غذر اور لاسپور| تحریر :شاہ خان قریشی

ShandurPolo.jpgغذر اور لاسپور| تحریر :شاہ خان قریشی

فدا علی شاہ غذری کی تحریر وں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ مجھے ان کے حال پہ رحم آتا ہے آدمی کے پاس دلیل نہ ہو تو دو چیزیں رہ جاتی ہیں گالی یا گولی ۔غذری نے فی الحال ”گالی “کا راستہ اختیار کر کے اپنی بے چارگی اور بے بسی دکھائی ہے ۔ مجھے کراچی میں تعلیم کے دوران قاری محمد شفیق ،خیر لامان ،شمس الحق نوازش اور دوسرے دوستوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کا موقع ملا ہے۔ غذر اور لاسپور کی مثال جڑواں بھائیوں جیسی ہے۔ ہم دور سے ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں اور پہلی بار ملتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے برسوں پرانی دوستی ہو آشنائی اور رشتہ داری ہو۔ ہماری تنظیم شندور ایریا ڈیولپمینٹ ،کنزر ویشن اینڈ ویلفر ارگنائزیشن (رجسٹرڈ ) ایک فعال سماجی تنظیم ہے۔ ہمارے بزرگ ممبروں کا کہنا ہے کہ شندور کا جھگڑا پیدا کر نا پڑوسی ملک بھارت کے سوا کسی کے مفاد میں نہیں۔ سرفراز شاہ کا کردار پہلے بھی مشکوک تھا 15اگست کو نریندرمودی کا بیان سامنے آنے کے بعد مزید مشکوک ہوگیا ہے۔ بزرگ شخصیت کیپٹن میر گلاب شاہ کا بیان ہے کہ 1980ءمیں جنرل ضیاالحق نے شندور میں پولو فیسٹول کے اختتام پر انعامات تقسیم کئے اس کی خبر عالمی میڈیا پر آگئی تو بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا تھاکہ شندور باونڈری بھارتی حدود کے اندر ہے اور متنازعہ ہے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر بھارتی دعویٰ اور احتجاج کی خبر آگئی تھی۔ سرفراز شاہ کا موقف بھارتی دعوے کا تسلسل ہے۔ ہماری تنظیم کے اراکین نے بہت غور و خوص کے بعد محمد شہاب الدین ایڈوکیٹ ہائی کورٹ اور ڈاکٹر عنایت للہ فیضی (تمغہ امتیاز )کی تحریر شندور اور کوکش لنگر حقائق نامہ شائع کیا اس میں مختصر مواد دیا گیا ہے اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ فد ا علی شاہ غذری نے اس حقائق نامہ کی کسی بات کی تردید نہیں کی، کسی دستاویز کو نہیں جھٹلایا اور کسی بات کا جواب نہیں دیا ہے۔ انہوں نے اپنی تحریر کا پورا زور غیر متعلقہ باتوں پر صرف کیا ہے۔ غذری کی تحریر پڑھ کر سب نے اندازہ لگالیا کہ انکا موقف کمزور ہی نہیں بے بنیاد بھی ہے۔ لاسپور کے عوام کی یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ بھارتی دعویداری سے پہلے شندور پر کبھی سوال نہیں اُٹھایا گیا۔ راجہ مراد خان اور راجہ حسین علی خان نے کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا اور پیر کرم علی شاہ نے کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ شندور کی ملکیت پر غذر کے عوام نے دعویٰ کیا ہو۔ سرفراز شاہ واحد شخص ہے جو غذر اور لاسپور کے عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس نے چترا ل سے بھاگے ہوئے ایک شخص محمد علی مجاہد کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔ فدا علی شاہ غذری نے سرفراز شاہ کے موقف کی حمایت کر کے اپنے کردار کو بھی مشکوک ثابت کردیا ہے۔ ایسے لوگ دشمن کے ایماء پر غذر اور لاسپور کے عوام کی بھائی چارگی ختم نہیں کر سکیں گے ۔ یہ بھائی چارگی اسی طرح محبت سے بھرپور رہے گی اس کا ثبوت یہ ہے کہ بارسد سے لیکر پھنڈر تک غذر کے عوام نے سرفراز شاہ کا ساتھ نہیں دیا اور بھارت کے منفی پرو پیگنڈے کو ناکام بنا دیا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s