Reporter Times ہمیں بولنے کی ضرورت نہیں؟ | کریم مایور

Karim Mayor.jpgکچھ دن قبل گلگت سے ہنزہ واپسی کے سفر پہ دو بچے ویگن کی پچھلی سیٹ پر میرے ہمسفر تھے جن کی عمریں غالبا بارہ سے پندرہ برس کے درمیان ہونگی، اُن کے چہروں سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ کچھ پریشان تھے اور لباس بھی سفر کے لحاظ سے مناسب نہیں تھا۔ عموماً بچے جب سفر پر ہوتے ہیں تو اُن کی خوشی دیدنی ہوتی ہے اورسفر کے لحاظ سے ان کا لباس بھی صاف ستھرا ہوتا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ جب بھی گاڑی کہیں رکتی تھی تو وہ سہمی ہو ئی نگاہوں سے باہر دیکھے لگتے اور جب گاڑی چل پڑتی تو لگتا کہ سکون کا سانس لیتے جو اُن کے چہروں پر واضع ہو جاتا۔ مجھے یہ اندازہ لگانے یہادیر نہ لگی کہ یہ دونوں بچے گھر سے بھاگ کر کہیں جا رہے ہیں۔ کافی دیر تک میں ان کے چہرے کے تاثرات پڑھتا رہا پھر مجھ سے رہا نہ گےا تو میں نے ایک بچے سے پوچھ ہی لیا کہ بیٹا کہاں سے آرہے ہو اور کہاں تک میرے ہمسفر ہو؟ پہلے تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جیسے وہ دل ہی دل میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں کہ کیا جواب دیا جائے؟پھر اُن میں سے ایک بچے نے جواب دیا کہ انکل ہم گھر جا رہے ہیں ، میں ان سے پوچھنا چاہتا تھا کہ گھر کہاں ہے مگر ان کو اور مشکل میں ڈالنے سے بہتر ہی لگا کہ خاموش رہوں۔

پھر کچھ یوں ہوا کہ میرا شک یقین میں بدل گیا راستے میں گاڑی ایک جھٹکے سے رکی اور ایک موٹر سائےکل سوار جس نے گاڑی رکوائی تھی وہ کوچ میں داخل ہوا اور تمام مسافروں کو ایسے دیکھنے لگا جیسے کوئی خطرناک دشت گرد گاڑی میں چھپ کر بھاگ رہا ہو،پھر جیسے ہی اُس کی نظر بچوں پر پڑی تو اُس نے ایک موٹی سی گالی زبان سے برآمد ہوئی اور بچوں کو گاڑی سے اُترنے کا اشارہ کیا۔ بچے سہم کر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اُن کی حالات دیکھ کر یہ گمان گزرا کہ جیسے میدان جنگ سے ایک سپاہی جنگ ہار کر گھر آگیا ہو۔ اتنے میں ڈرائےوار نے حکم دیا کہ بچو! اُتر جاو ہمیں آگے سفر جاری رکھنا ہے۔ بچے اُترنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور میری طرف ایسے دیکھنے لگے جیسے مدد طلب کر رہے ہوں ۔ مجھ سے رہا نہ گےا تو میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر واپس سیٹ پر بٹھادیا اور موٹر سائےکل سوار سے میں نے پوچھا کہ بھا ئی آپ کون ہیں اور ان بچوں کو گاڑی سے اُتار کر کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ جبکہ یہ بچے آپ کے سا تھ جانے پر رضا مند نظر نہیں ہیں؟ میرے سوال پر پہلے تو اُس نے خونخوار نظروں سے میری طرف غور سے دیکھااور کہنے لگا کہ یہ میرے چچا کے بیٹے ہیں اور ہوٹل میں میرے ساتھ کام کرتے ہیں، وہاں سے بھاگ کر آئے ہیں۔ یہ ہمارے آپس کا مسئلہ ہے آپ کو بولنے کی ضرورت نہیں۔بچے اُتر گئے گاڑی چل پڑی اور سفر دوبارہ وہی سے شروع ہوا جہاں پر رکا تھا مگرمیرے ذہن میں ایک سوال گردش کرنے لگا کہ کیا واقعی مجھے بولنے کی ضرورت نہیں؟

