ہچکولے|ہدایت اللہ اختر

 

hidayat-ullah


ہچکولے|ہدایت اللہ اختر


ہچکولے کھا نا ہوتا ہے یا ہچکولے دینا ان دو الفاظ پہ غور کیا جائے تو  بات  پوری کہ پوری سمجھ آتی ہے۔ گلگت بلتستان  کے عوام  ہچکولے کھاتے بھی ہیں اور کبھی کبھار اس عوام کوہچکولےدئے بھی جاتے ہیں ۔ کبھی کبھار جو ہچکولے دئے جاتے ہیں وہ تو قدرتی ہیں  جو زلزلے اور کبھی بارش اور کبھی طوفان کی شکل میں    ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ ان ہچکولوں  کو تو حضرت انسان سہہ  جاتا ہے اس لئے  کہ یہ ایسے ہچکولے ہیں   جس کا اختیار انسان کے بس میں نہیں ۔لیکن ایسے ہچکولوں کا کیا کیا جائے جن پر  قابو پانے  کی آپ میں طاقت ہو اور اس   کے باوجود بھی  آپ ہچکولے کھانے پہ مجبور ہوں ۔۔اس کو  آپ کی سستی یا کوتاہی سمجھا جائیگا یا  آپ کی نالائقی یا آپ کی بے حسی۔۔۔اگر آپ اس کے ذمہ داروں میں سے ہیں تو اس کو آپ کی سستی  سمجھا جائیگا۔اگر حکومتی     سطح پر اس کو لیا جائے تو یہ حکومت کی نالائقی  کے ذمرے میں آئیگا۔اور عوام کی طرف آئیں تو اس عوام کا کیا کہنا ہے یہ تو بے حسی  کے کینسر میں ایسے مبتلا ہے کہ   ان کے گھروں کو بھی کچرے دانوں میں تبدیل کیا جائے تو  مجال ہے کہ یہ ایک لفظ  بھی منہ سے بولے۔۔۔ہچکولے کا  لفظ  میرے ذہن میں ایسے سما گیا کہ   میں گلگت گھڑی باغ کے موڑ  کے قریب  پہنچا  ہی تھا  کہ مجھے اندازہ ہوا کہ  سیدھی طرف سے آنے والی ایک کار اسی ٹریک کی طرف بڑھ رہی تھی جس  طرف میں  گاڑی موڑنا چاہتا تھا  ۔میں نے گاڑی کو بریک لگایا اور اسے پہلے چلنے کا موقع دینا چاہا لیکن دوسری طرف کار چلانے والے نے انکاری میں سر ہلایا  اور مجھے پہلے جانے کا موقع فراہم کیا جب میں گاڑی گزارتے ہوئے اس کے قریب سے گزرا تو اس نے اس ٹریک پر آنے کی وجہ بتاے ہوئے کہا  سر دوسرے ٹریک سے نسبتا اس ٹریک میں  کھڈے  کم ہیں۔یعنی وہ بھی میرے اور دوسرے لوگوں  کی طرح  کھڈے والی جگہ سے جاتے ہوئے کترا رہا تھا ۔ اس کھڈے والی سڑک  پہ میرے سمیت اور بھی کئی گاڑی والے ہچکولے  کھاتے ہوئے   صبح و شام  گزرتے ہیں ۔ تو میرے جسم کے ساتھ ذہن نے بھی ہچکولہ کھایا ۔ سوچا آج ہچکولے کو  ہی اپنا موضوع بناتے ہیں  ۔گھڑی باغ   اب اس مقام کو گھڑی باغ  لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔  میرے خیال میں اب اس مقام کا  کوئی اور نام رکھا جائے تو بہتر  رہیگا۔ گلگت  شہر کی سڑکوں کی حالت زار  دیکھی جائے تو آپ اس شہر کی جس سڑک پر سفر کریں آپ  ہچکولے کھانے  سے بچ  نہیں  سکتے   لیکن گھڑی باغ  اوہ گھڑی باغ نہیں  اس کو اب ہچکولہ چورہا  کہا جائے تو مناسب رہیگا گھڑی باغ تو ایک تاریخی مقام تھا ۔  اس گھڑی باغ کی تاریخی اہمیت  سے کون واقف نہیں ایک وہ وقت تھا جب اس سے متصل تاریخی ڈاک خانہ تحصیل اور گلگت کا تاریخی سکول کے ساتھ جنگی پلیٹ  اور گلگت سکاوٹس چھاونی ہوا کرتے تھے ۔