گلگت تا راولپنڈی-(سفرنامہ) |کریم مایور | Reporter Times

mayur-logo

گلگت تا راولپنڈی-(سفرنامہ)

گلگت سے راولپنڈی کا طویل سفر تھا، تھکن کی وجہ سےبس کی سیٹ پر میری آنکھلگ گئی۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ نیندسولی پر بھی آتی ہے یہ تو بس کی آرام دہ سیٹ تھیاور تکیے کے طور پر ساتھ والے بھائی کا کندھا ۔۔۔۔۔ جب نیند سےبیدار ہوتا تھا تو ایک معذرت خوانہ نگاہ اُس مہربان بھائی پر ڈال کےاپنا سر اُس کے کندھے سے اُٹھاتا تھا اور جب نیند کی دیوی مجھ پر مہربان ہوتی تو پھر بے لگام سر جا کے اُس کے کندھے پر گر جاتا ۔۔۔خیر سفر اسی طرح چل رہا تھا ۔ گلگت سے صبح دس بجے ہمارا سفر شروع ہوا تھا اور رات ایک بجے تک بس مسلسل چل رہی تھی بھوک کی وجہ سے پیٹ میں چوہوں کا میچ بھی برابر جاری تھا۔۔آخر کارجب بھوک برداشت سے باہر ہوئی تو ڈرائیور کے پاس گیا اور پوچھا کہ مبادا بس میں بھوک ہڈتال تو نہیں؟ آپ کسی ہوٹل پر کیوں نہیں روکتے؟ تو ڈرائیور نے بے بسی سے کہا کہ عید کی وجہ سے ساری ہوٹلیں بند ہیں اس لئےہم بھی مجبور ہیں اب دیکھتا ہوں آگے جو بھی ہوٹل یا چائے خانہ نظر آئے وہی بس روک دونگا۔۔۔ رات کاٹی خدا خدا کرکے کے مصداق بالاخر بس ایک ہوٹل کے باہر روکی۔ جب ہم پیٹ پکڑ کر ہوٹلمیں داخل ہوئے تو ہوٹل ملازمین باہر ہی تختے لگا کر خواب وخرگوش کے مزےلے رہے تھے۔ ہم نے ان کو جاگاکر کچھ کھانے کا پوچھا تو اُنہوں نے لاچاریظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صرف قہوہ مل سکتا ہے وہ بھی بیس روپے فی پیالہ۔۔۔ بھوکےمرتے کیا نہ کرتے کے مصداق ایک ایک کپ قہوے کے ساتھ بسکٹ کھا کر دوبارہ بس میں سوار ہوگئے اور سفر جاری ہوگیا ۔ قہوہ پی کر دوبارہ ہماری آنکھ لگ گئی۔تقریبا رات تین بجے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ہمسفر نے جنجھوڑ کر یہ خوشخبری سنا دی کہ کریم بھائی اُٹھ جائیں منزل آگیا ہےآپ تو گھوڈوں کے ساتھ ساتھ گدھے بھی بیچ کر سو گئے ہیں۔ میں نے عالم نیند میں ایک آنکھ کھول کر بس کی شیشے سے باہر دیکھا تو پیربادائی کا بس اڈاہ شہر خموشاں کا منطر پیش کر رہا تھا جیسے ہی بس سےاُتر کر سامان یکجا کر رہا تھا تو ایک رکشے والے نے دھر لیا اور پوچھنےلگا کہ بھائی کہاں جاو گے؟ اب مجھے خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ جاؤں تو کہاں جاؤں؟ پہلے تو رات گئے تک نٹکو آفس کھولا ہوتا تھا مگر اب کوئی دوکان کھلی نہیں تھی نہ پنڈی میں کوئی یار دوست نہ ہی کوئی رشتے دار۔۔۔ انہی سوچوں میں گم تھا کہ رکشے والے نے دوبارہ آواز دی کہ بھائی جان کیا سوچ رہے ہیں؟ کہاں جانا ہے آپ کو؟ اپنی تسلی کے لئے میں نے رکشا والے سے پوچھا کہ یہ ساری دوکانیں کیوں بند ہیں خدا ناخوستہ کوئی ہڑتال وغیرہ تو نہیں ؟ تو اُس نے جواب دیا کہ بھائی عید کا دوسرا دن ہے اورسب اپنے پیاروں کے ساتھ عیدمنانے گئے ہیں آپ بتائیں کہ آپ کو رشکا (رکشا) چاہئے کہ نہیں، میں نےصافگوئی سے کام لیتے ہوئے اُس سے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اتنی رات کو
