عوامی ورکر پارٹی کو انتخابات سے دور رکھنے کے لئےموجودہ حکومت نے مختلف ہر بحد استعمال کیا

Flag_of_Awami_Workers_party

 ہنزہ ( اجلال حسین ) عوامی ورکرپارٹی ہنزہ کا گزشتہ روز ہنگامی پر ہجوم پریس کانفرنس ہوا جس میں عوامی ورکرپارٹی ہنزہ کے عہداران شریک ہوئے ، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں سپرئم اپیلٹ کورٹ کی جانب سے چیف کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے باباجان اور ان کے 14 ساتھیوں کو سزا برقرار رکھی ہے وہ سراسر ناانصافی اور جھوٹے مقدمات اور جھوٹے گواہان کی کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں عوامی ورکر پارٹی کو انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہو گئے مگر ضمنی انتخابات میںؓ عوامی ورکر پارٹی کی مقبولیت کو دیکھا کر حکمران جماعت بوکھلا ہیٹ کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے عوامی ورکر پارٹی کو انتخابات سے دور رکھنے کے لئے گلگت بلتستان کے انتظامیہ نے مختلف ہر بے استعمال کیا۔ عوامی ورکر پارٹی نے کہا کہ گزشتہ دنوں سپرئم اپیلٹ کورٹ کی جانب سے جو فصلہ ہوا ہے ان کی تفصیلی فصلہ ہمیں موصول نہیں ہوئی ہے جس کا بعد آئندہ لائے عمل کا فیصلہ کر دیا جائے گا تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے عوامی ورکر پارٹی کے مقبول ترین امیدوار کے خلاف اہل یا ناہلی کا فیصلہ نہیں ہوتا تب تک انتخابی مہم جاری رہے گا اس کڑی کو آگے اج ہنزہ ناصر آباد میں عوامی ورکر پارٹی کا انتخابی جلسہ منعقد ہوگا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ورکر پارٹی کے رہنماوں نے کہا کہ حالیہ دنوں سپرئم اپلیٹ کورٹ کی جانب سے جو فیصلہ سنایا گیا ہے اس کی نظر ثانی کے لئے عوامی ورکر پارٹی دوبارہ سپرئم اپلیٹ کورٹ سے رجوع کرئینگی جس کے بعد جو فیصلہ حتمی ہو گا عوامی ورکرپارٹی اپنے آئندہ لائحے عمل کا اعلان کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ سانحہ علی آباد کے واقعے کے بعد جِس کی وجہ سے لوگ اشتیال میں آگئے رد عمل کے طور پر تھانے کو جلانے کا واقعہ پیش آیا ۔جس کے بعد معزز جج محمد عالم کے سربراہی میںجوڈیشل کمیشن عمل میں لایا گیامگر جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرعام تک نہیں لایا گیا جس کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے جبکہ بچہ بچہ جانتا ہیں دو معصوم لوگوں کو بیج بازار میں قتل عام کیا لیکن ابھی تک اُن کو کوئی انصاف نہیں ملا ۔ہم عوامی ورکر پاٹی انصاف کی فراہمی کے لیے ہر قانونی اور عدالتی راستہ اختیار کرتے ہوئے سپرئم اپلیٹ کورٹ کے جج صاحبان سے اپیل کرتے ہیں کہ از خود نوٹس لیتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام تک لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ بے گناہ افراد اس جھوٹے مقدمے سے بچ سکے۔عوامی ورکر پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ گلگت بلتستان کا موجودہ سلف گورننس آرڈر کے تحت ایمپارمنٹ 2009کے مطابق عوام کو اُن کے جمہوری سیاسی عدالتی اور معاشی حقوق دینے کے بجائے اہیں ان کے حقوق کو غصب کرلیتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کا عدلیہ آزاد اور خودمختار نہیں مگرگلگت بلتستان میں یہ سب انتظامی حکم کے تحت قائم ہیں ۔عوامی ورکر پارٹی نہ صرف ہنزہ بلکہ پورے گلگت بلتستان کی جمہوری قوتوں عوام دوست محب وطن سیاسی پارٹیوں اور انسانی حقوق کے تنظموں کے ساتھ مل کر عوام کو بااختیار اور آزاد عدلیہ اور آزاد اسمبلی کے حصول کے لیے جدوجہد کرینگے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں عوامی ورکر پارٹی کے رہنماوں نے کہاکہ اگر عوامی ورکرپارٹی کے مقبول ترین امیدوار کو اناہل قرار دیا تو ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہنزہ میں ہونے والی انتخابات کو از سر نو انتخابی شڈول کا اعلان کر وائے تاکہ عوامی ورکرپارٹی کے امیدوار انتخابی مہم میںبھر پور طریقے سے حصہ لے سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان وکلاءکا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے عوامی ورکز پارٹی کے مقبول ترین امیدوار باباجان اور ان کے بے گناہ ساتھیوں کے ترجمانی کرتے ہوئے عدالت میں نمائیدگی کی جن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر آمجد حسین ایڈوکیٹ ، نذیر ایڈو کیٹ اور احسان علی یڈوکیٹ جنہوں نے بغیر معاضہ ان بے گناہ افراد کا مقدمہ لڑا ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s