قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات وکمیونیکیشن کا کالاش ویلی بمبوریت کا دورہ

چترال ( بشیر حسین آزاد ) قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات وکمیونیکیشن نے کہا ہے ۔ کہ لواری ٹنل چترال کا ملک سے رابطے کیلئے انتہائی اہم منصوبہ ہے ۔ کیونکہ چترال کی چھ لاکھ کی آبادی کا انحصار اس پر ہے ۔ اس لئے اس میگا پراجیکٹ کو مزید وقت ضائع کئے بغیر پایا تکمیل تک پہنچانا علاقے کے لوگوں اور خود حکومت کے مفاد میں ہے ۔ اور ہم اس منصوبے کی تکمیل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے سلسلے میں وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار کمیٹی کے ممبران ایم این اے پشاور انجینئر حمیدالحق اور عثمان خان ترکئی ایم این اے صوابی نے کالاش ویلی کے دورے کے موقع پر میڈیاسے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ کمیٹی کے دیگر ممبران میں ایم این اے سوات سلیم الرحمن ، رمیش کمار ،نذیر احمد بوگیو لاڑکانہ ،خالد جاوید وڑائچ ، نسیمہ حفیظ ،ڈاکٹر درشن سندھ اور شاہجہان منیر وغیرہ شامل تھے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں سڑکوں کی حالت بہت خراب ہے ۔خصوصا گذشتہ سال کے سیلاب اور زلزلے نے آمدورفت کی راہ میں بہت مشکلات پیدا کردی ہیں ۔ اس لئے چترال کا یہ حق بنتا ہے ۔ کہ وفاقی حکومت دوسرے اضلاع کی طرح چترال کے ساتھ سلوک کرے ۔ اور اس کی سڑکوں کو دوسرے اضلاع کے برابر لانے کیلئے فنڈ فراہم کرے ، انہوں نے کہا ۔ کہ اس حوالے سے اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذمہ دار کی حیثیت سے وہ مرکزی حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اور ہمیں مکمل اُمید ہے کہ وفاقی حکومت اُن کے سفارشات پر عمل کرے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ بات خوش آیند ہے ۔ کہ کمیٹی کے علاوہ این ایچ اے کے ذمہ دار بھی چترال میں موجود ہیں ۔ اور تمام نے اس علاقے کے کمیونیکیشن کے مسائل سے پوری طرح آگاہی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اسٹینڈنگ کمیٹی ایم این اے چترال افتخارالدین کی بار بار درخواستوں کے نتیجے میں چترال آئی ہے ۔ اور اس کے انشاللہ چترال کیلئے انتہائی مفید نتائج نکلیں گے ۔ عثمان ترکئی نے کہا ۔ کہ چترال کے مسائل کے لئے ہر فلور پر آواز اُٹھائیں گے ۔ کیونکہ چترال کے لوگوں کی مجبوری ، شرافت اور محبت نے ہمیں ایسا قدم اٹھانے پر مجبور کردیا ہے ۔ انہوں نے کہ پاکستان کے قیام میں چترال کے لوگوں کا بڑا ہاتھ ہے ۔ اور یہاں کے لوگ ملک کے آخری نے میں ہونے کے باوجود سب سے بڑھ کر محب وطن ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمیں چترال کی مقامی مسلم اور کالاش کمیونٹی سے مل کر بہت خوشی ہوئی ۔ کہ دونوں کمیونٹیز کے لوگ باہمی اخوت کی لازوال مثال پیش کر رہے ہیں ۔ اگر کسی کو انسانیت مشاہدہ کرنا ہو ۔ تو وہ چترال کی وادیوں میں آکر دیکھیں۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وہ واپسی کے بعد 29اگست کو اسلام آباد میں ایک اور میٹنگ منعقد کریں گے ۔ اور تمام سفارشات مرتب کرکے وفاقی حکومت کو پیش کریں گے ۔ انہوں کہا ۔کہ کالاش ویلی روڈ اور گرم چشمہ روڈ کی تعمیر ہوگی ۔جس کے بعد مقامی لوگوں کو بہت سہولت ملے گی ، چترال پر بہت مشکل وقت آیا ہے ۔ اور ہم نے پوری تفصیل کے ساتھ اس کے مسائل کی جانچ کی ہے ۔ چترال میں بہت کچھ ہے ۔ اور پوری دُنیا چترال کو دیکھنا چاہتی ہے ۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے ۔ کہ اس کی سڑکیں خراب ہیں ۔ اور لوگ خواہش رکھنے کے باوجود خراب سڑکوں کی وجہ سے یہاں آنے سے ہچکچاتے ہیں ۔ تاہم لواری ک ٹنل ی تعمیر کے بعد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ حکومت نے تقریبا آٹھ ارب روپے اس کیلئے مختص کر دیے ہیں ۔انہوں نے کہا ۔ کہ ہم اپنے صوبائی حکومت کو بھی بتائیں گے ۔ کہ چترال میں تباہ شدہ نہروں سڑکوں ، آبنوشی سکیموں کی وجہ سے لوگوں کن مصائب کا سامنا ہے ۔ اور حکومت اپنی بساط کے مطابق فنڈ فراہم کرے ۔ ایم این شہزادہ افتخارالدین نے اس موقع پر اسٹینڈنگ کمیٹی کے تمام ممبران کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ انہوں نے وزٹ کی اور عوام کی مشکلات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کا لاش ویلی میں ایسی سڑک کی ضرورت ہے ۔ جو تینوں وادیوں کو ٹچ کرے ۔ تاکہ مستقبل میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکے ۔ انہوں نے ا س بات کا شدت سے ذکر کیا ۔ کہ روڈز کی تعمیر میں مقامی کمیونٹی کے نالج سے استفادہ نہیں کیا جاتا ۔ جس کی وجہ سے سڑکیں پائیدار نہیں ہوتیں ۔ انہوں نے سیکرٹری کمیونیکینشن اور ڈائریکٹر این ایچ اے سے پُر زور مطالبہ کیا ۔ کہ ان سڑکوں کی تعمیر میں تیزی لائی جائے ۔ قبل ازین ایم این اے شہزادہ افتخارالد پر ین کی قیادت میں اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبران نے کراکال گاؤں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی تعزیت کیلئے اُن کے گھر گئے ۔ اور اُن سے اظہار ہمدردی کی ۔ اس موقع پرسوگوار خاندانوں نے مطالبہ کیا ۔ کہ اُن کے ایک ایک بیٹے کو ملازمت دلوایا جائے ۔ جس پر اسٹینڈنگ کمیٹی نے اُنہیں ملازمت دلوانے کی یقین دھانی کی ۔ وادی کے مقامی عمائدین نے بھی مہمانوں اور ایم این اے سے ملاقات کی ۔ اور وادی کے مسائل سے انہیں آگاہ کیا ۔ درین اثنا اسٹینڈنگ کمیٹی کی نو رکنی ٹیم جو ہیلی کاپٹر پر لواری ٹنل کا دورہ کرنے گئی تھی ۔ پناہ کوٹ دیر میں لینڈ کرنے کیلئے مناسب جگہ نہ ملنے کے سبب لواری ٹنل کا دورہ نہ کر سکی ۔ اسی طرح گرم چشمہ کا دورہ بھی نہ ہو سکا ۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s