آگہی کو جُھکا نہیں سکتے” | ایم ایم قیزل”

mm qq.jpg


آگہی کو جُھکا نہیں سکتے” | ایم ایم قیزل” 


یہ مشہور کہانی ہم نے پچپن میں پڑھی تھی۔ یقینا قارئیں نے بھی یہ کہانی ضرور سنی یا پڑھی ہو گی کہ ایک مرتبہ جسی گائوں میں ایک کسان کو کہیں عقاب کا انڈہ ملا۔ وہ انڈے کو اپنے فارم میں لے آیا اور اسے اپنی مرغیوں میں سے ایک مرغی کے ڈربے میں اس کے انڈوں کے ساتھ رکھ دیا۔ کافی دنوں کے بعد اس انڈے میں سے ننھا عقاب پیدا ہوا۔ وہ چونکہ مرغی کے ڈربے میں پیدا ہوا تھا اس لیے اپنے آپ کو بھی مرغی کا چوزہ تصور کیا اور مرغی کے چوزو کی طرح ہی پرورش پائی اور خود کو مرغی سمجھ کر بڑا ہوا۔ وہ زندگی بھر اپنے آقا کا دیا ہوا دانہ دنکا چگتا رہا اور پوری زندگی اس صحن کی مٹی میں لٹ پٹ ہو کر کیڑے مکوڑے کھاتا رہا۔ ایک دن باقی مرغیوں کےساتھ کھیلتے ہوئے اس نے آسمان کی بلندیوں پر کچھ عقاب اور دیگر پرندوں کو اڑتے دیکھا۔ اڑان بھرتے پرندوں کو دیکھ کر اس نے حسرت سے ایک آہ بھری اور خود سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ’’کاش میں بھی ایک عقاب پیدا ہوا ہوتا اور آسمان کی ان بلندیوں کا پرواز کرتا۔” جب اس خواہش کا اظہار دوسری مرغیوں پر عیاں ہوا تو انہوں نے اس کا تمسخر اڑایا اور قہقہے لگاتے ہوئے کہا تم ایک مرغی ہو اور تمہارا کام عقابوں کی طرح اڑنا نہیں ہے۔ تم ایک پالتو حقیر پرندہ ہو، تمہارا کام آقا کا دیا ہوا سستا اناج کھانا اور انڈے دینا ہے۔ اس طرح باغیانہ روش اختیار کرو گے تو نہ صرف تم اکیلے لقمہ اجل بن جاو گے بلکہ ساتھ ساتھ ہمیں بھی زندان نما پنجرے کی صحبتیں سہنے پڑئنگے۔ یہ سن کر اس عقاب نے اڑنے کی حسرت دل میں دبائے مرغیوں کی طرح ذندگی گزاردی۔ راہ چلتے جس کسی نے بھی خیرات میں جو دانہ ڈالا چگتے اپنی حسرتوں پہ روتا رہا۔ ایک دن ہوا یوں کہ ایک دانا و بینا شخص کا یہاں سے گزر ہوا ۔ دیکھتا کیا ہے کہ ایک شاہین مرغیوں کے ساتھ اپنی شناخت بھولے دانے چگ رہا ہے۔ دانا شخص اس عقاب سے گویا ہوا۔ آخر تمہیں ہوا کیا ہے تم ایک عقاب ہو، تمہارے اندر خدا نے پرواز کی صلاحیت رکھی ہے، تم سمندر میں غوطہ مارنے کی صلاحیت رکھتے ہو، تمہارا خوراک تمہاری محنت و خون پسینے کا حاصل تازہ غذا ہے اور تم پرندوں کے بادشاہ ہو۔ تم ایک آذاد مخلوق ہو جس کا نشیمن بلند و بالا پہاڈوں کی چوٹیاں ہیں، تم کہاں ان مرغیوں کی باتوں آئَے ہو۔ چل ۔۔۔۔ میں تجھے پہاڑ کی چوٹی پر لےجاتا ہوں جہاں تیرے آباواجداد کا نشمین ہے۔ تجھے اس پہاڑ کی چوٹی سے پھنک دو نگا اگر تو ڈر گیا تو زمین سے ٹکرا کر مر جائے گا اور اگر ہمت کی توبادِ مخالف تجھے آسمان کی بلندیوں میں لے جائے گی۔ تجھے تیرا کھویا ہوا شناخت مل جائَے گا۔ عقاب یہ باتیں سن کر پہلے تو ڈر سا گیا کہ کہیں دیگر مرغیوں کو پتہ چلے کہ وہ اسکی شکایت کہیں اس ظالم مالک سے نہ کریں۔ اور وہ اسے زندان میں ڈال دے۔ مگر عقابی روح جو ایک بار اس میں بیدار ہوئی تو کہاں کا ڈر اور کس کا ڈر۔۔۔۔۔ اور اس دانا، ںڈر و بہادر آدمی کے ساتھ چل دیا، اس عقلمند انسان نے اسے پہاڈ کی چوٹی سے پھنک دیا، عقاب تیزی سے زمین کی طرف گرنے لگا لیکن جونہی اپنے پر کھول دیَے آسمان کی بلندی کی طرف اڈان بھرنے لگا ۔ اگر دیکھا جائے تو ہماری قوم کا بھی حال کچھ ایسا ہی ہے۔ قدرت نے جس احسن تقویم پر انسان کو جن خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ انسان اس معاشرےمیں کہیں ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتا۔ نہ جانے اس سیدھی قامت اور دو ٹانگوں سے چلنے والے مخلوق کو کس قسم کے رائلر مرغی کے زیر سایہ پرورش ملی ہے کہ جس کے ہاتھ سے علم کا دریا بہتا تھا۔ جس کے پیر ہزاروں میل کا راستہ پیدل چل کر بھی نہیں تھکتے تھے، جس کے خیال اور ہمت ایسی کہ وہ بادلوں سے اوپر سیاروں تک کو تسخر کرنے کی جستجو میں رہے، اسکی تیراکی ایسی کہ سمندری مخلوق دھنگ رہ جائے، اس کی آنکھیں ایسی کہ غیب کے رازوں کو نمایاں کرے اورانکے کان ایسے ستاروں پر پہنچے انسانوں سے ہم کلام ہو جائَے۔ کبھِی پہاڑوں کے اندر سرنگیں بنائے تو کبھی آبشاروں کو ہوا میں معلق کر دے۔ کبھی سمندروں کا رخ موڈے تو کبھی ریگستانوں کو سیراب کرے ، وہ انسان آج مرغیوں کی طرح سبسڈی گندم کھانے پہ مجبور ہے وہ انسان آج بنیادی انسانی حقوق سے محروم اپنے ہی صحن سے آسمان پر اپنے ہی جیسے انسانوں کی اڈان دیکھ کر خواہشوں کی آگ میں جلنے ہر مجبور ہے۔ وہ انسان آج خوف و ہراس میں مبتلا سہما ہوا ہے۔ ایک دنیا جہاں انسان تسخیر کائنات میں مصروف عمل ہے وہاں اس معاشرے کا انسان ذہنی غلامی کے شکنجےمیں جھکڑا ہوا ہے۔ اس معاشرے کی ذہن سازی بھی انہی مرغیوں کی طرح ہوئی ہے جو اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا ایک جرم سمجھتے ہیں، انہیں دانہ چکنا سکھایا گیا ہے۔انکی شناخت کو مسخ کر کے انہیں فارمی مرغی بنا دیا گیا ہے۔ اس صورت حال میں کیا کیا جائَے؟ ایسے میں ایک ایسا باہمت ، ںڈر ، بے باک ، بہادر، دور اندیش ، عاقل، انسان پرست رہمنا کی ضرورت ہے جو ہمیں بھِی اس عقاب کی طرح خود شناس بنائَے، جو اس معاشرے کو خودار بنائَے اور دانا و بہادر کسان سر زمین گلگت بلستان کا سپوت بابا جان ہے جو ہمیں مرغیوں کی بہکاوئے سے نکال کر ہمیں ہماری کھوئی ہوئی شناخت واپس دلائَے گا۔ وہ جو ہمارے نمائندے بنے اسمبلیوں میں بٹھیے ہیں وہ پالتو فارمی مرغیاں ہیں جن کا مطلب و مقصد صرف “مالک” کا دیا ہوا دانہ چگنا ہے۔ اگر آپ ذی شعوروعقلمند انسان ہیں اور آپ کے خواب دیکھتے ہیں اور تعبیر چاہتے ہیں، آپکا ضمیرزندہ ہے، آپ کائنات تسخیر کرنے والوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں، آپ کو محنت و حلال کی روٹی کھانے کو جی چاہتا ہے، عقلی عروج چاہتے ہیں، انسانی عظمتوں کا ادراک چاہتے ہیں، امن و انصاف چاہتے ہیں، اپنی نسلوں کو کرپشن و رشوت سے آزاد کرانا چاہتے ہیں، روشن مستقبل چاہتے ہیں اور اپنی کھوئی ہوئی شناخت چاہتے ہیں تو پھر اپنے خوابوں کو عملی جامہ دیجیئے، کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجیئے کیونکہ انہوں نے آپکو بھی اپنے ساتھ ہی پستیوں میں ڈالے رکھنا ہے۔ اپنی ووٹ کا صیح استعمال کیجئے اور یہ حکم خدا وندی بھی ہے کہ إن الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم یعنی یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔

Advertisements

One thought on “آگہی کو جُھکا نہیں سکتے” | ایم ایم قیزل”

  1. Pingback: مرغیوں کے بہکاوے میں مت آئیں | mmqizill

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s