مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے اجراء شدہ گلگت بلتستان ما ئینگ کنسیشن رولز 2016کو گلگت بلتستان کے 20لاکھ عوام کے حق ملکیت پر ڈاکہ۔ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان

mining in gb.jpg

گلگت (پ ر) پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کا ایک ہنگامی اجلاس پیپلز پارٹی سیکر ٹریٹ راجہ بازار گلگت میں زیر صدرارت امجد حسین ایڈوکیٹ صوبائی صدر پی پی پی گلگت بلتستان منعقد ہوا۔اجلاس میں پی پی پی جی بی کے ارکان کے علاوہ پی ایس ایف اور پی وائی او کے سینئر رہنما بھی کثیر تعداد میں شریک تھے۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے اجراء شدہ گلگت بلتستان ما ئینگ کنسیشن رولز 2016کو گلگت بلتستان کے 20لاکھ عوام کے حق ملکیت پر ڈاکہ قرار دیکر مذکورہ قانون کو مسترد کرنے کا اعلان کیا کیونکہ مذکورہ قانون کے تحت وزارت امور کشمیر گلگت بلتستان کونسل کے ممبران اور مسلم لیگی اراکین کو نسل سے انگوٹھہ حاصل کر کے گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام کے حق ملکیت پر ڈاکہ زنی کر کے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کو گلگت بلتستان کے معدنیات کا مالک قرار دیا ہے اور لیز کا اجراء کا اختیار جو عرصہ آٹھاسٹھ سالوں سے ڈائریکٹر مینرلز ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان کے پاس تھا مذکورہ اختیار کو اسلام آباد منتقل کر کے اپلیٹ اتھارٹی کا اختیار وزارت امور کشمیر کو منتقل کیا نیز مذکورہ قانون کے دفعہ 182کے تحت سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کے لیز لینے کا حق صرف پاکستانیوں کو قرار دیکر گلگت بلتستان کے شہر یوں اور باشندوں کو نا اہل قرار دیا ہے۔اجلاس میں کہا گیا ہے کہ پی پی پی کے ممبران کونسل نے پانچ سالوں تک مذکورہ قانون کو پاس ہونے میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور پی پی پی ممبران کی مخالفت کی وجہ وزارت امور کشمیر اپنی ناپاک عزائم میں ناکام رہے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کے اراکین کو نسل نے وزارت امور کشمیر میں مو جود کرپٹ آفسران اور کالے بھیڈیوں کے خواہشات کو پورا کر نے کیلئے گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام کے حق ملکیت پر ڈاکہ زنی کیلئے استعمال ہوئے ہیں۔اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) کے ناپاک عزائم کے خلاف صف بندی کر کے مذکورہ کالے قانون کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا۔حق ملکیت تحریک کے زریعے گلگت بلتستان میں مو جود معدنیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں مائینگ رولز 2016کو آٹھارویں ترمیم کے منشاء کے خلاف قرار دیا گیا اور مذکورہ قانون کو کالعدم قرار دلانے کیلئے عدالت عالیہ سے رجوع کرے گی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s