بَددعا | کریم مایور | Reporter Times

bad-duaپروا وہ پھر اِک نئے جوش سے بارش کے گدلے پانی کی چھینٹے اڑاتا چلا جارہا تھا۔ وہ اِس بات سے بے خبر تھا کہ ایک نوجوان نو بیاہتا جوڑا بھی بارِش کے پانی سے بَچتا بچاتا اسکے پیچھے چَلا آ رھا ہے۔ یکایک اس ملنگ نے بارش کے گَدلے پانی میں اِس زور سے لات رَسید کی کہ پانی اڑتا ہوا سیدھا پیچھے آنے والی نوجوان عورت کے کَپڑوں کو بِھگو گیا اس نازنین کا قیمتی لِباس کیچڑ سے لَت پَت ہوگیا۔ اسکے ساتھ موجود نوجوان سے یہ بات برداشت نہیں ہوئی۔
لِہذا وہ آستین چَڑھا کر آگے بَڑھا اور اس ملنگ کو گریبان سے پَکڑ کرکہنے لگا اندھا ہے کیا ؟ تجھے نظر نہیں آتا تیری حَرکت کی وجہ سے میری مِحبوبہ کے کَپڑے گیلے ہوچکے ہیں اور کیچڑ سے خراب ہو چکے ہیں۔ ملنگ ہکا بَکا سا کھڑا تھا جبکہ اس نوجوان کو مَجذوب کا خاموش رِہنا گِراں گزررہا تھا۔ عورت نے آگے بڑھ کر نوجوان کے ہاتھوں سے ملنگ کو چھڑوانا بھی چاہا لیکن نوجوان کی آنکھوں سے نِکلتی نفرت کی چنگاری دیکھ کر وہ بھی دوبارہ پیچھے کھسکنے پر مجبور ہو گئی۔
راہ چلتے راہ گیر بھی بے حِسی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے لیکن نوجوان کے غصے کو دیکھ کر کِسی کو ہِمت نہیں ہوئی کہ اسے روکنے کی کوشش کرتے۔ بلاآخرطاقت کے نشے سے چور اس نوجوان نے ایک زور دار تھپڑ ملنگ کے چہرے پر رسید کیا، بوڑھا ملنگ تھپڑ کا تاب نہ لاسکا اور لڑکھڑاتا ہوا کیچڑ میں جا گرا۔ نوجوان نے جب ملنگ کو نیچے گِرتا دیکھا تو مسکراتے ہوئے وہاں سے چَل دیا۔ بوڑھے ملنگ نے آسمان کی جانب نِگاہ اتھائی اور اس کے لَب سے نِکلاواہ میرے مالک کبھی گَرما گَرم دودھ جلیبیوں کیساتھ اور کبھی گَرما گَرم تھپڑ، مگر جِس میں تو راضی مجھے بھی وہی پسند ہے، یہ کہتا ہوا وہ ایک بار پھر اپنے راستے پر چَل دِیا۔ دوسری جانب وہ نوجوان جوڑا جوانی کی مَستی سے سرشار اپنی منزل کی طرف گامزن تھا کہ تھوڑی ہی دور چَلنے کے بعد وہ ایک مکان کے سامنے پہنچ کر رک گئے۔ وہ نوجوان اپنی جیب سے چابیاں نِکال کر اپنی محبوبہ سے ہنسی مذاق کرتے ہوئے بالا خَانے کی سیڑھیاں طے کر رہاتھا۔
بارش کے سبب سیڑھیوں پر پھلسن ہو گئی تھی اچانک اس نوجوان کا پاؤں رَپٹ گیا اور وہ سیڑھیوں سے نیچے گِرنے لَگا۔ عورت زور زور سے شور مچا کرلوگوں کو اپنے مِحبوب کی جانب متوجہ کرنے لگی جسکی وجہ سے کافی لوگ فوراً مدد کے واسطے نوجوان کی جانب لَپکے لیکن دیر ہو چکی تھی نوجوان کا سَر پھٹ چکا تھا اور بہت ذیادہ خون بِہہ جانے کی وجہ سے اس کڑیل نوجوان کی موت واقع ہوگئی کچھ لوگوں نے دور سے آتے ملنگ کو دِیکھا تو آپسمیں چہ میگویئاں ہونے لگیں کہ ضرور اِس ملنگ نے تھپڑ کھا کر نوجوان کیلئے بَددعا دی ہے ورنہ ایسے کڑیل نوجوان کا صرف سیڑھیوں سے گِر کرمرجانا بڑے اَچھنبے کی بات لگتی ہے۔ چند منچلے نوجوانوں نے یہ بات سن کرملنگ کو گھیر لیا ایک نوجوان کہنے لگا کہ آپ کیسے اللہ والے ہیں جو صِرف ایک تھپڑ کی وجہ سے نوجوان کیلئے بَددعا کر بیٹھے یہ اللہ والوں کی روِش ہَر گز نہیں کہ ذرا سی تکیلف پر بھی صبر نہ کر سکیں۔ وہ ملنگ کہنے لگا
خدا کی قسم میں نے اِس نوجوان کو ہرگِز بَددعا نہیں دی ! اسی دوران مجموعے میں سے کوئی پکاراٹھا اگر آپ نے بَددعا نہیں کی تو ایسا کڑیل نوجوان سیڑھیوں سے گِر کر کیسے ہلاک ہو گیا  تب اس ملنگ نے حاضرین سے ایک انوکھا سوال کیا کہ کوئی اِس تمام واقعہ کا عینی گَواہ موجود ہے؟ ایک نوجوان نے آگے بَڑھ کر کہا ، ہاں میں اِس تمام واقعہ کا عینی شاہد ہوںملنگ نے اَگلا سوال کیا ،میرے قدموں سے جو کیچڑ کی چھینٹوں نے نوجوان کے کپڑوں کو داغدار کیا تھا ؟ وہی نوجوان بولا نہیں ،، لیکن عورت کے کَپڑے ضرور خَراب ہوئے تھے۔ ملنگ نے نوجوان کے بازو کو تھامتے ہوئے پوچھا، پھر اِس نوجوان نے مجھے کیوں مارا ؟ نوجوان کہنے لگا، کیوں کہ وہ نوجوان اِس عورت کا محبوب تھا اور اس سے یہ برداشت نہیں ہوا کہ کوئی اسکے مِحبوب کے کپڑوں کو گَندہ کرے اسلئے اپنے محبوب کی جانب سے اس نوجوان نے آپکو مارا۔
نوجوان کی بات سن کر ملنگ نے ایک نعر مستانہ بلند کیا اور یہ کہتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا پس خدا کی قسم میں نے بَددعا ہرگز نہیں دی تھی لیکن کوئی ہے جو مجھ سے محبت کرتا ہے اور وہ اِتنا طاقتور ہے کہدنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اسکے جبروت سے گھبراتا ھے۔ یہ محض ایک کہانی نہیں تھی اس کہانی میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں پوشیدہ ہیں۔ زرا اپنا احتساب کیجئے کہ صبح آنکھ کھولنے سے لے کر بند ہونے تک کتنے لوگوں کو خوشی دیتے ہیں اور کتنے لوگوں کو اپنے قول و فعل سے تکلیف پہنچاتے ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی احتساب کرنے والا نہیں۔۔۔؟ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے اگر ہم آگ میں کود جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آگ ہمیں بخش دے؟ اگر ہم پانی میں کھود جائیں تو کیسے ممکن ہے کہ بدن گیلا نہ ہو؟؟ اس طرح ہمارے کرموں کا حساب بھی ایک دن ہونا ہے چاہے اس دنیا میں یا آخرت میں۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s