ہنزہ میں جنگلی اور نایاب جانوروں کی غیر قانونی شکار عروج پر،نایاب جانوروں کی نسل مٹنے کا خطرہ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات خاموش

ibex-612x330.jpgگلگت(ارسلان علی)ہنزہ شناکی کے علاقوں میں جنگلی اور نایاب جانوروں مارخور،بلیک شیپس،آئی بیکس اور نائب پرندھوں کی غیر قانونی شکار عروج پر،نایاب جانوروں کی نسل مٹنے کا خطرہ،محکمہ تحفظ جنگلی حیات اور ان جانواروں کی تحفظ کے نام پر کروڑوں روپے غیر ملکی ڈونروں سے بٹورنے والی غیر سرکاری این جی اوWWF بھی خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ہنزہ شناکی کے علاقے حسین آباد،مایون،خانہ آباد اور ناصر آباد میں سردیوں کے موسم میں جنگلی جانوروں اور پرندھوں کی غیر قانونی شکار عروج پر ہوتا ہے اور مقامی و غیر مقامی شکاری ٹولیوں کے شکل میں ان جاروں کے شکار کے لئے اتشی و قدرتی ماحول کے لئے نقصادہ ہتھیار لے کر پہاڑوں اور نالوں میں کہیں کہیں ہفتوں تک ڈیرے ڈالتے ہیں اور ان جانوروں کی شکارکرنے کی کوشش کے دوران کہیں کو زخمی اور کہیں جانوروں کو مار ڈالتے ہیں اور زخمی جنگلی جانور کہیں دور جا کر مر جاتے ہیں جس سے ان نایاب جانوروں کی بقاء اور ان کے نام و نشان مٹنے کا خطرہ ہے۔ا ن جانوروں کی تحفظ کے لئے بنائی گئی محکمہ جنگلی حیات گلگت بلتستان اوران کے تحفظ کے نام پر بین الاقوامی اداروں سے بٹورنے والی غیر سرکاری این جی اووالڈ وائلڈ فنڈ بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اس حوالے سے کوئی کاروائی تو دور کی بات آوازتک نہیں اٹھایاجارہاہے۔اس حوالے سے مقامی لوگوں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ اس غیر قانونی شکار کی وجہ سے ان جنگلی و نایاب جانوروں اور پرندھوں کی بقاء اور ان کا نام و نشان مٹنے کا خطرہ ہے اور اس سے قدرتی ماحول کو بھی بڑا خطرہ ہے کیوں کہ یہ غیر قانونی شکاری ٹولیوں کی شکل میں ہفتوں ہفتوں تک ان نالوں اور پہاڑوں پر ڈیرے ڈالتے ہیں اور قدرتی ماحول کے لئے نقصاندہ اتشی اصلحہ کو استعمال کیا جاتا ہے جس سے قدرتی ماحول کے لئے بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر محکمہ تحفظ جنگلی حیات اور WWF ان جنگلی و نایاب جانوروں کو تحفظ دے تو نہ صرف قدرتی ماحول،جنگلی و نایاب جانوراور پرندھے کی بقاء ہوسکتی ہے بلکہ اس سے ٹرفی ہنٹنگ کے ذریعے علاقے کے بڑی رقم پیدا کی جاسکتی ہے اورحکومت کے لئے ایک خاطرخواہ مل سکتی ہے۔یاد رہے WWFاور قراقرم ولیج آرگنائزیشن کی تعاون سے مرکزی ہنزہ اور گوجال میں قدرتی ماحول کی تحفظ اور ان جنگلی و نایاب جانوروں کی تحفظ کے لئے بڑے پیمانے پر کام کیا جاتا ہے اور ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے سالانہ کروڈوں روپے حاصل کئے جاتے ہیں اور اس سے علاقے کی ترقی اور حکومت کوبھی فائدہ پہنچتا ہے۔اس سے نہ صرف قدرتی ماحول بچ سکتا ہے بلکہ ان نایاب جانوروں کی نام نشان مٹنے کا خطرہ بھی نہیں ہوتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s