پاکستان خارجہ ، دفاع اور کر نسی کی وزارتیں اپنےپاس رکھے اس کے علاوہ تمام قانون سازی کا اختیار گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو منتقل کر دے۔ بی این ایف کامطالبہ

BNF Gilgit Baltistan

یاسین ( سلیم شرین ) بالاورستان نیشنل فرنٹ کے مر کزی رہنما ایڈوکیٹ محبو ب علی بالاورستانی ، قوت خان صدر بی این ایف یاسین ، آرگنائزر بی این ایس اوغذر شیر نادر شاہی ، علی غلام اور دیگر کارکنوں اور رہنماﺅں نے اپنے سکریٹریٹ یاسین میں پر یس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم مودی کی گلگت بلتستان پر بیان بازی کی مکمل اور شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ مودی کو گلگت بلتستان پر بیان بازی کرنے سے پہلے گلگت بلتستان کے مقبوضہ علاقے لداخ اور کار گل سے اپنی ناجائز قبضے کو ختم کریں او ر کار گل لداخ کی سرزمین کو گلگت بلتستان کے حوالہ کردیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم جی بی کے اندر ترقیاتی کاموں کے خلاف نہیں ہیں اور جہاں کہیں بھی ترقیاتی کام ہورہے ہیں ان کی بھر پو ر حمایت کرتے ہیں البتہ جو بھی قومی اور بین الاقومی حوالے سے کام ہورہے ہیں ان میں گلگت بلتستان کے عوام کے مشورہ بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غذر شہیدوں کی سر زمین ہے لیکن حکومت نے اس ضلع کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے ہمارے پاس نہ تعلیمی ادارے ہے اور نہ ہی صحت کا کوئی پرسان حال نہیں ے انہوں نے کہا کہ تھوئی پاور پر وجیکٹ میں 34 کروڑ کی کرپشن ہوئی ہے لیکن جی بی کی صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے اور غذر بھر میں سڑکوں کی حالات قبل رحم ہے ۔ اس سے لگتا ہے کہ حکومت غذر کے عوام کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ ا انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت بین الاقومی بر ادری سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے علاقوں پرتین بڑے ممالک جن میں پاکستان ، چائینہ اور ہندوستان شامل ہے نے قبضہ کر لیا ہے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی سرزمین لداخ اور کار گل پر ہندوستان نے ناجائز قبضہ جمایا ہے جبکہ شینکی کوہستان اور چترال کو پاکستان نے کے پی کے میں زم کر دیا ہے اور 1963 میں شاہرائے قراقرم کے تعمیر کے معاہدے میں گلگت بلتستان کے 25 ہزار مربع میل علاقے پر چائینہ نے قبضہ جمالیا ہے اس سے پہلے ان مقبوضہ علاقوں کو ہمارے حوالہ کیا جائے انہوں نے اپنے پر یس کانفرنس میں کہا کہ گلگت بلتستان کشمیر کے فیصلہ ہونے تک منتازعہ علاقہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کے فیصلہ ہونے تک پاکستان تین وزارتوں کو اپنے پاس رکھے جن میں خارجہ ، دفاع اور کر نسی کے علاوہ تمام قانون سازی کا اختیار گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو منتقل کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقتصادی راہداری کی ہرگز مخالفت نہیں کرتے ہیں بلکہ ہماریا مطالبہ ہے کہ اس میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کو شامل کیا جائے او ر تمام اضلاع میں اقتصادی راہداری کے یونٹ تعمیر کیئے جائے انہوں نے کہا کہ شیڈول فورتھ کے تحت ہمارے رہنما قیوم خان پر جھوٹے مقدمات درج کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کو قیوم خان شندور میں تھے اور انہوں نے ایس پی غذر سے باقاعدہ اجازت نامہ لیکر شندور گیا تھا لیکن ان پر بے بنیاد الزمات لگاکر تحریک کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے اس لیے ہم قیوم خان کی گرفتاری کی بھر پور انداز میں مذمت کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے پر یس کانفرنس میں کہا کہ لوکل سطح پر بہت ساری ایشوز ہیں جن میں سب سے اہم مسلہ انٹر کالج طاﺅس کا ہے جہاں پر بچوں سے بھاری فیس لیکر گورنمنٹ انٹر کالج کا نام دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ فی اسٹوڈنٹ سات سو روپے فیس وصول کی جاتی ہے اور بس کے لیے الگ سے فیس لیا جاتا ہے جو کہ سراسر عوام کے ساتھ ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں قراقرم یونی ورسٹی کے کیمپس موجود ہے لیکن غذر بھر میں کہیں کے آئی یو کا کیمپس موجود نہیں ہے اس لیے نہ صرف غذر میں بلکہ ےاسین میں بھی قراقر م یونی ورستی کا کیمپس بنا ےا جائے انہوں نے کہا کہ غذر روڑ مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے اور ذمہ دار ادارے بالکل خاموش ہے ساتھ ساتھ تھوئی پاور پر وجیکٹ جس پر 34 کروڑ روپے کی بڑی رقم ایڈونس ہی ٹھیکداروں کو پے منٹ ہونے کے باجود کام مکمل نہ ہونا متعلقہ اداروں کے لیے شرمنا ک اقدام ہے اور تھوئی پاور ہاﺅس کے لیے لائی گئی مشینری برانداس ےاسین میں گزشتہ چار سالوں سے ہر قسم کے موسمی حالات چاہے بارش ہو ےا دھوپ ےا سیلاب وہی پر پڑے ہیں ان پر کروڑ کے اخراجات آئے ہیں لیکن متعلقہ ادارے کے ذمہ داران اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گندم کی سبسیڈی ختم کرنے اور کوٹے میں کمی بد نیتی پر مبنی ہے اس کو فوری طور پر واپس لیکر نہ صرف گندم کے کوٹے بحال کیا جائے بلکہ پندرہ لاکھ سے بڑھاکر بیس لاکھ بوری کیا جائے انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے مطالبات پر فوری عملدار آمد کیا جائے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s