آپ لوگوں نے گلگت بلتستان میں چھوٹے بچوں کو ہوٹلوں ، ورکشاپوں اور دوسری جگہوں پر کام کرتے دیکھا ہوگا۔ میں جانتا ہوں کہ پورے ملک مےں چائلڈ لیبر کے قوانین کی دھجیاں اُٹھائی جا رتی ہیں مگر میں صرف گلگت بلتستان کی بات کرونگا کےونکہ اصلاح کا کام ہمیشہ اپنے گھر سے شروع کرناچاہئے۔ ہوٹلوں اور دوسری جگہوں پر کام کرنے والے بچوں سے سارا دن ایسے کام لیا جاتا ہے جیسے وہ انسان نہیں کوئی مشین ہوں اور وہ بھی ایسی مشین جو احتجاج بھی نہیں کرسکتی، سارا دن ہوٹلوں اور ورکشاپوں میں کام کروانے کے علاوہ جو وقت بچاتا ہے اُس میں اپنے استاد یعنی جو اُن کو ہنر سکھاتے ہیں اُن کے کپڑے دھونے ، استری کرنے اور صفائی ستھرائی کے کام میں صرف ہوتا ہے۔

یہاں میں قارئین سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں اور یہ سوال حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے بھی رکھتا ہوں کہ کیایہ بچے بڑے ہو کر ایک ذمہ دار شہری بن سکتے ہیں؟کھیلنے کودنے اور پڑھنے کے دنوں میں ان کے نازک کاندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے کہ یا تو وہ نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں یا غلط ماحول میں پرورش پا کر معاشرے سے انتقام لینے کے لئے وہی سب کرتے ہیں جو اُن پر بیت چکا ہوتا ہے اور وہ دوسروں خصوصاً اپنی عمر سے چھوٹے بچوں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھتے ہیں جو معاشرے اور ان کے ”استادوں“ نے ان کے ساتھ کیا ۔

میں یہ جانتا ہوں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بچوں کو ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ اُن کو اخلاقیات کا درس بھی دیتے ہیں تاکہ بڑے ہو کر وہ بچے اپنے ہنر سے ملک اور معاشرے کی خدمت کر سکیں مگر ا؎یسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس ملک میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظمیں بھی کافی ہیں مگر شہر کے پوش علاقے میں محض ایک دفتر بنا کر بےٹھ جانے سے انسانی حققوق کی پامالی ختم تو نہیں ہو جاتی ، اس کے لئے ان تنظیموں کو ان جگہوں پر جانا ہو گا جہاں پر کمسن بچوں سے کام کروا کر لوگ اپنی تجوریاں بھر تے ہیں۔کچھ عرصہ قبل میری اس بات پر کہ بنیادی تعلیم ہر بچے کا حق ہے پر ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ کریم بھائی اگر سب لوگ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے لگے تو ، دھوبی ، نائی، اور باورچی کون بنے گا؟ معاشرے کو چلانے کے لئے ان کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے نہایت تفصیل سے اُسے بتایا تھا کہ بنیادی تعلیم کس کو کہتے ہیں ایک بچے کو کم از کم میڑک تک اس لئے بھی پڑھنا ضروری ہو گیا ہے کہ مستقبل میں ہر وہ مشین جس پر ابھی انسان ہاتھ سے کام کرتا ہے وہ ان مشیوں کو چلانے کے لئے بھی تعلیم کی ضرورت ہوگی ۔ کیا صرف بچے پیدا کر کے کسی جگہ کام پر لگا نے سے ہماری ذمہ داری پوری ہوتی ہیں؟ کیا کبھی ہم نے پوچھا ہے اُس بچے سے کہ جس جگہ وہ کام کرتا ہے وہاں اُس کے ساتھ کو ئی زیاتی تو نہیں ہو رہی؟

ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں، ان کو بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کا درس دینا بھی والدین کا فرض ہے۔ جہاں پر بچوں سے زیادہ مشقت لی جاتی ہے اور بنیادی حقوق کی پامالی ہوتی ہے اُس پر ہم سب کو آواز اُٹھانی ہوگی۔ حکومتی اداروں اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کاکام اپنی جگہ مگر ہم سب پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یا اس کا ایک آسان حل یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی ایسے بچے کو دیکھیں جس سے اُس کی استقامت سے زیادہ کام لیا جا رہا ہو تو اپنی آنکھوں کو ایک لمحے کے لئے بند کر کے یہ سوچ لیجئے کہ مجھے بولنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

2 thoughts on “Reporter Times ہمیں بولنے کی ضرورت نہیں؟ | کریم مایور

  1. Dear Karim, thanks for sharing this incident. Child labour needs to addressed at all levels in the society but we should be very particularly about this issue in GB. We may not be eliminate this issue totally but at least our society should have the awareness of children labour and its long term impacts on the society.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s