سوچ پر پہرے | تحریر: زُبیدہ یعسوب

10089.jpgاس ملک میں ایک عام لڑکی کو کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس بات کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی سمجھ سکتا ہے۔ اس کے پاس زندگی کو اپنے طریقے سے جینے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور نہ ہی مواقع ہوتے ہیں۔ایک عام سی لڑکی کو خواب دیکھنے کا، زندگی میں آگے بڑھنے کا کوئی حق نہیں۔ کسی عورت پر انگلی اٹھانا اور اس کے کردار، طور طریقوں پر تنقید کرنا بہت آسان ہوتا ہے جبکہ قوم ،معاشرے اور ملک کی عزت کو اس کے ساتھ منوکب کرنا ہم اپنا فرض اول سمجھتے ہیں۔ غربت، دہشتگردی، مضر بیماریوں اور بچوں سے مزدوری کرانے جیسے اہم مسائل پر غور فکر کرنے کی بجائے عورت کے کردار اوراس کے افعال پر نظر ثانی کرنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ وہ کیا پہنتی ہے، کیسے چلتی ہے، کس سے بات کرتی ہے، بناوسنگھار کرنا اور بلا اجازت گھر سے باہر قدم رکھنا جیسے افعال ہماری مخصوص توجہ کا مرکوز بنتے ہیں۔ پس ماندگی، غربت اور مسلسل ذلت کی زندگی سے نکل کر آگے بڑھنا چاہے تو انجام نام نہاد غیرت کے نام پر قتل یا سماجی انحراف کی صورت میں ملتا ہے۔ عزت اور غیرت، خواتین یا لڑکیوں کے ساتھ جوڑ کے ہم اس حد تک لے جاتے ہیں کہ مردوں کو اس بات کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے کہ وہ جب چاہے اپنے گھر کی خواتین کو کسی بھی وجہ سے سزا دے سکیں اور غیرت مند کہلا سکیں۔ اور جہاں ان کی محدود عقل اور معتصب بینائی کو لگے کہ ان کی عورتیں مردوں کے مقرر کردہ حدود کو پار کر رہی ہیں تو وہیں اُن کا گلہ گھونٹ کر مار دے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے گھناؤنے افعال سرانجام دینے والے مردوں کو اپنی اس درندگی پر کوئی ندامت نہیں ہوتی، نہ ہی کوئی مناسب سزا ملتی ہے تاکہ ایسے نام نہاد بہادری کے مظاہروں کی کوئی روک تھام ہو سکے۔


صاحب تحریر قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ صنفی مطالعہ جات سے فارغ التحصیل ہیں اور ایک مشہور نجی ادارے میں پروگرام ایسوسی ایٹ ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s