طبقاتی تقسیم |عنایت ابدالی

Picture1

انسانی زندگی مسلسل ارتقا ئی عمل سے گزر رہی ہے۔ دن بدن انسانی جدید سازوسامان سے آراستہ ہو رہی ہے۔سائنس کی ترقی ابھی مکمل نہیں ہوئی اس پر کام آج بھی بڑی تیزی سے جاری ہے اور دوسری جا نب سرد جنگ کے بعد اس کے اثرات پوری دنیا میں پھیل نمایاں ہیں۔ مغرب کی فلاحی ریاستوں نے بنیادی ضروریات اپنے شہریوں سے چھین لئے ہیں۔ سرمایہ داری اور انسانی زندگی کے مابین شدید کشمکش آج بھی جاری ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک جمہوریت کے نام پر اپنے شہریوں کو کچھ سہولیات فراہم کر رہے ہیں مگر پاکستان جیسے بدقسمت ترقی پزیر ملک کے شہری اج بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں۔
پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت فاٹا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں لوگوں کے حالات قابل رحم ہیں۔ سندھ کے ضلع تھر میں آج بھی بچے روٹی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں اور بلبلاتے ہوئے جان دے رہے ہیں، خیبرپختونخواہ حالت جنگ میں ہےاور بلوچستان میں محرومی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام اڑسٹھ سالوں سے نوآبادیاتی نظام کے شکنجے میں جھکڑے ہوئے ہیں لیکن اس تما م صور ت حال کے باوجود حکمرانوں اور بیوروکریسی کے کردار میں ذرہ برابر بھی کوئی کمی نہیں آ رہی ہے۔
اسلام آباد شہر میں سپریم کورٹ آف پاکستان،وزیر اعظم ہاوس، مختلف ممالک کے سفیروں کے قیام گاہوں، سرکاری اور غیر سرکاری اشرافیہ طبقہ کے اس شہر میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اج بھی بنیادی انسانی حقوق سے یکسر محروم ہیں۔ روٹی،کپڑا،مکان،تعلیم سمیت دیگر سہولیات سے محروم ان بستیوں کو کچھی آبادیوں کے نام سے لوگ یاد کرتے ہیں۔ یوں تو وہاں انسان رہتے ہیں مگر سی ڈی اے اور دیگر ملکی ادارے ان کو پختون،پنجابی اور عیسائی کے طور پر جانتے ہیں۔
اسلام اباد جہاں کروڑوں کھربوں کے گھروں میں صرف دوفیصد اشرافیہ رہتے ہیں وہاں ان کچھی بستیوں کے رہائشی اج بھی کچے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان کو کچھے گھروں سے بھی نکالا جا رہا ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ یہ افغان ہیں جب اس کا توڈ پیش کیا گیا تو سی ڈی اے نے بیان دغا کہ عیسائی آبادی کی وجہ سے مسلمان آبادی خطرہ میں پڑگئی ہے اور سیکورٹی خطرہ ہے۔
کئی سال پہلے جب اسلام اباد کو بنانے لگے تو اس وقت یہ محنت کش طبقہ خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں ، ہزارہ، جنوبی پنجاب سے یہاں آباد ہوگئے تھے اور اپنے پسینے سے اس شہر کو تعمیر کا تھا۔ مختلف علاقوں میں یہ محنت کش آباد ہوگئے اور چالیس سالوں سے اس شہر کے این سی پی شہری بن کے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ افغانی ہیں نہ ہندستانی، پاکستان کے قومی شناختی کارڑ ان کے پاس ہے مگر اپنے گھر سے چند دور اسلام اباد کے پوش علاقوں کے رہنے والے پاکستانیوں جیسے سہولیات ان کو میسر نہیں۔ اس کے باوجود آج بھی ان لوگوں کی بہت بڑی تعداد اشرافیہ کے گھروں سے لیکر اسلام آبا تک صفائی پر معمور ہیں۔ اگر ایک ہفتے کیلئے یہ کام کرنا بند کردیں تو اسلام اباد کچرا کنڈی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ کچھی آبادیوں میں رہنے والے ان محنت کشوں کو سی ڈی اے قبضہ مافیا، وزیر داخلہ دہشت گرد اور بعض میڈیا گروپ افغانی قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔
گزشتہ سال سی ڈی اے نے بزور طاقت ائی الیون کی آبادی مسمار کر دیا تھا۔ عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے کیس دائر کرنے پر باقی آبادیوں کو نہیں گرا سکے اور وہ کیس آج بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
قارئین کرام گزشتہ دنوں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طلباوطالبات کے ایک فورم (اسلام آباد سٹریٹ سٹور) نے کچی ابادی -10اور E-11 میں کیمپ لگائے تھے۔ نسٹ کے طالب علموں نے اپنی مدد آپ کے تحت کچی ابادی کے ان مکینوں میں کپڑے اور لنگر تقسیم کئے۔ بچوں کیلئے سیٹشنری کا سامان تقسیم کیا گیا۔ اس دوران طالبات نے چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ماتھے پر مختلف نقشے بنا کر ان کو خوش کرنے کی کوشش کی۔اس کیمپ کے اخر میں نسٹ کے ان رضاکاروں نے بچوں میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے ان کے ساتھ کھیل بھی کھیلے۔
