بجٹ کا 37 فیصد حصہ صرف ایک خاندان کو دیا گیا،پیپلزپارٹی

Pakistan-budget-2013-14-Call-Circular-Government-of-Pakistan-Finance-Division-Islamabad-education-health-defence-new-tex1.jpg

گلگت(خصوصی رپورٹ)پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ نیب یہاں بڑے بڑے لوگوں کے کرپٹ بیٹوں کو کلین چٹ دینے کےلئے آیاہے اس طرح کے احتساب کوہم تسلیم کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں ۔ انہوںنے منگل کے روز گلگت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر گلگت بلتستان میں احتساب کرنا ہے تو تمام بڑے بڑے کرپٹ لوگوں احتساب کیا جائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نیشنل ایکشن پلان اورفورتھ شیڈول کو انتقامی کارروائی کے طورپر استعمال کرتے ہیں جن لوگوں نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا ہے ان کا تعلق کسی بھی کالعدم تنظیم سے ہوفورتھ شیڈول میں ان کا نام شامل نہیں ہے جبکہ جن لوگوں نے مسلم لیگ(ن) کوووٹ نہیں دیا ہے ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیاگیا ہے ۔ اور اس کا ہمارے پاس مکمل ثبوت موجود ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مولانا منیر اور نواز خان کا تعلق ایک ہی تنظیم سے ہے مولانا منیر نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا تھا اس لئے اس کانام فورتھ شیڈول میں شامل نہیں ہے جبکہ نواز خان نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ نہیں دیا تھا اس لئے ان کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیاگیا ہے اور اس طرح کے درجنوں نام ہمارے پاس موجود ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام ٹھیکے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو فروخت کئے جارہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ حسن سمائری اور محمد شاہ سمائری نام کے دو لیگی کارکن ہیں وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ہنزہ نگر کے تمام ٹھیکے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان دونوں لیگی کارکنوں کودےئے جارہے ہیں۔ ایک طرف یہ لوگ سیاسی کارکن ہیں دوسری طرف ٹھیکیداربنے ہوئے ہیں یہ صورتحال گلگت میں بھی ہے دیامر میں بھی ہے استور میں بھی ہے غذر میں بھی ہے اوربلتستان کے تمام اضلاع میں بھی ہے اگرٹھیکوں کی فروخت کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم پورے گلگت بلتستان میں احتجاجاً سٹرکوں پر آنے پر مجبور ہو نگے۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے گلگت بلتستان کے ترقیاتی بجٹ اور وسائل کو اپنے گھر کی لونڈی بنا رکھا ہے گلگت بلتستان کے بجٹ کا سینتیس فیصد صرف ایک خاندان کو دیاگیا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے اپنے بھائی کو جعلی ڈگری کی بنیاد پرگریڈ اٹھارہ میں سرجن لگانے کے بعد ریگولر کردیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ انتظامیہ کے تمام اعلیٰ آفیسروں کے علم میں یہ بات تھی کہ وزیر اعلیٰ کے بھائی کے پاس جو ڈگری ہے وہ جعلی ہے مگر اس کے باوجود انہوںنے وزیر اعلیٰ کے احکامات پر انہیں گریڈ اٹھارہ میں مستقل کیاگیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ایک ہسپتال کو شہید سیف الرحمن کے نام پر منسوب کیاگیاہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے تمام ہسپتالوں کو ہمارے قومی ہیروز کے نام سے منسوب کیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ اگروزیراعظم اور مریم نواز شریف ہنزہ کا دورہ کر کے الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو عوام انڈوں سے ان کا استقبال کریں گے ۔ انہوںنے کہا کہ کوہستان کے لوگ کے پی کے حکومت کی سرپرستی میں گلگت بلتستان کی زمین کوہتھیانا چاہتے ہیں مگرہم کسی بھی صورت میں ایسا ہونے نہیں دیں گے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی جی بی کے نائب صدر جمیل احمد نے کہا کہ جی بی کے جو حالات ہیں اس وجہ سے پی پی نے یہ محسوس کیاہے کہ ہم اپنی آوازعوام تک پہنچائیں صوبائی حکومت گلگت بلتستان میں ایک منظم سازش کے تحت دوبارہ اوپر سے فرقہ واریت پھیلانا چاہتی ہے حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو یہ خدشہ ہے کہ گلگت بلتستان دوبارہ فرقہ واریت کی لپیٹ میں کہیں نہ آجائے اور پھر سے کوئی دہشت گردی علاقے میں نہ ہو اگر ایسا ہوا تو تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پرعائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت فورتھ شیڈول میں مسلملیگ ن کو ووٹ دینے والوں کا نام شامل نہیں کیاگیا ہے جن لوگوں نے مسلم لیگ ن کو ووٹ نہیں دیا ان لوگوں کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیاگیا ہے ۔ اس حوالے سے سیکرٹری داخلہ کا یہ کہنا کہ ایجنسیوں کی رپورٹ پر ان لوگوں کا نام شامل کیاگیا ہے بالکل غلط ہے بلکہ ہوا یوں ہے کہ سیکرٹری داخلہ نے وزیر اعلیٰ کے گھر میں جا کر ان کے کہنے پر فور تھ شیڈول میں لوگوں کے نام شامل کئے ہیں ہم اسے مسترد کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ 2005میں گلگت میں کچھ ناخوشگوار واقعات ہوئے تھے جس میں سینکڑوں لوگ جی بی کے بے گناہ قتل ہوئے تھے اس کے بعد جب ہماری حکومت آئی تو ہم نے خطے کے تمام مکاتب فکر علماءو کلاءصحافیوں کو آن بورڈ لیتے ہوئے ان واقعات کی پیچھے جانے کی بجائے ایک ٹیبل میں بیٹھ کر گلگت میں قیام امن کے لئے قانون سازی کی ہم نے اپنی اسمبلی کے ذریعے قانون سازی کی وفاق سے یا وفاقی وزارت داخلہ کے کہنے پر کوئی اقدام نہیں کیا انہوںنے کہا کہ اکتوبر 2005ءمیں ایک واقعہ رونما ہوا تھا جسے پی پی پی ایک حادثہ سمجھتی ہے جس کی ایک جوڈیشل انکوارئری بٹھائی گئی جس کی رپورٹ کم از کم موجودہ صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کو پڑھنی چاہےے تھی انہوںنے کہا کہ ہمیں فوجی عدالتوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے ہمیں توقع ہے کہ وہ اس حوالے سے انصاف کریں گی لیکن صوبائی حکومت کی بدنیتی یہ ہے کہ اس نے اس کیس کو بھی فوجی عدالت کو بھیجوایا ۔انہوںنے کہا کہ اس وقت پورے گلگت بلتستان میں حالات خراب تھے پی پی پی نے قربانیاں دے کر امن قائم کیا اب صوبائی حکومت امن کی اس فضاءکوثبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔جمیل احمد کا کہنا تھا کہ ہمیں فوجی عدالتوں سے گلہ نہیں ہے کیونکہ وہ آئین کے تحت اب ایک ادارہ بن گئے ہیں اورتوقع ہے کہ وہ کوئی ظلم نہیں کریں گے لیکن پھر بھی ہم اسے صوبائی حکومت کی نااہلی اور بدنیتی سمجھتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہنزہ کے ضمنی الیکشن میں ہمیں خدشہ ہے کہ کیونکہ گورنر کا بیٹا الیکشن لڑرہا ہے اور مسلم لیگ ن نے حکومتی سطح پر ڈپٹی سپیکر کی سربراہی میں ایک سروے کمیٹی قائم کر کے باقاعدہ سروے کرایا جو کہ پری پول ریگنگ کی واضح مثال ہے اب ہمیں بتایا جارہا ہے کہ وزیر اعظم میاں نوازشریف بھی گلگت آرہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے ہنزہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے حکومتی شخصیات پر پابندی عائد کررکھی ہے اس کے باوجود گورنر اور وزیر اعلیٰ ہنزہ گئے اور مختلف اعلانات کئے ۔ انہوںنے کہا کہ جی بی پاکستان کا واحد خطہ ہے جس کے 24میں سے 11حلقوں کے الیکشن نتائج کو امیدواروںنے چیلنج کیا ہے اور وہ عدالتوں میں ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ضمنی انتخابات کے دوران ہنزہ میں حکومت کو اعلانات سے روکے اگر ایسا ہواتو پی پی پی بھرپور مذاحمت کرےگی ۔انہوںنے کہا کہ تھور اور ہربن کے حدود کے حوالے سے ہماری حکومت نے کمیشن بنایا تھا کو سرد خانے کی نذر کیاگیا اور اس وقت صوبائی حکومت خاموش تماشائی بن گئی ہے ہم وفاقی سطح پر اس مسئلے کو اٹھانے کا صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں تاکہ وہاں مزید قتل و غارت گری سے لوگوں کو روکا جاسکے۔انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ ن کی بدولت آج دنیا میں مشہور ہے کہ پاکستان کا وزیر اعظم چور ہے اور اب اسی طرز پر جی بی کی صوبائی حکومت بھی اپنے گھر کے افراد کے علاوہ کسی کی بات نہیں سن رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر اعلیٰ نے اپنے گھر کے ایک شخص کو دوبارہ بھرتی کیا جبکہ عدالتوں نے اس پرپابندی عائد کررکھی تھی ۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے گھر کی تزائین و آرائش کا 58لاکھ کا ٹھیکہ اپنے ایک رشتہ دار کو دیا ہے بغیر ٹینڈر کے اور ایم ایس کی جگہ اپنے بھائی کو اس گھر میں منتقل کررہاہے۔انہوںنے کہا کہ وزیراعلیٰ کا بھائی گریڈ18میں کنٹریکٹ ملازم تھا جسے مستقل کیا انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ ن کی کرپشن کے ثبوت ہم اکٹھا کررہے ہیں اور سال پورا ہوا تو وہ بھی سامنے لائیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ لوگوں کی زمینیں سرکاری اداروں کو وزیراعلیٰ مفت بانٹ رہے ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت لوگوں کو پیسے دے کر زمینیں اٹھائیں ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s