حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے گرانٹ ملنے کے باوجود،پبلک سکول اینڈ کالج جوٹیال کے طلبہ و طالبات کی فیس 10فیصد سے بھی زیادہ بڑھادیئے گئے

10041.jpgگلگت(خبرنگارخصوصی)حکومت کی جانب سے سکول کروڑوں روپے کرانٹ ملنے کے باوجود،پبلک سکول اینڈ کالج جوٹیال کے طلبہ و طالبات کی فیس 10فیصد سے بھی زیادہ بڑھادیئے گئے،حکومت کی جانب سے سکول کروڑوں روپے کرانٹ ملنے کے باوجود طلبہ و طالبات کو کوئی ریلیف نہیں دیا جارہاہے بلکہ ان سے مزید فیسوں کی مد میں بٹورا جارہاہے۔پبلک سکول اینڈ کالج جوٹیال گلگت،گلگت بلتستان کا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے جس کا ایک زامانے میں نام تھا اور اس سکول و کالج سے فارغ اتحصیل طلباء آج مختلف قومی و بین الاقوامی سطح پر سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں اہم عہدوں پرفائض ہیں،لیکن آج کل اس سکول میں پڑھائی کم اور سکول کی فیسوں کی مد میں والدین کو لوٹنے میں مصروف ہے۔سیا سی اثرورسوخ پر حد سے زیادہ ملازمین کو بھرتی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کو پورا کرنے کے لئے سکول و کالج کے طلبہ و طالبات پر بوجھ ڈلاجارہاہے اور ان کی فیسوں میں یک دم ہی 10فیصد سے زیادہ بھی بڑھا دیا گیا ہے جس پر والدین سرآپا احتجاج ہیں۔پبلک سکول اینڈ کالج جوٹیا کے اہم ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ صرف ایک واٹر ٹینکی پر 8آٹھ چوکیدار رکھے گئے ہیں اور اس طرح مختلف ڈیپارٹمنٹس میں سیاسی اثر ورسوخ پر ضرورت سے زیادہ ملازمین تعینات کئے گئے ہیں اور ان کی تنخواہوں کو پورا کرنے کے لئے طلبہ و طالبات سے فیسوں میں زیادتی کرے پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس حوالے پبلک سکول اینڈ کالج جوٹیال گلگت کے طلب علم کے والدین خالد احمد،منصور علی،محمد شاہ،فضل کریم و دیگر کا کہنا تھا کہ یک دم فیسوں میں اضافہ کرنا ہمارے ساتھ ظلم ہے،ہمارے بچوں کو اس سکول میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ سیکنڈ ٹائم ٹیوشن بھی پڑھانا پڑھتا ہے کیوں کہ ان کے کورسز مکمل نہیں کروائے جاتے ہیں اور ایک کلاس میں حد سے زیادہ طلباء کو رکھاجاتا ہے جس کی وجہ سے بچے بہت سفر ہوجاتے ہیں۔والدین کا مزید کہنا تھا کہ اس سکول کا ایک نام ہے جس کو ایک سازش کے تحت اس گلگت بلتستان کے اہم ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن،وزیر تعلیم گلگت بلتستان ابراہیم ثنائی،فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل ثاقب محمود ملک،سیکریٹری تعلیم گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر ایکشن لے اور غریب والدین کو احتجاج کرنے پر مجبور نہ کریں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s