کیا بابا جان نئی تاریخ رقم کرے گا ؟

Jabar

کیا بابا جان نئی تاریخ رقم ہونے دے گا؟؟

تحریر: عبدالجبارناصر

شہزادہ سلیم شہنشا جلال الدین اکبر کا ہو یا گورنر میر غضنفر کا ناز ایک طرح کے ہوتے ہیں۔ جلال الدین اکبر ہو یا میر غضنفر شوق اور خوائش ایک طرح کی ہوتی ہے ۔ جلال الدین اکبر نے اپنی خوائش کی تکمیل کے لئے غریب انارکلی کو دیوار میں زندھ چنوادیا یعنی غریب کے عوام کےارمانوں کا خون کیا۔ فلم مغل اعظم میں تو یہ بتایاگیاکہ انار کلی کو اس کی ماں نے بچالیامگر بعض موئرخیین کا کہنا ہے کہ یہ درست نہیں ہے ۔گلگت بلتستان کی حسین وادی ہنزہ کے شہنشاہ میر غضنفر نے بھی اپنے شاہزادہ سلیم کے لئے غریب عوام کے ارمانوں کو خاک میں ملادیا۔ ویسے میر صاحب بھی شہنشاہ اکبر کی طرح پکے ضدی ہیں۔ 2015میں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا ٹکٹ حاصل کیا جو اس موقع پر ان کاحق بھی تھا مگر خواتین کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کے وقت یہ ضد کردی کہ ایوان میں مہرانی جی (رانی عتیقہ غضنفر)کے بنا عمر کے اس حصے میں جی نہیں لگے گا،کمی بیشی مہرانی صاحبہ نے اپنے میکے(لاہور) فون کرکے پوری کردی اور یوں راجہ صاحب کے ساتھ مہرانی جی بھی ایوان میں پہنچ گئی، دیکھئے شومئی قسمت کہ 21ویں صدی میں بھی وادی ہنزہ میں راجہ صاحب کو رعایا میں کوئی ایسی خاتون نظر نہیں آئی جو عوامی نمائندگی کے قابل ہو، حالانکہ پاکستان میں ہنزہ وہ علاقہ ہے جہاں 100فیصد شرح خواندگی ہے اور ہر شعبے میں یہاں کے عوام ترقی میں کسی سے کم نہیں ہیں۔ایوان تک رسائی کی کامیابی کے بعد راجہ صاحب اور مہرانی صاحبہ کی نظر یں وزیر اعلیٰ کے عہدے پر لگی مگر یہاں پر میاں صاحب نے کہا بحالت مجبوری مطالبے کو تسلیم نہیں کیا کیونکہ سیف الرحمان کا خون اورحافظ حفیظ الرحمان کی قربانی سامنے تھی۔اس ناکامی پر کچھ دن تک راجہ صاحب اور مہرانی جی اپنی پارٹی اور قیادت سے ناراض ناراض سے رہنے لگے ، دونوں کو ہنزہ کے عوام کے حقوق بھی یاد آئے ، ایک مکتبہ فکر کو نظر انداز کرنا بھی نظر آیا، کیونکہ گورنر کے لئے سکردو کے تابان مضبوط امیدوارتھے مگر مہرانی صاحبہ کے میکے سے رابطے اور میکے والوں کی اپنی بیٹی سے ہمدردی کام آئی اور پھر تابان کا پتا کٹ گیا۔ایک دن اچانک اعلان ہواکہ راجہ صاحب گورنر بن گئے۔ چلو عمر کے اس حصے میں یہ نمائشی عہدہ بھی عوام کوقبول مگر راجہ صاحب کی گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کی خالی کردہ نشست جی بی ایل اے 6 ہنزہ کے حوالے سے یہی امید تھی کہ اب کی بار راجہ صاحب انتخاب گھر کی بجائے عوام سے کریں گے مگر یہ کیا ہوا انہیں تو پورے ضلع ہنزہ میں مسلم لیگ (ن) کا کوئی ایسا کارکن یا رہنماء نہ ملا جو اس نشست کا اہل ہو یعنی عملاً قحط الرجال ہے اور راجہ صاحب اور مہرانی جی کی سفارش پر مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے شہزادہ سلیم کو ٹکٹ جاری کرکے مہرانی جی کے میکے کے بھائی ہونے کا حق ادا کردیا۔ اگر شہزادہ سلیم کامیاب ہوتے ہیں تو پھر گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک گھر کے تین افراد(باپ ، ماں اور بیٹا) ایک ساتھ اقتدار میں ہونگے۔ باپ گورنر ، ماں ممبر اسمبلی اور بیٹا بھی ممبر اسمبلی مگر یہ بظاہر ایک خواب ہی لگتا ہے کیونکہ عوام میں کافی تبدیلی نظر آرہی ہے ،لگتا یہی ہے کہ جس طرح غریب انار کلی نے شہزادہ سلیم کے باپ جلال الدین اکبر کو عملاً شکست سے دوچار کردیا اسی طرح کئی برسوں سے قید بابا جان بھی ہنزہ کے شہنشاہ میر غضنفر ، مہرانی جی(رانی عتیقہ غضنفر) ، شہزادہ سلیم (پرنس سلیم خان ) کے ارمانوں پرپانی پھیر دے گا۔ اب اصل امتحان ہنزہ کے عوام کا ہے کہ وہ 21ویں صدی میں بھی راجہ ، رانی اور شہزادہ سلیم کا انتخاب کرتے ہیں یا غریب بابا جان کا جس کا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے ۔ یہ باباجان کون ہے ؟ کیا ہے ؟ ہم کچھ نہیں جانتے ہیں بس اتنا جانتے ہیں کہ وہ ہنزہ کا عام آدمی ہے ، امید ہے کہ یہی عام آدمی ن لیگ کی قیادت کے غرور کو خاک میں ملادے گا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s