اسکردو میں AKRSP کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں تین روزہ جیمز سٹون کا میلہ

1410447320_hz_11092014202520.png

سکردو (رجب علی قمر ) اے کے آر ایس پی کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں تین روزہ جیمز سٹون کا میلہ جاری ہے میلے کی افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر سکردو ندیم ناصر ،ایس ایس پی سکردو گلفام ناصر اورصدر پریس کلب سکردو محمد حسین آزاد و دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی ۔ اس موقع پر جیمز اینڈ منرلز کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے مختلف قسم کے قیمتی پتھروں کے سٹال لگائے گئے تھے۔ مہمانوں نے سٹال کا دورہ کیا افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سکردو ندیم ناصر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں پائے جانے والے قیمتی پتھر وں کو عالمی منڈی میں خاص اہمیت حاصل ہے جس انواع و اقسام کے پتھر یہاں کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں وہ دنیا میں کہیں بھی نہیں نکلتی۔ اس شعبے کی بہتری کے لئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیمز سٹون سے وابستہ افراد کو ہنر مند بنا کر بہت ہی زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے اس موقع پر ایس ایس پی سکردو گلفام ناصر نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی پتھروں کے حوالے سے گلگت بلتستان کو عالمی سطح منفرد مقام حاصل ہے گلگت بلتستان کا مستقبل منرلز اور سیاحت ہے یہاں کے لوگوں کی کثیر تعدا د اس شعبے سے منسلک ہے جو کہ علاقے کی ایک پہنچان بھی ہے شگر اور روندو کے پہاڑوں میں موجود قیمتی پتھروں کا کوئی ثانی نہیں ہے اُنہوں نے کہا کہ ہم صرف پتھروں کو بطور انگوٹھی پہننے کی حد تک استعمال کرتے ہیں لیکن اس کی مارکیٹنگ اور عالمی منڈی میں اہمیت کو نہیں جانتے ہیں یہاں کے قیمتی پتھروں کو پہلی بار براہ راست دیکھنے کا موقع ملا ہے اس انڈسڑی کو وسعت دے کر لوگوں کو مزید باروزگار بنایا جاسکتا ہے محکمہ پولیس اس سلسلے میں جیمز اینڈ منرلز کے ساتھ کسی بھی حوالے سے مکمل تعاون کے لئے تیا ر ہے اس موقع پر صدر پریس کلب سکردو محمد حسین آذاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں منرلز کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل شعبہ ہے بدقسمتی سے حکومتی سطح پر اس شعبے کو وسعت دینے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس اہم شعبے سے منسلک افراد بے روزگاری کا شکار ہورہے ہیں یہاں کے قیمتی پتھروں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے لئے مقامی مائنینگ سے وابستہ لوگوں کے پاس کوئی بھی جدید آلات موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے بہت سارے قیمتی پتھر دوران کام ضائع ہوجاتے ہیں اور کڑوڑوں روپے کا نقصان بھی اُٹھانا پڑتا ہے جس کے لئے حکومتی سطح پر مائننگ سے وابستہ افراد کی خصوصی تربیت کا کوئی انتظام موجود ہ نہیں ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s