گلگت بلتستان کو 1988 کی مردم شماری کے تحت گندم کا کوٹہ ملتا ہے۔ آبادی بڑھ گئی ہے کوٹہ بھی بڑھایا جائے: محمد اقبال دلبر

اسکردو ( رجب علی قمر) سابق ڈسرکٹ کونسلر روندو محمد اقبال دلبر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو 1998 کے مردم شماری کے تحت گندم کوٹہ مل رہا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں گندم کی بحران شدت اختیار کرگیا ہے 1998 سے اب تک گلگت بلتستان کی آبادی میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے لیکن آبادی میں اضافے کے ساتھ گندم کوٹہ بڑھانے کے بجائے کم کررہے ہیں۔ پچھلے تین سالوں میں فی گندم بوری سے آٹھ کلو کم کیا گیا جس کی وجہ سے علاقے میں گندم کی شدید قلت اور بحران جنم لے رہا ہے اُنہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے کئے سبسڈی کم کرنے میں سابق اور موجودہ دونوں حکومت ملوث ہیں جس انداز میں گندم سبسڈی میں کمی کی جارہی ہے لگتا ہے کہ آئندہ دو سالوں میں سبسڈی مکمل ختم ہوگا اور بحران کی نئی کیفیت سامنے آئے گی گلگت اور بلتستان ریجن میں آبادی کا تناسب بہت بڑ ھ گیا ہے لوگ گندم کے دانے دانے کو ترس رہے ہیں حکومت گندم کوٹہ بڑھانے کے بجائے کمی کرنے میں مصروف ہیں ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s