بابا جان نے حکمران جماعت کو مشکل میں ڈال دیا

Communisit BABA JAN

گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ 6میں ہونے والا ضمنی انتخاب وہاں کی حکومت کے لیے گلے کی ہڈی ثابت ہو رہا ہے۔ مختلف حربے استعمال کر کے بھی جب حکومت بابا جان کو ان انتخابات میں حصہ لینے سے نہ روک سکی تو روایت کی پاسداری کرتے ہوئے عدالت کو استعمال کر کے اس ضمنی انتخاب کو ہی ملتوی کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ان ضمنی انتخابات کی پاکستان کے لوگوں کے لیے اہمیت یوں ہے کہ ان انتخابات میں عوامی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں پابند سلاسل، ہر دلعزیز عوامی راہ نما بابا جان کی کامیابی کے امکانات روشن دکھائی دے رہے تھے۔ حکومتوں کے جبر ہر جگہ ایک سی شدت سے کار فرما نظر آتے ہیں۔ اوکاڑہ میں کسانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے لوگ ہوں یا متاثرین عطا آباد جھیل کے لیے ان کا حق مانگنے والے، ہر دو کے مقدر میں جیل کی سلاخیں اور بد ترین ریاستی تشدد ہے۔
پاکستان کے میڈیا میں کسی کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ ہنزہ جیسے علاقے میں ریاستی تشدد کے شکار کسی سیاسی کارکن کے بارے میں کوئی بات کرے، ان کے پاس کرنے کو اور بہت کچھ ہے۔ اسی لیے بہت کم لوگوں کو یہ علم ہو پاتا ہے کہ بابا جان کون ہیں اور ان کو کیوں ریاست نے پابند سلاسل کر رکھا ہے۔ اگر اوکاڑہ کی انجمن مزارعین کے مہر عبدالستار کی کہانی لوگوں کو معلوم ہے تو بابا جان کی مہم کے محرکات اور جغرافیائی بُعد کے سوا باقی سب ظلم ایک سے ہیں، عزم و ہمت کی کہانی ایک سی ہے۔ عطا آباد کی جھیل کے بارے میں ہمیں علم ہے کہ ایک بڑی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 2010ء میں یہ وجود میں آئی۔ اس قدرتی آفت نے ہزار کے قریب لوگوں سے ان کا سب کچھ چھین لیا۔ ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی تھی۔ ایسے میں ان مظلوموں کی آواز بن کے بابا جان سامنے آئے۔ انہوں نے مختلف جگہوں پر ان لوگوں کی حالت زار کے بارے میں آواز بلند کی تو ان متاثرین کی شنوائی ہوئی۔

