نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق سالانہ ایک لاکھ خواتین میں سے چھ سو خواتین دوران حمل موت کا شکار ہوجاتی ہیں اور 1000 میں سے 71 بچے اپنی پہلی سالگرہ سے قبل موت کا شکار ہوجاتے ہیں: مقرریی

 

New Born Baby Wallpapers 2.jpgسکردو(رجب علی قمر )خواتین کالج سکردو میں میں ماں کے دودھ کی افادیت کے حوالے سے ایک روزہ سمینار منعقد ہوامحکمہ صحت کے نیوٹریشن سیل اور یونیسف پاکستان کے تعاون سے منعقدہ سمینار میں ماں اور بچے کی صحت کے لیے ماں کے دودھ کو انتہائی مفید قرار دیا گیا۔ سمینار کا بنیادی مقصد ماﺅں اور بچوں کی شرح اموات کو روکنا تھا۔ گلگت بلتستان میں ایک سال سے کم عمر کی شرح اموات زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار میں سے 71 بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور پانچ سال سے کم عمر 89 بچے سالانہ موت کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک لاکھ خواتین میں سے چھ سو خواتین حمل کے دوران موت کا شکار ہوجاتی ہیں نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق گلگت بلتستان پچاس فےصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں جبکہ ۰۴ فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں ورلڈ ہےلتھ آرگنائزلیشن کے مطابق کل اموات کا ۵۴ فیصدنیوٹریشن کی کمی بیشی کی وجہ سے ہوتی ہیں بیماریوں اور شرح اموات میں کمی لانے کے لیے عوام الناس صحت کے اصولوں پر کاربند رہے اور مائیں اپنے بچوں کو مقرر معیاد یعنی دو سال تک مسلسل اپنا دودھ جاری رکھیں اور پیدائش کے فورا بعد روایتی طریقوں کو ترک کرے اور چھ ماہ تک بغیر کسی بیرونی غذا اور پانی کے دودھ پلاتے رہے تو ماں اور بچے کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے یادرہے کہ زندگی کے پہلے ہزار دنوں میں بچے کو صحت کے اصولوں کے مطابق پرورش کی جائے تو بچہ زندگی بھر بیمار نہیں ہوگا اور شرح اموات میں بھی واضع کمی ہوگی بچے کے لیے اولین چھ ماہ سے قبل گائے کا دودھ اور کوئی بھی بیرونی دودھ انتہائی نقصان دہ ہے اور اموات میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s