KIU کا داخلہ پالیسی اور مقامی طلبہ | تحریر: اعجاز شعمون

kiu-photo قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان کا واحد تعلیمی درس گاہ ہے اور گلگت بلتستان کے طلبہ کی تعلیم کا دارومدار اسی یونیورسٹی پر منحصرہے۔ قراقرم یونیورسٹی کے جانب سے گزشتہ سال سے یونیورسٹی میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کے لیے میرٹ پالیسی متعارف کیاہے اورداخلوں کو محدود کرکے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت میر ٹ کے نام پریونیورسٹی کے اندار طبقاتی نظام تعلیم کو مظبوط کرنے کی ایک منظم سازش شروغ ہوئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں میر ٹ کی بات بجاطورپر حق ہے مگرگلگت بلتستان کے طلبہ کو یونیورسٹی میں خصوصی رعایت ملنا چائے تھا کیونکہ گلگت بلتستان میں کے آئی یو کے علاوہ اعلی تعلیم کا کوئی دوسرا ادارہ نہیں ہے۔ مگریونیورسٹی انتظامیہ نے سکنڈ ڈویژن لیکر کامیاب ہونے والے طلباء کو بھی میرٹ لسٹ سے باہرکیاجوکہ گلگت بلتستان کے مقامی طلباء کے ساتھ ناانصافی ہے کیونکہ گلگت بلتستان وہ بدنصیب خطہ ہے جہاں کے بیس لاکھ سے زیادہ کی آبادی میں صرف ایک یونیورسٹی ہے۔جو کہ گلگت بلتستان کی تعلیمی طلب کو پوراکرنے کے لیے ناکافی ہے۔اس وقت صورتحال یوں ہے کہ ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی طبقاتی نظام تعلیم دن بدن مظبوط ہو تاجارہاہے۔ اور قراقرم یونیورسٹی میں مقامی طلباء کے لیے میرٹ ٹسٹ بھی طبقاتی نظام تعلیم کی ایک کڑی ہے۔ گلگت بلتستان کی گلی محلوں میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کا جال بچھاہوا ہے۔ ہرپرائیوٹ سکول کااپنا ایک الگ نصاب تعلیم ہے۔ ان پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں طلباء سے فیسوں کی وصولی کا کوئی مخصوص میگنزم موجودنہیں ہے۔ ہرسکول اپنی مرضی کے مطابق فیس وصول کرتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسکول انتظامیہ بچوں سے بھاری فیس وصول کرتے ہیں مگر ان اسکولوں میں تعلیمی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو تنخواہیں مالکان اپنی مرضی کے مطابق ادا کرتے ہیں۔جبکہ پرائیوٹ سکول مالکان ایک موٹی رقم فیسوں کی مد میں وصول کر تے ہیں اورٹیچرز کو انتہائی قلیل تنخواہیں دے کر ان کا معاشی استحصال کررہے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں فرسودہ نصاب تعلیم اور ناقص تعلیمی منصوبہ بندی اور دیگر بنیادی تعلیمی سہولیات کی کمی کے باعث بیشتروالدین انتہائی کمزور معاشی حالات کے باوجود اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی ادارں سے تعلیم دلانے پر مجبورہیں۔ اسی صورت حال میں اگر کوئی والد اپنی زندگی کی تمام تر جمع پونجی لگاکر اپنے بچے کو ایف اے، بی اے کرانے کے بعد یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتا ہے مگرقراقرم یونیورسٹی کے انتظامہ میرٹ کے نام پر ہزاروں طلباء کو دھوکے میں رکھ کے چور دروازے سے اپنے من پسند اور رشتہ داروں کو داخلہ کررہیں ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان کے دیگر یونیورسٹیوں میں مقامی طلبہ کے لیے داخلے کا بنیادی شرط ۵۴ فیصد ہے۔ جبکہ گزشتہ سال کے کے آئی یو میں ۰۵اور۵۵فیصد سے بھی زیادہ نمبرات حاصل کرنیوالے طلباء کو داخلہ نہ ملنا طبقاتی نظام تعلیم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s