سانحہ علی اباد میں پولیس کے ہاتھوں شہید ہونے والے باپ بیٹے کے یاد میں شمع روشن کیں

Flag_of_Awami_Workers_party

ہنزہ (پ۔ر)عوامی ورکرز پارٹی ہنزہ نے علی آباد اور ناصر اباد میں سانحہ علی اباد میں پولیس کے ہاتھوں شہید ہونے والے باپ بیٹے کے یاد میں شمع روشن کیں۔اس موقع پر عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماوں،کارکنوں نے سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کیں۔عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماوں نے کہا ہم سانحہ ہنزہ کو نہیں بھولے ہے لیکن حکمران اور ان کے مہرے اج پھر ہنزہ کے خیر خواہ بننے کی ناکام کوشش کر ریہی ہیں۔ سانحہ علی اباد کے پانچ سال گزر گئے مگر حکومت نے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے پہ کھڑا کیا اور نہ ہی متاثرین کی کوئی مدد کیاگیا،مہدی شاہ سرکار کے خلاف ایف ائی ار درج کرنے کے اعلان کے بعد حفیظ بھی اقتدار ملنے کے بعد سیاسی کارکنوں کو سزا دلا کر جیل کے سلاخوں کے پیچھے بھچ دیا جو کہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ علی آباد کے بعد جو لوگ گلگت میں بیوروکریسی کو دعوتیں دے رہے تھے وہ اج ہنزہ کے عوام کو بے وقوف بنانے کےلئے ووٹ مانگ رہا ہے عوام ان کے کردار سے واقف ہے ان کے اس کا نتیجہ مل جائے گا۔۔انہوں نے کہا کہ عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی رہنما کامریڈ باباجان اور دیگر ساتیھوں کو پرامن طور پر متاثرین کے حق میں احتجاج کرنے پہ پابند سلاسل کیا گیا ہے جبکہ قاتل ڈی ایس پی کو ترقی دیکر ریٹائرڑ کیاگیا،اس موقع پر عوامی ورکرزپارٹی کے رہنماوں نے کہا کہ فوری طور پر سابق حکومت اور ڈی ایس پی کے خلاف ایف ائی یر درج کرکے ان کو انصاف کے کہٹرے میں کھڑا کیا جائے۔سانحہ علی اباد کے بعد بنائے گئے تمام بوگس کیسز ختم کرکے سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے۔متاثرین عطااباد کے بحالی نہ ہونے کی وجہ سے اج بھی متاثرین ٹنٹو میں زندگی گزار رہے ہے۔فوری طور پر ان کو متبادل زمینیں دیا جائے۔سانحہ علی اباد کے جوڈیشل انکوئری رپورٹ منظر عام پہ لایا جائے ۔اس موقع پر عوامی ورکرز پارٹی ہنزہ کے رہنماوں اکرام اللہ بیگ جمال،اختر امین،اخون بائی،کامریڈ جلال،حسین علی،کامریڈ واجد و دیگر نے خطاب کیں۔

Advertisements

One thought on “سانحہ علی اباد میں پولیس کے ہاتھوں شہید ہونے والے باپ بیٹے کے یاد میں شمع روشن کیں

  1. 
    Al momento que uno se encuentra con artículos como este:
    سانحہ علی اباد میں پولیس کے ہاتھوں شہید ہونے
    والے باپ بیٹے کے یاد میں
    شمع روشن کیں . Gracias por publicarlo.

    Aunque, presiento que la noticia pudiese estar un tanto más precisa, aunque el texto se explaye más.
    Mi modesta pensamiento.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s