کُوہ غذر | ہدایت اللہ اختر

hidayat-ullah


کُوہ غذر | ہدایت اللہ اختر


پونیال اشکومن گوپس یاسین جی ہاں یہ سب اب ضلع غذر کی تحصلیں ہیں۔کسی زمانے کی بات نہیں ہے ماضی قریب تک یہ تمام علاقے راجوں کے ماتحت تھے۔اور گلگت کے باسی سارے علاقے کو پویاں کے نام سے یاد کرتے تھے یاد رہے کہ شینا میں پونیال کو پویاں کہا جاتا تھا اور اب بھی ضلع غذر کو گلگت اور یہاں کے مقامی لوگ پویاں کے نام سے ہی پکارتے ہیں ۔اگر اسی نسبت سے دیکھا جائے تو ضلع کانام پونیال ہونا چاہئے تھا ۔لیکن جب راجگی نظام ختم ہوا اورضلع کا قیام عمل میں لایا جا رہا تھا تو ایک دم اور اچانک سے ایک نیا نام غذر لوگوں کی زبان پر آیا شائد ہی اس وقت لوگوں کو پتہ ہو کہ غذر نے ضلع کے نام کا روپ کیسے دھارا۔قیاس اب بھی یہ ہے کہ آج بھی شائد اکثر لوگوں کو اس بارے پتہ ہو۔ ضلع کے ہیڈکوارٹر گاہکوچ سے ضروری خریداری سے فراغت اور تھوڑی دیر سستانے کے بعد اگلے لحمے ہم اپنی منزل کوہ غذر کی طرف رواں دواں تھے ۔ کوہ غذر جس کی حدود دماس سے ذرا آگے ہائمن گائوں سے شروع ہوکر شندور تک پھیلی ہوئی ہیں۔گاہکوچ کی حدود ہائمن کے فورا بعد ہی کوہ کا پہلا گائوں جج بارگو آپ کے نظروں کے سامنے ہوتا ہے ۔ ہمارا سفر اب کوہ کے علاقوں میں جاری تھا۔پہاڑی علاقوں میں زگ زیگ راستوں پر سفر کرتے ہوئے ایک اور حسین منظر سے واسطہ پڑتا ہے جو شائد ہی گلگت بلتستان کے علاوہ کہیں اور دیکھنے میں آتا ہو۔ پل میں سورج طلوع اور پل میں سورج غروب ہر لحمے ایک نیا منظر ہر موڑ پر ایک نیا احساس اور یوں یکے بعد دیگرے جج بارگو، یانگل ہوپر ، روشن، ہکس گوپس، جنڈروٹ ،خلتی۔ دھیمل ،سرالو کھوٹو، سوسٹ ،پنگل، روت ، شمرن ،چھشی جو کوہ کے علاقے کہلاتے ہیں آپ کا استقبال کر رہے ہوتے ہیں چھشی کوہ کا آخری گائوں ہے اور جب چھشی کی حدود ختم ہوجاتی ہے تو غذر کا پہلا گائوں پھنڈر اور یہاں موجود خوبصورت جھیل آپ کی قدم بوسی کی راہ تک رہی ہوتی ہے۔پھنڈر ،گلاغمولی ، ، گلاغ تری، ہندراپ ، ٹیرو ،برست ،چومر کھن پُل، لنگر ، اور پھر غذر کا اخری پڑائو شندور جو سطح زمیں سے تین ہزار سات سو اٹھتیس میٹر کی بلندی پردنیا کا بلند ترین پولو گرونڈ واقع ہے جہاں ہر سال گلگت اور چترال کی ٹیموں میں پولو مقابلہ منعقد ہوتا ہے جسے شندور میلہ کہا جاتا ہے۔ ضلع بننے تک کوہ غذر میں راجہ حسین علی مقپون کا طوطی بولتا تھا جو یہاں کا گورنر کہلاتا تھا۔اب وقت کے دھارے میں سب کچھ بہہ گیا ہے نہ اب راجہ حسین ولی اس دنیا میں ہیں اور نہ اب کوہ غذر کا نام رہ گیا ہے۔ہاں کوہ غذر گوپس یاسین کے نام میں اور غذر ضلع کے نام میں تبدیل ہواْ ہے۔چلتے چلتے کوہ غذر کی وجہ تسمیہ بھی کوہ اور غذر کھوار زبان کے الفاظ ہیں جس کے معانی گرم اور ٹھنڈے علاقوں کے ہیں کوہ گرم علاقے اور غذر اشک ٹھنڈے علاقے ۔ اب اگر آپ اس ٹھنڈ اور گرم موسموں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو حسین اور خوبصورت ضلع غذر کا سفر تو اختیار کرنا ہی پڑیگا ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s