آئینہ | تحریر وسیم صمد

WASEEM SAMAD.jpg

کل ایک دوست نے انکشاف کیا کہ ہندوستان کو سونے کی چڑیا سرزمین ہنزہ کی وجہ سے کہا جاتا تھا۔ ہم نے پوچھا ” کیوں وہ چڑیا بلتت میں انڈہ دیتی تھی”؟ایسا لگ رہاتھا کہ وہ لاجواب ہوجائیں گے،مگر وہ یہ ثابت کر نے پر تُل گئےکہ کسی طور بھی ریاست ہنزہ سلطنت مغلیہ سے کم نہ تھی۔ ہمیں دونوں میں چند ہی چیزیں مشترک لگتی ہیں ۔ اول یہ کہ دونوں احساس برتری کے مارے ہوئے ہیں ، دوئم یہ کہ تنقید دونوں کو پسند نہیں اور سوئم یہ کہ گلگت میں ریاست ہنزہ والوں کوکبھی کبھار مغل کہا جاتا تھا۔
باقی تاریخ یوں ہے کہ میرزا نورالدین بیگ محمد خان سلیم سلطنت مغلیہ کے چوتھے شہنشاہ تھےاورشاہ محمدسلیم خان سلطنت ہنزہ کے کچھ دن پہلےفرماروا بنے ہیں۔ مغل بادشاہ اپنا تعلق چنگیزخان سےجوڑتےتھے جبکہ ہنزہ کے میر خود کو سکندرِ اعظم کی نسل میں سے کہتے ہیں۔ گو کہ چنگیزخان اور سکندرِ اعظم دنوں کا شماردنیا کے عظیم ترین فاتحین میں ہوتا ہے، پہلا عورتوں میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا اور دوسرامردوں میں ۔ سلطنت مغلیہ آدھی سے زیادہ دنیا کو خوراک فراہم کرتی تھی جبکہ ہنزہ میں آج بھی ایک سڑک کے بند ہوجانے پر فاقے پڑجاتے ہیں۔ مغل موسیقی سنتے تھے اور ہنزہ کے بادشاہ بجاتے ہیں۔ مغل حکمرانوں کو رقص دیکھنا پسند تھا اور ہنزہ کے اُمرا کو مجرا کرنے کا شوق ہے۔ اپنے عروج پرسلطنت مغلیہ کا رقبہ بارہ لاکھ مربع میل جبکہ ہنزہ کا رقبہ اکتیس سو مربع میل سے کبھی نہیں بڑھا۔ 350سالوں کی مسلسل کوششوں کے بعد تاج برطانیہ نے 1857میں سلطنت مغلیہ کا تختہ الٹ دیا اور ہنزہ فتح کرنے میں اُن کو دو دن سے زیادہ نہ لگے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s