کالاش میں مذہبی تہوار اُوچال کی تیاریاں عروج پر، 22اور23اگست کی درمیانی رات کو منایا جائیگا

Kalash Valley 2016 Religious Festival  چترال ( محکم الدین ) اس سال اُچال تہوار کا جو ش و خروش اس لئے کم نظر آرہا ہے ۔ کہ ابھی مہینہ بھی نہیں ہوا ۔ دہشت گردوں نے دو نوجوانوں کو اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا ۔ اور پوری کالاش قبیلے کے آنسو ابھی تک تھم نہیں سکے ۔ اُن کی یاد تازہ ہے ۔ تاہم یہ ایک مذہبی تہوار ہے ۔ جسے منانے کی تیاریاں جاری ہیں ۔ اوچال تہوار کا آغاز کالاش ویلی رمبور میں کردیا گیا ہے ۔ رمبور میں یہ تہوار 22اگست کی شام ڈھلنے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا ۔ لیکن یہی تہوار 22۔ اُچال کالاش قبیلے کا وہ تہوار ہے ۔ جو شکرانے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ماہ مئی میں منعقد ہونے والے جوشی ( چلم جوشٹ ) تہوار کے بعد کالاش قبیلے کے لوگ اپنے مال مویشی گرمائی چراگاہوں میں لے جاتے ہیں وہاں قیام کے دوران چرواہے دودھ سے پنیر اور دیسی گھی جمع کرتے ہیں ۔ اور ا ُچال تہوار کے موقع پر تمام جمع شدہ اشیاءکو گاﺅں لایا جاتا ہے ۔گاﺅں کے لوگ ڈھول بجاتے ، رقص کرتے چرواہوں کے استقبال کیلئے جاتے ہیں ۔ اور جمع شدہ پنیر اور دیسی گھی وغیرہ اشیاءگاﺅں لانے میں اُن کی مدد کرتے ہیں ۔ ہر چرواہا کا لا ش مذہب کے مطابق ایک بڑا اسپیشل پنیر اپنے دیوتامالوش جو رمبور ویلی میں سجی گور اور بمبوریت بتریک میں مہا دیو کے نام سے مشہور ہیں ، کے لئے تیار کرتا ہے اور اُسے مالوش کے سامنے بطور نذرانہ پیش کرتا ہے ۔ جہاں کالاش مذہب کے پیشوا اور بزرگ مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں ۔ اور مال مویشیوں اور قبیلے کی خیرو عافیت اور سلامتی کی دعا کرتے ہیں ۔ گرمائی چراگاہوں سے آنے والے چرواہے پہلے مالوش میں حاضری دیتے ہیں اور اُسکے بعد اپنے گھروں کو جاتے ہیں ۔ جہاں لائے گئے پنیر کا بڑا حصہ گاﺅں کے لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ بہن بیٹیوں اور رشتہ داروں کیلئے حصہ مخصوص کیا جاتا ہے ۔ اور گاوں والوں کو بھی محروم نہیں رکھا جاتا ۔ کالاش قبیلے میں رشتہ داری اور ہمسائیگی اور باہمی مدد اور تعاون کی اعلی مثال پائی جاتی ہے ۔ اس لئے غم ہو کہ خوشی تمام کمیونٹی مل کر ان مواقع پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔ اُوچال کا تہوار اس لئے بھی اہم ہے ۔ کہ اس میں سوگ کے خاتمے کا بھی اعلان کیا جاتا ہے ۔ کالاش مذہب میں اگر کسی تہوار کے بعد گاﺅں میں فوتگی ہو ۔ تو دوسرے تہوار تک اس خاندان سے منسلک رشتے دار سوگ مناتے ہیں ۔ مرد داڑھی چھوڑتے ہیں ۔Kalash Valley Reglous Festival on 22 and 23 August at Bamburath جبکہ قریبی خواتین سوگ کا اظہار کرتی ہوئی سر پر تاج نما کالاش ٹوپی ( کوپیسی )  اوڑھنے کی بجائے سر ننگا چھوڑتی ہیں ۔ لیکن اوچال کے موقع پر وہ با قاعدہ طور پر اپنے سوگ ختم کرتے ہیں ۔ مرد اپنی داڑھیاں مُنڈواتے ہیں ، تو خواتین کوپیسی اوڑھ لیتی ہیں ۔ اوچال کے ڈھول کی پہلی تھاپ کے ساتھ سوگ کو رخصت کیا جاتا ہے ۔ امسال دہشت گردوں کی طرف سے دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد ویلی میں انتہائی غم و غصے کا ماحول پایا جاتا تھا ۔ لیکن پاک آرمی کی طرف سے کچھ دنوں بعد پانچ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے سے وادی کے لوگوں کے غم میں بڑی حد تک کمی آئی ہے ۔ تاہم کالاش قبیلے کے لوگ اب بھی وہ غم مکمل طور پر نہیں بھول پائے۔ کالاش قبیلے کے سماجی کارکُن وزیر زادہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ رمبور ویلی میں اوچال شروع ہو چکا ہے ۔ اور بڑی تعداد میں ملکی سیاح اسے دیکھنے کیلئے یہاں آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ تہوار باہمی محبت ، بھائی چارہ اور قریبی روابط کی بناپر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ کالاش قبیلے کے لوگ پنیر وغیرہ صرف کالاش کمیونٹی میں ہی تقسیم نہیں کرتے ۔ بلکہ بڑا حصہ مسلم کمیونٹی میں بھی تقسیم کرتے ہیں ۔ اور مسلم کمیونٹی بھی اس تہوار میں برابر کے شریک ہوتے ہیں ۔ کالاش پیپلز ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹیو لوک رحمت نے میڈیا کو بتا یا ۔ کہ اُچال سے پہلے رٹ نٹ کا تہوار ایک مہینے تک ہر دوسری رات منایا جاتا ہے ۔ اور مردو خواتین اس میں حصہ لیتے ہیں ۔ لیکن دوتین سالوں سے دہشت گردی کے خوف اور مناسب ماحول نہ ہونے کی وجہ سے رٹ نٹ کا تہوار تقریبا ختم ہو چکا ہے ۔ تاہم اُچال تہوار اپنی جگہ پر موجود ہے ۔ لیکن یہ بھی مختلف وجوہات کی وجہ سے بعض اوقات مسائل شکار ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس مرتبہ مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں سیاح وادی میں موجود ہیں ۔ جو اُچال تہوار دیکھنے میں انتہائی دلچسپی رکھتے ہیں ۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s