عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کا بھارتی وزیراعظم کو منہ توڈ جواب “نریندر مودی گلگت کے بارے میں فکر مند ہونے کے بجاے سری نگر اور نکسل وادیوں کے اوپر ظلم کرنا بند کرئے”

Flag_of_Awami_Workers_party

گلگت (پ۔ر) عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنماوں ظہور الہی ، اخون بائی ، اکرام الللہ جمال و دیگر نے کہا ہے کہ نریندر مودی گلگت کے بارے میں فکر مند ہونے کے بجاے سری نگر اور نکسل وادیوں کے اوپر ظلم کرنا بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہ کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ اٹھاسٹھ سالوں سے گلگت بلتستان کو آئینی وجمہوری حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ۔ ہم دنیا بھر کے محنت کشوں کو اس ترقی پسند جمہوری تحریک میں اپنا مددگار سمجھتے ہیں مگر اس سیاسی محرومی کو انڈیا سمیت کوئی بھی عالمی سامراجی طاقت اپنے پروکسی وار اور سٹریٹیجک لڑائی کا حصہ بنانا چاہیے یا اپنے پروکسی وار کے ایندھن بنانے کی کوشش کرے گی تو ہم اس کا منہ توڈ جواب دینے کی سکت رکھتے ہیں۔ اٹھاسٹھ سالوں سے ہندوستان کی ریاست جس حساب سے ملٹی نیشنل کمپینوں کے کارخانوں کے خام مال کی ضرورت کو پورا کرنے کےلئے غریب قبائلوں کو ان کے زمینوں ، آبی ذخائر سے محروم کر رہی ہے اور اس کےخلاف جب غریب آدھی واسی اپنے حقوق کےلئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو ان کو نکسل وادی کا نام دیکر جس ظلم و بربریت کا مظاہرہ کر رہی ہے یہ کسی سے ڈھکی چھی بات نہیں ۔ جب ہندوستان کی جمہوری قوتیں اس ہندوستانی ریاستی جبر کے اوپر بولنے لگتی ہے تو ان کے زبان پہ تالے لگانے کےلئے ہندو مذہبی اتنہا پسندو تنظیموں کے ذریعہ ان پہ حملہ کرواتی ہے اور ایسے ادیب اور لکھاریوں کو پاکستانی ریاستی ایجنٹ کہلاتی ہے ۔ جب وہاں کے طلبہ کشمیر کی آذادی کے حق میں نعرے لگاتے ہیں تو ان کو جیش محمد اور لشکر جھنگوی جیسی دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کے بے بنیاد الزامات لگا کر جیلوں اور مختلف مقدمات میں گھسیٹتی ہے ۔ان کو تعلیمی سرگومیاں جاری رکھنے سے روکتی ہے ۔ عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان ہندوستانی ریاست کے مطالق دو ٹوک اپنا موقف رکھتی ہے کہ ہندوستانی ریاست ایک جابر ، قابض سرمایہ دار ریاست کی شکل میں برصغیر کے مظلوم طبقات کی استحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی ریاست کبھی مظلوم قوتوں اور پسے ہوئے طبقات کی ترجمانی نہیں کرسکتی ۔ ہندوستانی ریاست جس طرح مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ظلم و بربریت کا مظاہرہ کرتی ہے اس ظلم و بربریت کو نام نہاد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا نام دیکر دعوے سے اپنا گھناونہ چہرہ کھبی چھپا نہیں سکتی ۔ جو اس نے سکھوں کے ساتھ خالصہ تحریک کا نام دیکر نسل کشی کی ہے اور غریب مسلمانوں کے ساتھ جو روا رکھاہوا ہے اس سے بھی انسانی حقوق اور انسان دوست تحریکیں واقف ہے۔ عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان اپنے آئینی ، جمہوری ، معاشی حقوق کی جنگ اپنے محنت کش عوام ، خواتین ،طلبہ اور نوجوانون کے بل بوتے پہ لڑنے پہ یقین رکھتی ہے ۔ جس کا عملی مظاہرہ ہم نے کرکے دیکھایا ہے۔ چائیے وہ گندم سبسیڈی کی تحریک ہو ،متاثرین عطاآباد کامسلہ ہو،سوست ڈرائی پورٹ کا مسلہ ہو یا گلگت بلتستان کے اجتماعی حقوق کی جنگ ہو اپنے کارکنوں اور عوامی طاقت کے ذریعے لڑی ہے ۔جس کی پاداش میں آج کامریڈ باباجان ،علیم اور دیگر ساتھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔ہم ایسے مقدمات اور سزاوں سے عوامی لڑائی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹ ینگے ۔ جب تک ظلم جبر اور سماج کے اندر طبقاتی تضادات موجود رینگے تب تک ہماری جنگ طبقاتی تضادات کے خلاف جاری رہے گی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s