baba JAN HUM SUB

چار سو ستاون خاندانوں کی ایک فہرست تیار کر کے حکومت نے ان متاثرین کو ادائیگی کرنے کی حامی بھر لی۔ تاہم اس فہرست میں شامل 25خاندانوں کو ان کے حق سے محروم رکھا گیا۔ بابا جان کے لیے آلام اور جدو جہد اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا تھے جب تک متاثرین عطا آباد جھیل کا آخری فرد بھی دوبارہ اپنی نارمل زندگی کی جانب نہ لوٹ جاتا۔ 11اگست2011کو یہ متاثرین علی آباد میں اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ایک احتجاجی مظاھرہ کر رہے تھے۔ پولیس نے اپنا روایتی کردار ادا کرتے ہوئے پہلے ان متاثرین پر لاٹھی چارج کیا۔ عزم کے پکے یہ لوگ جب منتشر نہیں ہوئے تو پولیس نے ان پر آنسو گیس سے حملہ کیا۔ اس پر بھی یہ لوگ پیچھے نہیں ہٹے اب پولیس نے مظاہرین پر گولی چلا دی۔ بائیس برس کا نہتا افضل بیگ، ان ظالموں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ اس کے بوڑھے باپ، شیر اللہ بیگ نے، جس سے فطرت پہلے ہی اس کی ساری متاع چھین چکی تھی، جوان بیٹے کی لاش لیے بغیر وہاں سے جانے سے انکار کر دیا۔ ظالموں نے اسے بیٹے کی لاش تو نہ دی البتہ بوڑھے باپ کو اس کے بیٹے کے پاس پہنچا دیا۔
ان دو معصوموں کی جان جانے کے بعد بابا جان نے اپنی مہم میں مزید تیزی پیدا کر دی۔ متاثرین کا ان کا حق دلوانے کے ساتھ ساتھ بیگ خاندان کو انصاف دلانے کا مقصد بھی اب اس جدو جہد میں شامل ہو چکا تھا۔ پولیس انصاف کیا مہیا کرتی اس نے الٹا انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کو ہی دھر لیا۔ بابا جان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر کے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا گیا۔ یہاں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بد ترین تشدد کانشانہ بنایا گیا۔ گھنٹوں بابا جان کو لاٹھیوں سے پیٹا جاتا اور ان کے ننگے پیروں کو پولیس والے اپنے بوٹوں تلے کچلتے۔
اب ایک نہیں یہ دوسری جمہوری حکومت ہے اور بابا جان جیسے سیاسی کارکن ابھی بھی پرامن احتجاج کی پاداش میں دہشت گردی کا الزام بھگت رہے ہیں۔ بابا جان کو ایک مقدمے میں ملنے والی عمر قید کی سزا گلگت کی چیف کورٹ منسوخ کر چکی ہے جب کے دوسرے مقدمے میں ان کی اپیل عدالت میں زیر سماعت ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخاب لڑنے کی اجازت ملنے کے باوجود بابا جان کے بارے میں گلگت بلتستان کی عدالت کا حکم سمجھ سے باہر ہے۔ سیاسی لڑائی سیاسی میدان میں ہی اچھی لگتی ہے اور پاکستان کی تینوں بڑی پارٹیاں جو ہر دم جمہوریت کی مالا جپتی ہیں وہ ایک عوامی راہ نما کو یہ حق بھی نہیں دینا چاہتیں کہ وہ ان کے بڑے بڑے جغادری لیڈروں کے مقابلے میں انتخابات میں کھڑا ہی ہو سکے۔
ہنزہ کے اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے میر غضنفر، پاکستان پیپلز پارٹی کے ظفر اقبال اور تحریک انصاف کے اظہار ہنزائی میدان میں ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی اپنے پابند سلاسل راہ نما کو انتخاب میں کامیابی دلانے کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ورکرز سارے خطے سے اس انتخاب میں بابا جان کے لیے حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ نہ صرف اس خطے سے بلکہ سارے پاکستان سے بائیں بازو کے حمایتی اور عوامی ورکرز پارٹی کے درجنوں راہ نما اور کارکنان اس وقت ہنزہ میں بابا جان کی حمایت میں مہم چلا رہے ہیں۔ یہاں بابا جان کے لیے پیدا ہونے والی حمایت کے نتیجے میں ہی مخالفین تکنیکی بنیادوں پر بابا جان کو اس انتخاب سے باہر رکھنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ گلمت میں بابا جان کی حمایت میں نکلنے والی ریلی کسی صورت میں عمران خان کی ریلی سے کم نہیں تھی۔
بابا جان جیسے سیاسی کارکن کے بارے میں خود گلگت بلتستان کے موجودہ وزیر اعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ سابقہ حکومت نے ایک سیاسی کارکن پر ظلم کیا لیکن اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ حکومت میں ہونے کے باوجود بھی گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت ان کے خلاف عائد بے بنیاد مقدمات واپس لینے کی بجائے ان کے انتخاب میں حصہ لینے میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ یہ جمہوری سیاسی کلچر ہے؟ سیاسی کارکن پاکستان کے کسی بھی خطے میں ہو پر امن احتجاج کرنااس کا حق ہے یہ حق کیسے غصب کیا جا سکتا ہے؟ المیہ یہ ہے کہ جب پاکستان کی ’’جمہوری‘‘ سیاسی حکومتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ پاکستان بھر میں کوئی سیاسی کارکن جیل میں نہیں تو وہ بابا جان کو بھول جاتی ہیں۔ یا تو ان کے خیال میں گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں یا ان کے خیال میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگ اگر جمہوری سیاسی جدو جہد بھی کریں تو یہ جمہوری جدوجہد نہیں ہوتی۔
بابا جان کی جدوجہد اب ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ سی پیک کے اعلان کے بعد حکومت کو اب خدشہ ہے کہ بابا جان جیسے لوگ اس منصوبے میں موجود بڑے بڑے کمیشنوں کے لیے خطرہ ہیں تو اب ان کی رہائی اور بھی دور کی بات لگتی ہے۔ بابا جان کی انتخابی مہم میں حصہ لینے والے عوامی ورکرز پارٹی کے سیکرٹری جنرل فاروق طارق نے ہنزہ میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس جانب اشارہ بھی کیا کہ بابا جان جیسے سیاسی کارکنان بڑے لوگوں کی کمیشنوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ فاروق طارق نے اپنے خطاب میں کہا کہ سی پیک کو کامریڈ بابا جان سے نہیں بلکہ ظالم و جابر حکمرانوں سے خطرہ ہے ،یہ لوگ نہ صرف پاکستان کی بلکہ چین کے دولت کو بھی ہڑپ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’کامریڈ بابا جان سی پیک کے نہیں تمہاری محلات اور عوام کے وسائل لوٹ کر دولت بنا نے کے خلاف ہے ،باباجان اپنی ذاتی مفاد کے خاطر جیل نہیں گیا ہے بلکہ ان مظلوم متاثرین کے خلاف جیل کے سلاخوں کے پیچھے بند ہے۔‘‘فارق طارق نے کہا کہ یہ دو طبقوں کی جنگ ہے ایک وہ جو عوامی وسائل سے محلات اور عیش و آرم کرنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو عوام کو ان کے وسائل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔


بے شکریہ ہم شہری
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s