سلف گورننس آڈر 2009کے مطابق گلگت بلتستان کے وزراء کے پاس اختیارات نہیں ہے، ان کے پاس ہاں /نہیں کے علاوہ کچھ نہیں۔ پالیمانی سیکریٹری برائے قانون

gb

گلگت(ارسلان علی)گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سپیکر حاجی فدا محمد ناشاد نے کہاہے کہ بیڈ گورننس کی مثال یہ ہے کہ صوبائی وزراء سیکریٹریز کو چلانے کے بجائے سیکریٹریز صوبائی وزراء کو چلارہے ہیں اور یہ صوبائی وزراء کی ناہلی ہے،صوبائی وزراء کو چاہئے کہ وہ عوامی مسائل حل کرنے کے لئے سیکریٹری اور بیوروکریسی سے کام لے۔ جس پر پالیمانی سیکریٹری برائے قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلف گورننس آڈر 2009کے مطابق صوبائی وزراء کے پاس بھی انتنے اختیارات نہیں ہے اور ایک دو معاملات میں صرف ہاں یا نہیں کرنے کے علاوہ اس پر کچھ نہیں لکھا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہ اس سلف گورننس آڈر میں ترمیم کرنے کے لئے سارے آرکین اسمبلی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی عمران ندیم نے اس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے دور کے پانچ سالوں میں اس گونرننس آڈر میں ترمیم کرنے کے اختیارات حاصل کرنے کی سرتوڑ کوشش کہ لیکن ہم ناکام رہے اگر یہ حکومت ایسا کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ہم ان کے ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔اور انہوں نے کہا پالیمانی سیکریٹری اسمبلی میں قرار داد یا بل پیش نہیں کر سکتا ہے اور آج سے قبل جتنے بھی قراردادیں پالیمانی سیکریٹریز نے پیش کئے ہیں وہ غیر قانونی ہیں اور آج کے بعد ایسا نہیں ہونا چاہئے جس پر سپیکر نے کہا کہ اس حوالے سے ہم نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ صوبائی وزیر قانون بنائیں۔پیر کے روز قانو ن ساز اسمبلی گلگت بلتستان کی 13واں اجلاس کا تیسرے دن کے موقع پر 4قرردادیں پیش کی گئی جس میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی راجہ جہانزیب کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کو فوری طور پر منعقدہ کروانے اورکشمیر میں بھارتی اشتعال انگیز ی کے خلاف مزمتی اورپالیمانی سیکریٹری برکت جمیل کی جانب سے معرو ف کوہ پیماء حسن سد پارہ کو خراج تحسین پیش کرنے اور سکردو آئر پورٹ کو ان کے نام سے منسوب کرنے کے حوالے سے اور رکن اسمبلی کاچو امتیاز حید کی جانب سے محکمہ آڈیٹرجنرنل کا ادارے کے ملازمین کے حوالے سے قرارداد پیش کیا گیا جن کو متفقہ طور پر پاس کیا گیا۔اجلاس میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے پیش کردہ قرار داد پربحث کے دوران گفتگو کرتے ہوئے رکن اسمبلی محمد علی شیخ اور کیپٹن (ر)سکندر نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے 2017میں منعقدہ کروانے کا تاریخ متعین کیا جائے اور مزید بلدیاتی انتخابات لیٹ نہیں ہونے چاہئے۔غلام حسین ایڈووکیٹ نے اس دوران گفتگو میں کہا کہ آمریت کے دوارن بلدیاتی انتخابات ہوتے تھے جبکہ جمہوریت کے ادوار میں بلدیاتی الیکشن نہیں ہوتے ہیں اور یہ ادارے سیاست کی نرسریاں ہوتے ہیں جہاں سے سیکھ کر ایک سیاست دان قانون ساز اسمبلی اور قومی اسمبلی تک پہنچ جاتا ہے۔نومنتخب رکن اسمبلی پرنس سلیم خان نے اس قرار داد کی بھرپور حمایت میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کی میں بھر پور حمایت کرتا ہوں اور اس سے نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل ہوجاتے ہیں جس کے لئے ان انتخابات کو جلد از جلد منعقد کروانے کی ضرورت ہے۔برکت جمیل نے کہا کہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کے تاریخ کا تعین کیا جائے۔صوبائی وزیر بلدیات فرمان علی رانا نے اس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم خود بھی کوشش کررہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات فوری طور پر ہو اور اس حوالے سے گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ نے بھی کہا ہے کہ 2017ء میں انتخابات ہونگے اور ہم نے اس حوالے سے تمام تر تیاریاں مکمل کہ ہے، میونسپل اور ضلع کونسل کی نشستوں میں اضافہ بھی کیا ہے۔سکردو آئر پورٹ کو معرو کو ہ پیماء حسن سد پارہ کے نام سے منسوب کرنے کے حوالے قرارداد پیش کرتے ہوئے پالیمانی سیکریٹری برکت جمیل نے کہا کہ حسن سد پارہ کو جس نام سے یا لقب سے نوازا جائے بہت کم ہو گا،پسماندی گان کو صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت امداد دیں۔ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا کوئی قومی ہیرو مرتا ہے تو تب ہمیں یاد آتا ہے اور ہم ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے قراردادیں پیش کرتے ہیں جبکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ زندہ ہوتے ہیں کو کسم پرسی کی حالت میں ہوتے ہیں تو ان کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرتا ہے۔صوبائی وزیر سیاحت فداخان فدا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرنے کے بعد یاد کرنے کے بجائے ہمیں ان کی زندگی میں یاد کرنے کی ضرورت ہے۔رکن اسمبلی رانی عتیقہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی مشکور ہو جنہوں نے حسن سدپارہ امداد دی اور داران بیماری وزیراعلیٰ پنجاب نے انہیں 42لاکھ روپے جس دن علاج کے لئے اعلان کیا تھا بدقسمتی سے اس رات کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔راجہ جہانزیب نے کہا کہ ابھی جو زندہ ہیروز ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔نواز خان ناجی نے کہا جب یہ ہیروز زندہ ہوتے ہیں اور بیمار ہوتے ہتے ہیں تو کسی کو بھی خیال نہیں آتا ہے اور وہ سسک سسک کے مر جاتے ہیں،ان قومی ہیروز کی عز ہونی چاہئے۔عمران ندیم نے کہا حسن سدپارہ زندگی کے دوران بھی پریشان رہے اور مرنے کے بعد پریشان چوک کو اپنے نام کرگئے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s