گلگت بلتستان کےعوام بنیادی سہوالیات کے لئے ترس رہے ہیں گلگت بلتستان کا علاقہ قدرتی گلیشیر سے مذین ہونے کے باوجود موسم سرما میں پانی کی قلت کا بہانہ بنا کر اور موسم گرما میں پانی کا اضافہ کا عُذر تراش کر عوام کو بجلی نہیں دے رہے ہیں۔ عطاء الرحمن ایڈوکیٹ

images

غذر(محبت حسین سے)گلگت بلتستان میں محکمہ واٹر اینڈ پاور ڈویثرن اور محکمہ تعمیرات عامہ کی کارکردگی صفر ڈگری کی حد کو چھو رہی ہے ہر دو محکمہ جات کا تعلق مفاد عامہ سے ہیں ہردو محکمہ جات کی بہتر کارکردگی کیلئے نیز ان کی نا اہلی کی خاتمے کیلئے ہٹلر جیسے سخت گیر منتظم کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار عطاء الرحمن ایڈوکیٹ و ڈسٹرکٹ آرگنائزر پاکستان تحریک انصاف غذر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ یہ کہاں کا انصافد اور کہاں کی اہلیت ہے کہ گلگت بلتستان کا علاقہ قدرتی گلیشیر سے مذین ہونے کے باوجود موسم سرما میں پانی کی قلت کا بہانہ بنا کر اور موسم گرما میں پانی کا اضافہ کا عُذر تراش کر عوام کو بجلی کیلئے ترساتی ہے ستم ظریفی کی بات اور شرمندگی کا مقام یہ ہے کہ محکمہ ھذا کے انجینئر صاحبان کی اہلیت کا اندازہ اس بات سے لگائی جا سکتی ہے کہ بعض اوقات پاور ہاوسز میں نصب شدہ مشینری کی معمولی تکنیکی خرابیوں کو دور کرنے کیلئے بھی دیار غیر کے ٹیکنیشز کے آگے ہاتھ پھیلابی پڑتی ہے مذکوری محکمہ کی کارکردگی کو بہتر اور بہترین بنانے کیلئے ذمہ دار حکام کو فوری توجہ دینی چاہئے نیز بی اینڈ آر محکمے کی کارکردگی کا حال یہ ہے کہ قومی خزانے سے بنائی جانے والی اکثر ترقیاتی سکیمیں ذاتی پسندو نا پسند کے علاوہ اکثر و بیشتر سیاسی دباؤ کے تحت ایمرجنٹ نیچر کا بہانہ بنا کر ٹھیکیداروں میں بندر بانٹ کی جاتی ہے جس میں سے ایک حصہ انجینئر صاحب دوسرا حصہ منتخب عوامی نمائندہ جبکہ ماندہ حصہ میں سے ٹھیکیدار اپنے لئے بچا کر اُونے پونے طریقے سے مذکورہ ترقیاتی کام کو عوام کے آنکھوں میں دھول جھونک کر پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے قومی سرمائے سے بننے والی بہت سارے ترقیاتی سکیمیں یا تو ادھورے رہ جاتے ہیں یا ناقص حالت میں پائید تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں اور قلیل عرصے میں آثار قدیمہ کا منظر پیش کرتے ہیں نیز ترقیاتی سیکمیوں میں چیک اینڈ بیلنس کے فقدان سے بعداز تکمیل روڈ سے لیکر بلڈنگ تک کی حالت خستہ ہو جاتی ہے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں بننے والی خطیر رقوم کے لنک روڈ ز حکام کے عدم توجہی کے باعث فالتو پانی کے بہاؤ کی وجہ سے مٹی اور بجری کا ڈھیر بن جاتے ہیں اور آج تیک منتخب عوامی نمائندگان اور محکمہ کے ذمہ دار حکام اس جانب توجہ مذکوز کر کے نقصانات کے ازالہ کرنے سے گریزاں ہیں جو کہ عوام کے جذبات اور مثبت احساسات سے کھیلنے کے مترادف ہے ذمہ دار حکام اپنے فرض منصبی اور ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بجلی کی قلت کے خاتمہکے ساتھ ساتھ عوامی مفادات سے متعلقہ محکمہ جات کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب فوری توجہ مرکوز کریں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s