گلگت بلتستان اور جنگ آزادی ‘کے عنوان سے تحریری مقابلہ ہوگا اور24 سے30 اکتوبرتک اخبارات میں چھپنے والے مضامین اور کالموں میں سے 3بہترین کالموں کو انتخاب کرکے حوصلہ افزائی اور نقد انعام دیا جائیگا

writing.jpg

گلگت( پ ر) گلگت بلتستان کے کالم نگاروں کا پہلا باضابطہ اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا اجلاس میں معروف کالم نگار جمشید خان دکھی ، عبدالحفیظ شاکر ، ایمان شاہ ، محمد عیسیٰ حلیم ، اسرار الدین اسرار ، صفدر علی صفدر ، محمد طاہر رانا ، فہیم اختر ، شکور علی زاہدی ، طارق حسین استوری ، شکیل اختر رانا ، فاروق قیصر سمیت دیگر نے شرکت کی اجلاس میں کالم نگاری کی اہمیت و افادیت سمیت کالم نگاروں کو درپیش مسائل اور حل سمیت مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت پر غور خوض کیا گیا اجلاس میں گلگت بلتستان کی ترقی و خوشحالی سمیت ملکی سلامتی کے لئے کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کالم نگاروں کو متحد اور فعال بنانے کے لئے باضابطہ طور پر تنظیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا اور سینئر کالم نگار محمد عیسیٰ حلیم کو کنوینئر منتخب کیا گیا جبکہ اسرار الدین اسرار اور فہیم اختر کو ان کے معاونین منتخب کردئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معروف کالم نگار جمشید خان دکھی نے کالم نگاروں کے بیٹھک کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ معاشرے ہمیشہ تعصب کی وجہ سے زوال کا شکار ہوجاتے ہیں قلم اٹھانے والے معاشرے کے عکاس ہوتے ہیں کسی کالم نگار میں کم از کم تعصب کی کوئی گنجائش نہیں اگر کسی کے دل میں کسی بھی حوالے سے تعصب موجود ہوتو وہ کبھی بھی کالم نگار اور معاشرے کی آنکھ نہیں بن سکتا ہے قلم کاروں کا دین ان کا قلم ہے وہ قلم کے ساتھ وفا کرینگے تو اپنے دین کے ساتھ وفاکرینگے تعصب کی عینک اور پٹی معاشروں کو صدیوں پیچھے دھکیل دیتی ہے عبدالحفیظ شاکر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالم نگار معاشروں کو سدھارتے ہیں ایک اچھا کالم نگار بننے کے لئے مطالعہ اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے سینئر صحافی و کالم نگار ایمان شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید دور کی ضرورت کے ساتھ ساتھ کالم نگاروں کی زمہ داریاں بڑھ گئی ہیں مقامی اخبارات کی اشاعت کے ساتھ کالم نگاری بھی فروغ پارہی ہے گلگت بلتستان میں لوگوں میں کالم نگاری کے حوالے سے شعور بیدار ہورہا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے قلم کاروں کا کردار ہر برے وقت میں اچھا رہا ہے شکور علی زاہدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی تربیت اور اصلاح کے لئے کالم نگاروں کا کردار اہم ہوتا ہے جس کو سراہا جانا چاہئے اس موقع پر اسرار الدین اسرار نے اپنے خطاب میں کہا کالم نگاروں کے لئے مقامی سطح پر ایک پلیٹ فارم کی ضرورت بڑھ گئی ہے اس پلیٹ فارم کے زریعے نئے کالم نگاروں کو بھی اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا موقع ملے گا اس موقع پر دیگر کالم نگاروں نے بھی خطاب کرتے ہوئے پلیٹ فارم کی تشکیل کو سراہتے ہوے سینئر صحافی اور گلگت بلتستان کے کالم نگاروں کی تنظیم کے منتخب کنوینئر محمد عیسیٰ حلیم کو مبارکباد پیش کی اور اپنی بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور اس امیدکااظہار کیا کہ کنویننگ باڈی اپنے اغراض و مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی ،کنوینئر محمد عیسیٰ حلیم نے پلیٹ فارم کی ضرورت پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان کے لکھاری اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو سامنے لاکر اپنا مقابلہ ملکی سطح کے کالم نگاروں کے ساتھ کرنے کے لئے بھرپور کوشش کرینگے گلگت بلتستان میں اہل قلم کے ساتھ مختلف شکلوں میں ہمیشہ ناانصافی ہوتی رہی ہے۔کالم نگاروں کو متحد کرکے ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ضرورت بڑے عرصے سے محسوس کی جاتی رہی ہمیں ایسے لکھاریوں کی ضرورت ہے جو حکومت اور اپوزیشن سمیت عوام کی صحیح سمت میں رہنمائی کرسکیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم نومبر یوم آزادی گلگت بلتستان کے مناسبت سے ’گلگت بلتستان اور جنگ آزادی ‘کے عنوان سے تحریری مقابلہ ہوگا اور اور اخبارات میں چھپنے والے مضامین اور کالموں میں سے 3بہترین کالموں کو انتخاب کرکے حوصلہ افزائی اور نقد انعام دیا جائیگا اس مقصد کے لئے شیرباز علی خان برچہ ، جمشید خان دکھی ، عبدالحفیظ شاکر ، اور اسرار الدین اسرار پر مشتمل ججز کی کمیٹی تشکیل دی گئی اور ججز 24اکتوبر تا 30اکتوبر تک کے مضامین کو ہی مقابلے میں شامل کئے جائنگے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s