بابا جان رہائی تحریک نے گلگت بلتستان کے اسیرماحولیات بابا جان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے حق میں کراچی پریس کلب میں احتجاجی مظاہرہ

13692954_558366601041248_8371475306869548880_o.jpg

کراچی(پ ر ) آج مورخہ 23 جولائی 2016 کو بابا جان رہائی تحریک نے گلگت بلتستان کے اسیرماحولیات بابا جان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے حق میں کراچی پریس کلب میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں انقلابی سوشلسٹ ، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی سمیت دیگر ترقی پسند جماعتوں کے ارکان نے شرکت کی۔

مظاہر ے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گلگت بلتستان میں غیر خودمختاری کی کیفیت وہاں کے اہم مسائل کے حل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔بابا جان اور دیگر اسیرانِ ماحولیات کو دی جانے والی سزا وہاں کی انتظامیہ اور اعلیٰ عدالتوں کی بے بسی اور بد دیانتی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بابا جا ن اور ساتھیوں کی جدوجہد کا جائزہ لیتے ہوئے مقررین کے کہا کہ جنوری 2010میں جب گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کے گاؤں عطاآباد میں پہاڑ گرنے سے ایک مصنوعی جھیل بن گئی جس سے وہاں کے مقامی لوگوں کی زمینیں اور گھر تباہ ہوئے اور لوگوں کو جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد امداد کے منتظر عوام کی بدحالی کی طرف حکومت وقت نے کوئی توجہ نہیں دی۔ بابا جان نے حکومتی بے حسی کے خلاف اور متاثرین عطا آباد کے compensation کے لئے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر مضبوط تحریک چلائی۔ اُس وقت کے وزیر اعلی پی پی پی کے سید مہدی شاہ سیاسی دورے پر ہنزہ گئے جس کا ہنزہ کے مقامی لوگوں نے بائیکاٹ کیا اور مظاہرے کئے۔ وزیر اعلی کے حکم سے مظاہرین پر گولیاں چلائی گئی جس کی وجہ سے ایک باپ اور بیٹے کو اپنی جان گنوانی پڑی اور بدلے میں سینکڑوں ہنزہ کے نوجوانان پر ایف ائی آر درج کئے گئے۔ با با جان کی جائے حادثہ میں عدم موجودگی کے باوجود انہیں افتخار، علیم اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جیل میں بند کر کے بڑی طرح تشدد کیا گیا۔ گزشتہ سال پھر سے بابا جان کو پابند سلاسیل کیا گیا، جس کے بعد انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بابا جان کو دو عمر قید کی سزائیں سنائیں۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پچھلے انتخابات میں بابا جان نے جیل سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے میر غضنفر علی کے بعد دوسرے نمبر پر رہے۔ بعد ازاں میر غضنفر کے گورنر منتخب ہونے پر ضمنی انتخابات میں دوبارہ حصہ لیا۔ بابا جان کے کیمپین میں بھرپور عوامی شمولیت سے خوفزدہ ہو کر میر غضنفر کے بیٹے( جو نون لیگ کی طرف سے ضمنی انتخابات میں امیدوار ہے) اور پی پی پی کے ظفر اقبال نے مل کرباباجان کے کاغذاتِ نامزدگی کے خلاف الیکشن کمیشن میں اعتراض اٹھایا۔کاغذات مسترد ہونے پر بابا جان کے سپورٹران ہائی کورٹ گئے جس میں عدالت کا فیصلہ باباجان کے حق میں تھا مگر ظفر اقبال کے دوبارہ اعتراض پر سپریم اپیلٹ کورٹ نے از خود نوٹس لیا اور باباجان کے خلاف ATA کی سزا برقرار رکھی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا۔ کورٹس کے اس امتیازی فیصلے کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہوئے جس سے عوامی عدالت میں کینگرو کورٹس کی بدنامی کا داغ مٹانے کی خاطر مسلسل چھے تاریخوں کے اعلان کے بعد بالاخر تمام الیکشن کے عمل کو کالعدم قرار دے کر نئے سرے سے انتخابی عمل کا اعلان کیا گیا۔جس کامقصدباباجان کو انتخابی عمل سے باہررکھنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

باباجان رہائی تحریک کراچی ، اس پہلے مظاہرے کے ساتھ کراچی میں ایک طویل تحریک کے آغاز کا اعلان کرتی ہے ۔ اور جب تک باباجان، افتخار، علیم اور دیگر ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا تحریک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

باباجان رہائی تحریک مطالبہ کرتی ہے کہ:

۱۔ گلگت بلتستان کے جیلوں میں موجود باباجان ،افتخار، اور علیم سمیت تمام اسیرانِ ماحولیات پر قائم کئے گئے تمام جھوٹے مقدمات ختم
کئے جائیں۔

۲۔ وزیر اعظم جی بی کاونسل کے چیئرمین ہیں او روہ کسی بھی قسم کی سزا کو ختم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، ان کے وزیرِ اعلیٰ میڈیا میں تسلیم کر چکے ہیں کہ بابا جان کیساتھ نا انصافی ہوئی ہے، اس ضمن میں بابا جان رہائی تحریک میاں نواز شریف سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بابا جان سمیت تمام اسیران کی سزاوں کا غیر مشروط خاتمہ کرے۔

۳ ۔ گلگت بلتستان میں عدلیہ آذاد نہیں جس کی وجہ سے اہم تاریخی فیصلے عوام کے حق میں نہیں ہو رہے ہیں، ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں عدلیہ کو خود مختار بنایا جائے۔

۴۔ د ہشت گردی کے قوانین کا سیاسی کارکنان پر اطلاق ختم کیا جائے۔

۵۔ سانحہ علی آباد کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو فوری منظرعام پر لایا جائے۔

۶۔ علی آباد میں باپ بیٹے کو قتل کرنے والے پولیس آفیسر کو نوکری سے فوری معطل کر کے سزا دی جائے۔

۷۔ سانحہ عطا آباد و علی آباد کے متاثرین کو تمام تر نقصانات کا معاوضہ دیا جائے۔

آخر میں کمیٹی نے رواں ہفتے کے اندر میٹنگ بلائی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s