اس کیمپ کے انچارچ حا جیلہ تھی ۔ کیمپ کے سیکنڈ انچارچ کامل احسان سے جب میری بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ نسٹ کے طلبا وطالبات اسلام اباد میں غریبوں کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت مختلف پروجیکٹ غریبوں کے ساتھ ہمدردی کے لئے چلا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ کیمپ بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ کامل کا کہنا تھا کہ انہوں نے D-12 اورE-11 کے رہائشیوں کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کیلئے اج یہاں پر جمع ہوگئے ہیں ۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی طالبہ حسینہ امیر کا کہنا تھا کہ اسلام اباد کے کچی ابادیوں میں رہنے والے افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تقسیم کو ختم کرنا چاہے اور ان کے بچوں کو بھی پڑھنے لکھنے کے سہولیات ملنی چاہیں جب تک غریب طبقے کو نظرانداز کیا جائے گا تو معاشرے میں امن ،خوشحالی اور بھائی چارگی کو فروغ نہیں مل سکتی ہیں۔
ایک طرف حکمران ،سرکاری و غیر سرکاری ادارے ہیں جن کو شاہد یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس شہر میں لوگ آج بھی روٹی،کپڑا ،مکان اور تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولیات کیلئے ترس رہے ہیں۔ شاید ان کے طر ز حکمرانی میں عوام کے ٹیکس سے بیرونی و اندرونی دوروں کا مزہ لینا ہے۔ غریب کے بجٹ سے جیب بھرنا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کمیشن وصول کرکے اپنے اولادوں کیلئے جائیداد بنانا ہے۔ سامراجی طاقتوں کے ایجنٹ پاکستانی خاندانی سیاستدانوں نے شاید یہ قسم کھا رکھی ہے کہ اس ملک میں لوٹ کھسوٹ کرکے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرے اور سامراجی قوتوں کے آلہ کار بن کر اس دیس کے محنت کشوں کے زندگی اجیران کردے۔
بالعموم اس نفسانفسی کے دور میں انفرادی خواہشات کے طابع معاشرے میں اور بالخصوص نسٹ جیسی تعلیمی ادارے کے طلبہ و طالبات کے مثبت اور برابری کے سوچ پاکستان کے لئے اور یہاں کے محنت کش طبقہ کیلئے امید کی کرن ہے۔ انسانیت سے محبت کرنے اور بنی نوع انسان کے درمیان غیر انسانی تقسیم کو تسلیم نہ کرنا اس مادیت پسندی کے دور میں بہت مشکل کام ہے۔ تاج برطانیہ نے ہندوستان کو تقسیم کیا اور پاکستان کو جاگیرداروں کے حوالہ کرکے چلا گیاتھا۔ سیاسی اداروں بالخصوص طلبہ سیاست کو اس ملک میں پنپنے نہیں دیا گیا۔ تعلیمی ادروں میں ضیاالحق کے زمانے میں اسلحہ کلچر متعارف کرایا گیا۔ تعلیمی نصاب میں انسانی ہمدردی کی جگہ فرقہ وارانہ مواد اور تشدد کو اجاگر کیاگیا۔ خاض سوچ کے ذریعے ریاست کو انتہاپسندوں کیلئے نرسری کا درجہ دیا گیا۔اس ملک میں بہتری کیلئے سوچنے پر تادم تحریر پابندی عائد ہے جبکہ آپ چائیے تو مخالف نسل،فرقہ اور سوچ رکھنے والوں کے خلاف سربازار نفرت کا اظہار کرسکتے ہوں بشرط کہ اس نفرت کے ساتھ اپ ریاست کے نااہلی پر سوال نہ اٹھاؤ۔ مخالف کو نچلے درجے کے شہری، کافر اور وطن دشمن کہنے کے ساتھ اگر اپ فوجی و سول افسرشاہی کے ہر اقدام کی غیر مشروط طور پر حمایت کریں تو اپ سے کوئی سوال نہیں پوچھے گا۔ ضرب عضب، نیشنل ایکشن پلان، پاکستان پروٹیکشن بل ،اے ٹی اے و دیگر قوانین سے مکمل محفوظ رہیں گے۔
اخر کار اس ملک کے شہریوں کو سوچھنا چائیے کہ نجات کا راستہ کونسا ہے۔ نسٹ کے ان طلبہ و طالبات نے جس اصلاحی کام کا اغاز کیا ہے وہ قابل ستائش عمل ہے مگر کیا ہم طلباوطالبات، صحافی حضرات،دانش وروں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والوں کے ان کاموں سے یہ خونی نظام بدلے گا؟ کیا ہم کچی آبادیوں سے لیکر تھر میں بھوک سے مرتے انسانوں کی مدد کر پائیں گے؟ کیا اس عمل سے وزیر ستان میں کوئی تبدیلی ائے گی؟ کیا بلوچستان کے محرومیوں کو ختم ہونے میں مدد ملے گی؟ کیا گلگت بلتستان اور کشمیر کے انسانوں کو بنیادی انسانی حقوق اور اس نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارا مل سکے گا؟ یقیناً ان تمام سوالات کے جواب اس طرح کے اصلاحی کاموں سے ملنا مشکل ہے۔ اس سرزمین میں غیر انسانی اس سماج کو تبدیل کرنے کیلئے ہمیں اس ملک کے 98 فیصد عوام کو لیکر جدوجہد کرنا پڑے گی۔ جس میں طلبہ، کسان،مزدور، ہاری،مظلوم اقوام اور فرقوں کے ساتھ مختلف اکائیوں کی نمائندگی ہو۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s