گلگت بلتستان کے عوام کو حق حکمرانی دینے کے حوالے سے کیس کی سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج ہو گی

351183-SupremeCourtphotofile-1331958943-806-640x480.jpgاسلام آباد(ابرار حسین استوری)گلگت بلتستان کے عوام کو حق حکمرانی دینے کے حوالے سے کیس کی سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج ہو گی۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کے لئے کورٹ کے فیصلے پر عملدر آمد کرنے کے لئے تمام فریقین کو سماعت کے لئے طلب کر لیا۔اس حوالے سے گلگ بلتستان نیشنل مومنٹ کے چئیر مین ڈاکٹر غلام عباس نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میری 1999میں گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے دائر کردہ درخواست پر الجہاد ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا۔اس وقت کے فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو ہدایت کی تھی کے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حق±وق اور حق حکمرانی دی جائے۔درخواست میں یہ کہا گیا تھا کہ گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں اور آزاد کشمیر کے برابر حقوق حاصل ہوں جس سے وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں ۔جبکہ آزاد کشمیر کو سپریم کورٹ کا درجہ دیا ہوا ہے مگر گلگت بلتستان کو نہیں حلانکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ایک ہی مسلے کے دو پہلو ہیں مگر آزاد کشمیر میں سپریم کورٹ کو اسلام آباد سپریم کورٹ کے برابر درجہ ملا ہے مگر گلگت بلتستان میں اپیلٹ کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو سپریم کورٹ کے برابر درجہ تو رکھتا ہے مگر سپریم کورٹ کے برابر پاور نہیں دیا گیا ہے۔ڈاکٹر عباس کا کہنا تھا کہ یہ کونسے قانون میں ہے کہ کنٹریکٹ جج لگائے جائیں جبکہ گلگت بلتستان میں کنٹریکٹ ججز تین سال کے لئے تعینات کئے جاتے ہیں جو تین سال بعد ریٹائرڈ ہو کر پنشین اور مراعات لیتے ہیں۔جبکہ جج یا چیف جسٹس نان لوکل نہیں بن سکتا مگر گلگت بلتستان میں نان لوکل ججز تعینات کرنا وہ بھی کنٹریکٹ میں یہ کونسا انصاف ہے۔اسی وجہ سے ہم نے 2011میں اس کو چیلنج کیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی گلگت بلتستان پر وہ جج تعینات ہے جس نے خود کہا تھا کہ نان لوکل جج نہیں بن سکتا اور آج وہ خود گلگت بلتستان میں چیف کورٹ کے جج تعینات ہیں۔ہم نے اس وقت بھی کہا تھا آج بھی کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا مسلہ ایک ہی طرح کا ہے تو گلگت بلتستان اپلیٹ کورٹ کے بجائے سپریم کورٹ کا نام دیا جائے ۔کشمیر میں سپریم کورٹ بننا اور گلگت بلتستان میں نہ ہوبنناحیران کن ہے اپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان میں کام تو سپریم کورٹ کے برابر ہے مگر نام اپلیٹ کورٹ یہ سراسر ناانصافی ہے یا گلگت بلتستان کی عوام کا یہ حق نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ آف پاکستان ہماری 1999اور2011کی پیٹیشن پر گلگت بلتستان کی عوام کے حق میں فیصلہ دے گی ہم پر امید ہیں کہ ہمیں انصاف ضرور ملے گا۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر اصل روح کے مطابق عمل درآمد کردیاجائے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s