زوایہ نگاہ |  کریم مایور

mayur-logo

کہیں پہ میں نے پڑھا تھا کہ
“1st impression is the last impression”
“یعنی پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے”
مگر میں اس کہاوت کو نہیں مانتا اور سمجھتا ہوں کہ یہ انگریزوں کے دیگر بہت سے سفید جھوٹی باتوں کی طرح ایک جھوٹ ہے۔ زندگی کی تیس بہاریں گزار کر کم از کم ہمیں تو سمجھ آگئی ہے کہ پہلا تاثر ہی آخری تاثر نہیں ہوتا۔ اکثر میں نے دیکھا کہ پہلی نظر میں جو شخص مومن و عابد نظر آتا ہے وہ بعد میں اچھا خاصا بے ایمان اور بدمعاش نکلتا ہے۔ اس لئے تو ہمیں اس طرح کے جملے سننے کو ملے کہ کریم بھائی ہم تو انہیں بڑا شریف انسان سمجھتے تھے مگر وہ تو ایک نمبر کا بد معاش نکلا۔
اب اگر غور کریں تو قصور اس کا نہیں جو شریف نظر آتا تھا کیونکہ اس کی شرافت تو صرف وہی تک تھی قصور اس کاہے جس نے اتنی جلدی شرافت کا سرٹیفکٹ جاری کر دیا۔یہی عالم ان کا ہےجنہیں ہم پہلی نظر میں ہی بدمعاش قرار دیتے ہیں اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان کی شرافت کی تو قسمیں کھائی جاسکتی ہیں۔ کسی شاعر نے اس بات کو کیا خوب انداز میں بیان کیا ہے۔

۔۔۔
سودا جو تیرا حال ہے ایسا تو نہیں وہ
کیا جانئے تو نے اسے کس آن سے دیکھا
۔۔۔
اس سے ملتا جلتا المیہ فراق گورکھپوری کا بھی ہے۔
۔۔۔
یونہی سا تھا جس نے مجھے مٹا ڈالا
نہ کوئی نور کا پتلا نہ کوئی زہرہ جبیں
۔۔۔

دنیا میں شاہد ہی کوئی ایسی چیز ہو جو ویسی ہو جیسی ہمیں نظر آئے۔ آپ خود کسی وقت آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اہنے سراپے کا جائزہ لیجئے اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیا آپ واقعتا وہی ہیں جو آپ نظر آتے ہیں؟ کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ ہر شخص دراصل کم از کم تین شخصیات کا مجموعہ ہوتا ہے ایک وہ جو وہ خود اپنے آپ کو سمجھتا ہے دوسری وہ جو دوسرے اس کو سمجھتے ہیں اور تیسری وہ جو درحقیقت وہ ہوتا ہے۔
انسان کو جوں جوں حالات واقعات زمانے کے سرد گرم اونچ نیچ سے واسطہ پڑتا ہے توں توں اس کی شخصیت کے نئے پہلو سامنے آجاتے ہیں اور ارزل العمر تک پہنچتے پہنچتے ان کی تعداد اتنی ہو چکی ہوتی ہے کہ باقی عمر اگر ان کی گنتی بھی کرتا رہے تو گنتی ختم ہونے سے پہلے خود ختم ہوجائے۔
انسانی فطرت کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ ایک دن میں ہزار روپ دھارتی ہے اور پھر ایکٹینگ بھی اس کمال کی ہوتی ہے کہ دیکھنے والا جو روپ دیکھتا ہے یہی سمجھتا ہے کہ بس یہی روپ اس کا اصل روپ ہے۔ اور یہی چیز انسان کو جانور سے ممتاز اور منفرد کرتی ہے۔ جانور بیچارے میں یہ ہمت نہیں ہے کہ بدلتے ہوئے حالات اور لمحات کے مطابق اپنی نشست و برخواست حرکات و سکنات بول چال انداز واطوار کو یوں بدل لے کہ ابھی بالکل شیر بن کر گرج رہا ہو اور اگلے ہی لمحے بکری بن کر کسی کے سامنے ممیا رہا ہو۔ آج گدھا بنا ہوا ہو اور کل کسی دوسرے پر ڈھٹائی کے ساتھ سواری کر رہا ہو ایک وقت الو کی طرح آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا ہو اور دوسرے وقت لومڑی کی طرح گھات میں بیٹھا ہو ابھی بھیڑیا ابھی بھیر ابھی باز ابھی ممولہ ابھی بلی ابھی چوہا یہ بھیس بدلنے اور بدلتےجانے کی اہلیت صرف انسان کو ودیعت کی گئی ہے اور اس صلاحیت کو انسان بڑی مہارت کے ساتھ اپنے مفاد کے لئے بے حجاب اور بے دریغ استعمال کرتا ہےاور استعمال بھی یوں کرتا ہے کہ جیسا موقع دیکھا پایا حق کو باطل اور باطل کو حق کھرے کو کھوٹا اور کھو ٹے کو کھرا سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کر دیکھایا۔
انسانی فطرت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے ہر زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے اور بار بار دیکھا جائے آپ زاویہ نگاہ بدلتے جائیے ایک ہی انسان میں چھپے ہزاروں انسان آپ کو چلمن کے پیچھے جھانکتے ہوئے ملیں گے۔ دوست کے بارے میں معلوم ہوگا کہ اس سے بڑا دشمن کوئی نہیں بے وقوف کے بارے میں معلوم ہوگا کہ یہ تو عقل کے خزانوں پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ عالم زبان حال سے کہہ رہا ہوگا مجھے دیکھو اگر جاہل کو دیکھنا ہو تو۔ تعلیم یافتہ شخص جاہلوں والی باتیں کرے گا اور جاہل عالموں سا۔ بس آپ زوایہ نگاہ بدلتے جائیے اور تماشا دیکھئے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s