گلگت حلقہ 2 میں مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کا انکشاف

گلگت(ارسلان) مسلم لیگ ن حلقہ 2میں بڑی دارڈیں پڑ گئی،نمبر دار شکر،سابق ممبر ڈسڑکٹ کونسل ضلع گلگت فقیر محمد،ن لیگ کے رہنماء سماجی شخصیت سب ڈویژن جگلوٹ محبوب عالم،قمرالدین، ن لیگ کے رہنماء جاوید،شہزاد رعالم،شہباز سابق ممبر یونین کونسل پڑی بنگلہ فقیر محمد،میاں گل،ملک امین،چراغ الدین،شزاد عالم،شیر باز و دیگر تمام قبائلیوں کے اعلیٰ شخصیت نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔پیپلزپارٹی کیمپ آفس میں جگلوٹ سے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کے لئے منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں امن پیپلزپارٹی نے دیا ہے اس کا کریڈٹ کوئی اور نہیں لے سکتا ہے،ہم نے امن کمیٹیاں قائم کرکے گلگت بلتستان میں بھائی چارے کی بنیاد ڈالی اور جس کی وجہ سے آج گلگت بلتستان امن کا گہروابنا گیا ہے اور پیپلزپارٹی کے امن کے فارمولے کے وجہ سے آج گلگت بلتستان میں حفیظ الرحمن اور اس کی ٹیم سکون سے حکومت کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں بننے والی امن کمیٹیوں میں دعوات نہیں دی تھی کیوں کہ ان کے ہر سازش اور ذہنیت سے ہم آگاہ تھے۔حفیظ الرحمن نے جس بنیاد پر ووٹ لیا تھا اور جو طریقہ کار استعمال کرکے وزیراعلیٰ بنے تھے ہم چلنج کرتے ہیں کہ وہ اس طبقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے لئے کام کرے،ہمیں معلوم ہے کہ اس سسٹم میں آکر بڑے بڑے دعواے کرنے والوں کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 1973ء سے قبل گلگت بلتستان کے عوام انسانوں میں شمار نہیں تھے،جب بھٹو اقتدار میں آئے تو گلگت بلتستان کے لوگوں کو انسانوں میں شمار کیا اور سب سے پہلے گلگت بلتستان کا دورہ کرنے والا پاکستان کا وزیراعظم تھے، اس سے قبل کہیں وزیر اور صدورگزر ے لیکن کسی کو نوبت نہیں آئی کہ وہ گلگت بلتستان کا دورہ کرے۔انہوں نے کہا گلگت بلتستان کے 20لاکھ عوام پوا کچلا ہواطبقہ ہے اور پیپلزپارٹی ہی گلگت بلتستان کی آوزاز او ر گلگت بلتستان کو بنیادی انسانی حقوق دلوانے والی جماعت ہے اور یہ وہ جماعت ہے جس نے گلگت بلتستان کو پاکستانی تسلیم کیا ہوا ہے۔اس سے قبل بھی نواز شریف کے حکمتیں بنیں ہیں لیکن آج تک انہوں نے گلگت بلتستان کے لئے ایک پائی کا بھی کام نہیں کیا ہے اور آج کے بعد بھی ن لیگ سے گلگت بلتستان کو کچھ نہیں ملنے والا ہے۔امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم مذہب کے نمام پر سیاست کرنے اوراس کے بل بوتے پر اقتدار میں آنے والوں کے خلاف ہیں اور پیپلزپارٹی کا بنیادی منشوربھی یہ ہے کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہوجائے۔انہوں نے جگلوٹ اور پڑی سے نئے شامل ہونے والے قبلوں کے نمائندوں کو اپوزیشن کے دور میں شامل ہونے پر حق کی جیت قرار دیا اور ان کی اعتماد پر پورا اترنے کا وعدہ کیا۔سینئر نائب صدر پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان جمیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی حکومت عوام کی ووٹ سے نہیں بلکہ ایک سسٹم کے تحت مسلط کیاگیا ہے،ہمیں افسوس ہورہاہے کہ نیب ن لیگ کے ٹھیکیداروں اور ٹھیکے بیچنے والوں کو جیل میں ڈالنے کے بجائے شیلڈ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سلف گورننس آرڈر کے تحت ہماری حکومت پہلی حکومت تھی جس سے ہوسکتاہے کہ غلطیاں بھی ہو لیکن جو آج یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے لوگوں اورمن پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے جو کچھ گلگت بلتستان کو دیا ہے اس کا دوسری پارٹیاں سوچ بھی نہیں سکتی ہیں۔ن لیگ کی حکومت بنے ڈیڈ سال ہوگئے ہیں ابھی تک ایک پوسٹ بھی نہیں لایا ہے جن پوسٹوں پر بھرتیاں کی جارہی ہیں وہ ہمارے دور میں وفاق سے منظور کروائے گئے پوسٹ ہیں۔یہ جو روزانہ تختیاں لگاتے ہوئے پھر رہے ہیں یہ سارے منصوبے ہمارے دور کی ہیں ہم نے ان منصوبوں کو شروع کیا تھا اور 14میگاواٹ نلتر پاور پراجیکٹ ہمارے دور کا پراجیکٹ ہے جس کی آج یہ شور مچاتے رہے ہیں۔انہوں نے جگلوٹ سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر شامل ہونے والوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی عام لوگ نہیں ہے ان میں سے ہر ایک کے پیچھے سینکڑوں لوگ ہیں اور یہ لوگ قبائلوں کے سربراہاں ہیں۔پیپلزپارٹی میں نئے شامل ہونے والے ممبر سابق ڈسڑکٹ کونسل فقیر محمد سئی بالا،نمبر دار شکرمحمد،محبوب عالم،جاوید،محمد کثیر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ن لیگ کے وعدوں اور دعوں سے مایوس ہوکر پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے ہیں اور ہم نے بھٹو کی نظریات اور پیپلزپارٹی کی ویژن سے متاثر ہوکر پیپلزپارٹی میں آئے ہیں۔امجد حسین ایڈووکیٹ ایک بڑا سیاسی نمائندہ ہے جس کی محنت اور لگن سے آج پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے تمام طبقہ فکر کے لوگوں کی جماعت بن گئی ہے۔انہوں نے مجد حسین ایڈووکیٹ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیپلزپارٹی کو مخلص مذہبی و مسالکی خول سے باہر نکل کر اس پارٹی کو چائینگے اور ہم ان سے امید بھی کرتے ہیں کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرینگے جس سے پارٹی اور ان کی شخصیات پر برئے اثرات مرتب ہوجائے۔واضح رہے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے ان کی مدد سے گزشتہ انتخابات میں سئی جگلوٹ سے باری اکثریت جیت لیا تھا جو آج پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s