ڈاک خانہ تحصیل اور سکول  تو اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں جبکہ دوسری طرف عسکری جگے نے  اب  ایک بہت بڑی کمرشل مارکیٹ کا روپ دھارا ہے   ۔ اس مقام کو شروع دن سے ہی مرکزی مقام ہونے کا شرف حاصل ہے اور یہ حثیت آج تک بروقرار ہے اس حوالے سے  بھی دیکھا جائے تو یہاں ٹریفک اور ہجوم کا بڑھنا ایک قدرتی امر ہے۔جیسے پہلے ذکر ہوا ہے کہ  گلگت شہر کی سڑکوں میں سفر کے آغاز اور اختتام تک  گاڑی ڈرائیو کرنے والا اور سواریاں ہر وقت ہچکولوں کی زد میں ہی ہوتے ہیں  اور ہچکولوں کی زد میں آنے والوں کا  کیسا بُرا حال ہوتا ہے  یہ صرف وہی لوگ ہی جانتے ہیں جو ہچکولوں کی زد میں آئے ہوں اور بچ گئے ہوں آفرین ہے گلگت  شہر کے باسیوں کی ہمت پر کہ سارا سارا دن سڑکوں میں ہچکولے کھانے کے بعد بھی  منہ سے ایک لفظ بھی اپنی صوبائی حکومت کے خلاف نہیں نکالتے ہیں ۔اس کی بہت ساری وجوہات ہیں  اس وقت میرے ذہن میں ہچکولے ہی ہچکولے ہیں اس لئے وجوہات  کے بارے  سوچنے کا  وقت نہیں  بس یوں سمجھیں کہ ان ہچکولوں نے  ہم سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی ہے۔۔آج کل تو رمضان کے باعث گلگت کے مختلف سڑکوں میں  ان ہچکولوں کے ساتھ ساتھ لڑائی اور جھگڑوں کے ہچکولے  بھی لگتے ہوئے نظر آتے ہیں  غرض جہاں دیکھیں ہچکولے ہی ہچکولے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ گھڑی باغ  کی مرکزی اور  تاریخی حثیت بھی حکمرانوں کو متاثر نہ کر سکی  بلند بانگ دعویٰ کرنے والی مسلم لیگ کی صوبائی حکومت ایک سال میں  گھڑی باغ  کی سڑک  جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے  جو ایک قلیل رقم سے یا لاگت سے ٹھیک ہو سکتی ہے   ضروری مرمت اور کارپیٹنگ کرنے میں  ناکام  نظر آتی ہے تو ایسے میں اس حکومت سے دیگر ترقیاتی کاموں کا  کیا سوچا جا سکتا ہے۔ عوام کو بجلی تعلیم اور ترقیاتی کاموں کے  حوالے سے  ہچکولوں کا شکار کرنے والی  جی بی کی صوبائی حکومت کو یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہئے کہ  یہ ہچکولے  اس کے لئے نیک شگون نہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ  صوبائی حکومت ان ہچکولوں کی زد میں آجائے اور شدید قسم کے ہچکولے کھانا شروع کر دے۔اور جب شدید ہچکولے لگتے ہیں تو یہ  کیا حشر برپا کرتے ہیں اس سے سبھی واقف ہیں  کوئی چیز سلامت نہیں رہتی  اللہ توبہ۔اب بھی جی بھی  کی صوبائی حکومت کے پاس بہت سارا وقت باقی ہے ۔اپنی کوتاہیوں اور سست روی کی طرف توجہ دیتے ہوئے  عوامی مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دے اگر ایسا نہ ہو سکا  تو صوبائی حکومت کو ان ہچکولوں کی زد سے کوئی نہیں بچا سکے گا

د

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s