لوڈشیڈنگ سے تنگ مرتضی آباد ہنزہ کے سینکڑوں خواتین اور بچے شاہراہ قراقرم پر نکل گئے

Loadshedding-in-Pakistan

ہنزہ ( اجلا ل حسین ) لوڈشیڈنگ سے تنگ مرتضی آباد ہنزہ کے سینکڑوں خواتین اور بچے شاہراہ قراقرم پر نکل گئے ، ماہ صیام میںبجلی کی سنگن لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں ، محکمہ برقیات ہنزہ نگر کے حکام کا 24گھنٹے کے اندر بجلی کو بحال کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کر دیا ۔ گزشتہ روز ہنزہ کے علاقے مرتضی آباد کے سینکڑوں خواتین اور بچوں نے گزشتہ 24دنوں سے بجلی کے لودشیڈنگ کے خلاف شاہراہ قراقرم مرتضی آباد کے مقام پر تین گھنٹے سے زائد بلاک کر دیا ۔ اس موقع پر احتجاج میں شریک خواتین نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل مرتضی آباد تا شناکی علاقے کے لئے 500کلو واٹ ہائیڈیل پاور پروجیکٹ سے بجلی فراہم کرتے تھے مگر اس مشنین کو عطاآباد سانحہ کے دوارن مشین کی دوسری جگہ منتقلی کہ وجہ سے مشین میں بجلی کی پیداوار میں کمی ہو گئی ہے جس کے باعث عوام کو لوڈ شیڈنگ کا مسامنا کر نا پڑتا ہے فی لفور اس مشین کو اپنی جگہ لگا کر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ جبکہ اسی جگہ جہاں پر مشین کو اکھاڑا تھا اسی جگہ ضلعی انتظامیہ نے کچرا جلانے کا جگہ بنایا ہے جس کی وجہ سے عوام مرتضی آباد خصوصاً بچوں میں مختلف وبائی بیماریوں میں مبتلا ہو نا شروع ہو گیا ہے جلد از جلد کچرا جلانے کے عمل کو بند کر ایا جائے۔ احتجاج میں شریک خواتین نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ محکمہ برقیات ہنزہ نگر ہنزہ میں بجلی کی منصفانہ تقسیم نہیں ہے علاقے کے امیر ہو یا غریب فرد سب کو بجلی یکساں فراہم کی جاتے تاکہ عوام میں احساس محرمیاں ختم ہو گی۔اس موقع پر محکمہ برقیات ہنزہ نگر کے اسسٹنٹ ایگز یکٹو انجینئر ہنزہ ۔۔۔ نے احتجاجیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مرتضی آباد اور شناکی علاقے کے لئے جس مشین سے بجلی فراہم کرتے تھے فنی خرابی کے باعث مشین بند ہے انشاللہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے اندر مشین کو ٹھیک کرکے عوام کو بجلی بحال کردی جائے گی جبکہ اج شام افطار اور صبح سحری کےلئے دو گھنٹوں کے لئے تھرمل جنریٹر سے بجلی عوام کو فراہم کردی جائیگی ایس ڈی او ہنزہ نے مزید کہا کہ اس وقت ہنزہ میں بجلی کی پیداور صرف 1.7میگاواٹ ہے جبکہ ہنزہ میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لئے کم از کم 5میگاواٹ بجلی درکار ہے جس کے لئے محکمہ برقیات ہنزہ کے مخٹلف علاقوں میں بجلی کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے انشاللہ آئندہ یک سال کے اندر دو میگاوٹ بجلی سسٹم میں شامل کرینگے۔ جس پر خواتین نے اپنے احتجاج کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ دو دنوں کے اندر مشین کو ٹھیک نہیں کیا گیا تو نہ صرف مرتضی آباد بلکہ شناکی تک خواتین شاہراہ قراقرم پر نکلے گے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s