سکردو کے مختلف مقامات پر بھارتی وزیراعظم کے متنازعہ بیان کے خلاف احتجاج

14040068_1121632571242012_5902663616721869573_n.jpg

 سکردو ( رجب علی قمر ) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے گلگت بلتستان بارے متنازعہ بیان کے خلاف سکردو میں تمام مکاتب فکر اور تعلیمی اداروں کے طلبہ کی جانب سے احتجاجی ریلی بعد از نماز جمعہ نکالی گئی۔ ریلی متعلقہ مقامات سے ہوتا ہوا یاد گار شہدا سکردو پر پہنچی جہاں مظاہرین نے وزیراعظم مودی کے پتلے نذر آتش کئے اور مودی سرکار مردہ باد ،پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کئے۔ شرکاء ریلی سے انجمن امامیہ ،انجمن اہلسنت ،انجمن اہلحدیث ،انجمن نوربخشیہ ،انجمن اسماعلیہ و تما م سیاسی پارٹیوں کے عہدہداروں نے خطاب کیا احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت اہلحدیث کے رہنما مولانا ڈاکٹر محمد علی جوہر نے کہا کہ مودی سرکار پہلے کشمیر میں مظالم بن کریں پھر گلگت بلتستان کی بات کریں گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے وفادار ہیں۔ یہاں کے اسلاف نے اپنے زور بازو سے اس علاقے کو آزاد کرکے پاکستان کے ساتھ بلا مشروط الحاق کر دیا تھا۔ جماعت اہل سنت کے مولانا ابراہیم خلیل نے کہا کہ ہندوستان کی نااہل حکومت جو انے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ملک کا دعویٰ کرتی ہے لیکن کشمیر میں بے گنا ہ انسانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان کا بچہ بچہ پاکستان سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ یہاں کے عوام 70 سالوں سے آئینی حقوق نہ ملنے کے باوجود بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف ،انجمن امامیہ ،مسلم لیگ ن ودیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کس منہ سے گلگت بلتستان بارے ہرزہ سرائی کررہے ہیں۔ اپنی ریاست میں ناکامی سے بچنے کے لئے وہ یہاں کے غیو ر عوام کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ رہنماﺅں نے کہا کہ نریندر مودی تاریخ کا سب سے بڑا قاتل اور مسلمانوں کے دشمن ہے گجرات اور کشمیر میں قتل و غارت اور فسادات میں مودی کا براہ راست ہاتھ ملوث ہے۔ یہاں کے عوام نے 65,71 اور کرگل وار میں پاک افواج کے شانہ بشانہ جنگیں لڑی ہیں۔ ہماری منزل پاکستان ہے اور تاقیامت رہے گا۔ یہاں کے عوام نے 70 سالوں سے آئینی حقوق نہ ملنے کے باوجود سب سے زیادہ پاکستان کے وفادار ہے ہم پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو کے ٹو سے بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ ہماری شہداء اور غازیوں نے اپنے مقدس لہو کا نذزرانہ دے کر اس علاقے میں سبز پرچم لہرایا ہے اور آج تک لہرایا جارہا ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s