معاشرہ |مہرین فضل

10025.jpgنہیں یہ بْرا ہے۔۔۔۔ یار یہ تو کسی کو بھی پسند نہیں آۓ گا ، یہ والا ساروں کو آچھا لگے گا ،سبھی تعریف کریں گے ۔ ہمارے ہر جملے میں اچھے اور برے جیسے الفاظ کا ہونا جیسے لازم و ملزوم ہوگیا ہے ۔ اور ایسا لگتا ہے جیسے ان کے بغیر کلمہ ، مہمل بن جاتا ہے ۔
ہاہ۔۔۔۔! ایک لمبی سانس لیجیۓ اور سوچیۓ ۔ ہم ہر چیز کو اچھے اور برے کے ترازو میں کیوں تولتے ہیں ؟ اپنے لیے یا پھر دوسروں کے لیے ؟ یہاں تک کہ میں ابھی جو کچھ لکھ رہی ہوں اس کے بارے میں یہ نہیں سوچ رہی کہ یہ مجھے کیسا لگ رہا بلکہ یہ سوچ رہی ہوں کہ یہ لوگوں کو اچھا لگے گا یا برا ۔ قارئین ! یہاں میں نے ذکر کیا لوگوں کا ۔ ہم ہر چیز میں اچھے برے کا لحاظ اس لۓ نہیں رکھتے کہ وہ ہمیں اچھی یا بری لگتی ہے بلکہ اس لۓ کہ وہ لوگوں کو اچھی یا بری لگے گی ۔ ہم کبھی بھی اپنے آپ کو خود کی نظروں سے نہیں جھانکتے بلکہ خود کو بھی لوگوں کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ کیوںکہ ہم نے معاشرے کے ساتھ چلنا ہے ۔
مثال لیجۓ ۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسکا نام رکھا جاتا ہے ۔ اور یہ نام رکھنا ، ماونٹ ایوریسٹ کو سر کرنے کے مترادف ہے ۔ والدین کو کوئی نام پسند آیا اور وہ نام رکھ بھی لیا ۔ لوگوں کو پسند نہیں آیا تو سمجھو وہ نام نہیں رکھ سکتے ۔ کہیں گے غیر مسلم نام ہے ۔ مسلم ناموں میں کیا کمی ہے جو ہندوں اور انگریزوں کے ناموں کے پیچھے پڑے ہیں ؟ اب انہیں کوں سمجھاۓ کہ نام کا مذہب سے کیا تعلق ۔ کونسی کتاب میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے نام یہ ہونے چاہۓ ۔ یہ محض ہم جیسے انسانوں کی پیداوار ہے ۔
میں معاشرے کو برا نہیں سمجھتی لیکن معاشرے میں موجود لوگوں کو برا سمجھتی ہوں جو مل کر اس معاشرے کو جنم دیتے ہیں ۔ معاشرے کے با اثر لوگ جو کرے وہ ٹھیک ، باقی لوگوں کے ہر کام میں نقص نکالنا ضروری ہوتا ہے ۔ ہر معاشرے میں رواداری بہت اہم ہے ۔ ھر ایک کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ، معاشرے میں ترقی کی علامت ہے ۔
بہت سے لوگ معاشرے میں ایسے ہوتے ہیں جو ہر چیز میں کامپرومائز کرتے ہیں ۔ اپنے طریقے چھوڑ کے دوسروں کے طریقوں کو اپناتے ہٰیں ۔اس طرح سے وہ دوسروں کو ٖضرور خوش کرتے ہیں لیکن خود کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتے ۔ وہ کہتے ہے نا کہ ایک مطمئین زندگی ،کامیاب زندگی سے بہتر ہے ۔ سو زندگی کو اپنے طریقے سے جی کر آسان بناو ۔ اور یہ بات ذہن میں ضرور رکھیے کہ معاشرہ بنانے والے لوگ بھی ہم ہی ہیں ۔ قصور معاشرے کا نہیں بلکہ ہمارا اپنا ہے ۔

Advertisements

3 thoughts on “معاشرہ |مہرین فضل

  1. Agree with the writer somehow who has tried to through some lights on dark phases of our society, that we even care people more than ourselves, Do and act accordingly. But in some context we need to subdue because that makes easier to convince people towards actuality. People in society have different level of minds and requires different tactics based on the context to achieve our desire. To make people understand wrong and right first need to set a bench mark, for that it is necessary to gather people in one queue..

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s