بےشمار مشکلات سے دوچار ہے۔
یہ صرف خدا بخش کی کہانی تھی۔اس کی طرح کے بے شمار لوگ آپ کو ملیں گے جو دو وقت کی روٹی کےلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔غریب لوگوں کے پاس نہ کچھ کھانے کو بچا ہے، نہ کچھ پہننے کو، یہاں تک کہ سر سے آسمان اور پیروں سے زمین بھی نکل گئی ہے۔اگر آپ کراچی میں رہ چکے ہیں یا رہ رہے تو آپ نے اکثر یہ دیکھا ہوگا کہ مختلف فلائی اوورز اور پلوں کے نیچے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد رہائش پزیر ہوتی ہے۔ان کے پاس رہے کو اپنا گھر نہیں ہوتا لھذا وہ ان عاضی پناگاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔چاہے سردی ہو یا گرمی وہ آسمان تلے اپنے صبح و شام وہیں گزارتے ہیں۔کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو کھلی سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر بھی سوتے اور رہتے نظر آئیں گے۔ایسے لوگوں کے بارے میں اکثریت کی رائے ہے کہ یہ افراد نشے کے عادی ہوتے ہیں لھذا یہ کسی ہمدردی اور اعانت کے مستحق نہیں کہلاتے۔۔کہتے ہیں نفرت جرم سے کرنی چاہئے مجرم سے نہیں۔اور نہیں معلوم کہ ان کے نشوں اور دنیا سے لا تعلقی کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما ہیں۔
بات صرف کراچی کی ہی نہیں ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بیشتر بڑے اور چھوٹے شہروں میں آپ کو ایسے بھوکے اور بے گھر افراد ملیں گے۔
ایک طرف ارباب ِ اختیار ہیں جو غریبوں سے لوٹی گئی دولت سے ایک ہی وقت میں ہزاروں روپے کا کھانا کھاتے ہیں۔گھر کے ہر فرد کے لئے الگ کھانا بنتا ہے۔یہاں تک کہ ان کے پالتو کتے بھی اچھے اچھے کھانے کھاتے ہیں اور بڑے ناز و نخروں کے عظیم الشان بنگلوں میں رہائش پزیر ہوتے ہیں۔
دوسری طرف اشرف الخلوقات کہلانے والاغریب انسان جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ایسے حالات میں معاشرے کے نچھلے طبقے میں مایوسی پھیلتی ہے۔پھر بھوکا اور مایوس انسان اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔
نتیجے کے طور پرمعاشرے میں لوٹ مار ، قتل و غارت گری ، دہشت گردی اور فراڈ جیسی بُرائیاں جنم لیتی ہیں۔میرے خیال میں مندرجہ بالا کوتاہیوں اور جرائم کے ذمہ دار صرف مجرم ہی نہیں بلکہ ہمارے حکمران ، حکومت اور معاشرہ بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔اگر بے روزگاری کے خاتمے اور غریبو ں کی مدد و اعانت کا مناسب انتظام ہو تو ایسے جرائم میں قابل قدر حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔
کوئی بھی شخص آسانی سے اس بات پر قائل نہیں ہوتاکہ اس کی زندگی جرم کی دنیا کے سُپرد ہوجائے۔مگر زندگی کی مشکلات اُسے اس راہ پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں۔مستقبل تاریک صحیح مگروقتی طور پر اس کی زندگی سہل ہوجاتی ہے۔
کچھ مہینوں پہلے میں نے اخبار میں ایک خبر پڑھی تھی کہ کراچی میں ایک ٹاگٹ کلر نے محض دو دو ہزارروپے کےعوض بہت سے لوگوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔اس وقت تو مجھے تعجب ہُوا تھا۔مگر آہستہ آہستہ یہ بات سمجھ آنے لگی ہے کہ شاید اس کی زندگی بھی خدابخش کی طرح مشکلات میں گھری ہوئی تھی۔اس کی ماں بھی اپنے بیٹے کو بے بس و لاچار دیکھ کر خود کو شرمندہ محسوس کرتی ہوگی۔اس کی بیوی چھوٹے چھوٹے بچوں کو جھوٹے دلاسے دے کر سلاتی ہوگی۔اس کے معصوم بچے رات گئے تک بابا کے انتظار میں رہے ہونگے، اس آس کے ساتھ کہ بابا آئیں گے تو کچھ کھانے کو ملے گا۔مگر ان کی آس اس وقت دم توڑ چکی ہوگی جب ان جب ان کی ننھی جانوں کو بے رحم نیند نے آلیا ہوگا۔
قارئین کرام ! میں ایک مرتبہ پھرسیاسی و انتظامی قیادت کی کوتاہیوں کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دوں گا۔اگر حکمران سچے اور مخلص ہوں تو ملک خود بخود ترقی ، خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن ہوگا۔لیکن اگر حکمران لالچی ، خود غرض اور نا اہل ہونگے تو ہر قسم کے مسئلے جنم لیتے ہیں۔
ہمارے ملک میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ حکمران قومی خزانے کو ذاتی ملکیت تصور کرتے ہیں۔اور اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔معاشرے کے استحکام کیلئے ضروری ہے کہ امارت اور غربت کے درمیان موجود خلا کو پُر کیا جائے۔
میں اپنے الفاظ کا اختتام اس خوبصورت شعر سے کرنا چاہوں گا۔

غریبِ شہر تو فاقوں سے مر گیا عارف
امیر ِشہر نے ہیرے سے خود کُشی کر لی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s