کہاں جاؤں؟ میں نے تو سوچا تھا کہ یہاں اُترتے ہی کراچی کی بس میں بیٹھ جاونگا مگر یہاں تو حالات ہی کچھ اور ہیں ۔۔کوئی دوست رشتے دار بھی نہیں اب صرف کسی ہوٹل میں بندوبست ہوجائے تو اچھا ہے، میری بات سن کے رکشا والےنے کہا کہ میں آپ کو گلگت ہوٹل لے کر جاوں؟ گلگت کا نام سن کے میرے اندر وطن پرستی جوش مارنے لگی اور کسی بچے کی طرح اثبات میں سر ہلانے لگا تو رکشا والے نے دیر کئے بغیر سامان رکشے رکھ لیے اور ہوٹل کی طرف سفرشروع ہوگیا۔۔۔
پنڈی بس اڈے سے تھوڑے ہی دور چلے تھے کہ دو پولیس والوں نے رکشہ روک لیا اور میرے اُوپر ایک ”ماہرانہ نگاہ“ ڈال کر پوچھنے لگے کہ اتنی رات کو کہاں جا رہے ہو اور ان بیگوں میں کیا ہے؟ کہیں سے ڈاکہ مار کے تو نہیں آئے؟ میں نے جواب دیا کہ صاحب گلگت سے آیاہوں اور ہوٹل کی طرف جا رہا ہوں ؟ ان بیگوں میں گلگت اور ہنزہ کے مشہور سیب ہیں جو کراچی میں موجود اپنےپیاروں کے لئے بطور تحفہ لے کر جا رہا ہوں۔۔۔۔ بھائی ہم بھی توآپ کےخدمت گار ہیں اس لحاظ سے ایک رشتہ تو بن گیا ناں۔۔ تو یقینا آپ ہمارے لئے بھی تحفہ لے کر ہی آئے ہونگے۔ ان میں سے ایک پولیس والے نے مزاحیہ انداز میں مجھ سےپوچھا تو میں نے جواب بھی اُسی طرح کا دیتے ہوئے کہا کہ جی ہاں کیوں نہیں آپ کے لئے تو وہ سیب لایا ہوں جس کے بارے میں کسی ڈاکڑ دشمن دانش وار نےکہا تھا کہ ایک سیب کھاو اور ڈاکٹر کو بھول جاؤ آپ نے یہ بات تو سنی ہوگی؟
میری بات سن کر پہلے تو لال پیلے ہوا پھر غصے میں کہنے لگا کہ جس راستےسے تم آرہے ہو اس راستے پر اکثرلوڈ ٹ مار کرنے والے آتے ہیں اپنا شناختی کارڈدیکھاؤ۔ اور ہمارا تحفہ دے کر چلتے بنو ۔۔۔۔
سفر کی تھکن دور کرنے کی غرض سے رات کو پنڈی بس اڈے سے ہوٹل تک کا سفرکچھ مہنگا پڑ گیا۔ مبلغ دو سو روپے اور ڈاکٹر بھگاو سیب کا ایک پورا کاٹن ان دو پولیس والوں نے بطور تحفہ رکھ لیا۔۔
بعد میں سوچنے پر مجھے پتہ چلا کہ غلطی تو سراسر میری اپنی تھی کس نے کہاتھا کہ میں گلگت سے اُس بس میں سفر کروں جو رات تین بجے پنڈی پہنچتی ہے۔(یہ الگ بات ہے کہ تمام گاڑیاں گلگت سے ایک ساتھ ہی نکلتی ہیں) دوسری بات یہ کہ ہوٹل جانے کے لئے میں نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا جہاں سے بقولپولیس کےلوٹ مار کرنے والے گزرتے ہیں۔ (یہ الگ بات کہ مجھے راستوں کا علمنہ تھا) اب بھلا ان پولیس والوں کی کیاغلطی وہ تو اپنے حُسن سلوک سےتعریفی اسناد کا مستحق ٹھہرے جنہوں نے ایک چھوٹے سے تحفے کے عوض مجھے
راہ راست پر ڈالا۔
گلگت سے جتنی بھی گاڑیاں پنڈی کے لئے چلتی ہے وہ رات کے آخری پہر پنڈ یپہنچ جاتی ہیں اب ان کمپنوں کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ گلگت اورگردنواح سے آنے والے مسافرکہاں جاتے ہیں اور کہاں کہاں پولیس ان سے تحفےوصول کرتی ہے۔۔۔

Advertisements

2 thoughts on “گلگت تا راولپنڈی-(سفرنامہ) |کریم مایور | Reporter Times

  1. Bhai ap sy tou surf saib ly k chour b dia ha hum sy salajeet b lia maa ko bawaseer ha kh k fir jb un ko dia tou drugs hn kh k thanay tk lay k gayan… galti hamari nai pakistan k hukmaranu ar punjab police k in bagyratu ki hn jo tahafux k bajay bnday ko blackmail krty hn..

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s