داریل وزیرستان بنتا جارہا ہے

:تحریر ڈاکٹر زمان

آج سے کئ برس قبل میں جب وزیر آعظم پروگرام میں ملازمت کرتا تھا تب ایک کمیونٹی فرسٹ ایڈ پوسٹ کی افتتاح کرنے چند ڈاکٹروں کے ساتھ سب ڈویژن داریل کے گاوُں بشال گیا تھا روڈ نہ ھونے کی وجہ سے ہمیں گاڑیاں گیال گاوُں کے ساتھ مین روڈ پر چھوڑ کر گھوڑوں پر سوار ھو کر مطلوبہ مقام گاوُں بشال تک جا نا پڑا گاوُں والوں نے گاوُں پہنچنے پر روایتی انداز میں ھوائ فائرنگ کر کے استقبال کیا دوائ بشال پہنچانے اور فرسٹ ایڈ پوسٹ کا افتتاح کرنے کے بعد واپسی ہم پیدل میرے گاوُں پھوگچ پہنچے۔  میرے مہمان رات کو ہی واپس چلاس چلے گئے

zaman article

Reporter Times


تب مجھے بتایا گیا کہ کمانڈر نے میری روڈ سائڈ پر کھڑی گاڑی پر حملہ کیا یہ کمانڈر داریل کا نہیں بلکہ پنجاب کہیں کا تھا وہ پھوگچ گاوُں اور اپر داریل میں لو گوں کو خاص کر نوجوانوں کو عسکری تربیت دے رہا تھا وہ سرکاری تنخواہ حرام قرار دیتا تھا ، سرکاری اہلکار اور حکومتی نظام کو اپنا ہدف تنقید بناتا تھا۔ اس کی یہ ساری حرکات و سکنات حکومت کے سامنے جاری تھیں مگر حکومت اس پر خاموش تماشائ بنی رہی۔  پھر اس کمانڈر کے تربیت یافتہ لوگ حکومت کے لئے مسائل پیدا کرتے رھے۔


ایک وقت وہ پنجابی کما نڈر درمیان میں منظر سے غائب ھو گیا، علاقے میں اس کو کوئ ایجنسی کا بندہ تو کوئ اس کو جہادی طالبان کہتے تھے۔ ان کی اس جہادی کیمپ کے بارے میں میں نے ایک کالم بھی لکھا تھا اور اس تربیت کا مستقبل میں نقصانات پر لکھا تھا پر حکومت نے حسب روایت آنکھیں اور کان بند رکھے .
کہیں بھی حادثہ ھوتا حکومت ان کمانڈروں پر الزام لگا کر اپنے آپ کو بری الزمہ قرار دیتی رہی. جب ڈی ایس پی عطاءاللہ کا قتل تانگیر میں ھوا تو حکومت نے سیدھا الزام پھر کمانڈر خلیل اور ساتھیوں پر لگا دیا اور داریل پھوگچ میں جا کر کمانڈر خلیل کا گھر بمع سامان بارود سے اُڑا کر زمین بوس کردیا اور ملبے کو آگ لگا کر کمانڈروں کے ہمدردوں میں اضافہ کردیا اور کمانڈروں کو انتقام کی آگ میں جھونک دیا۔ اس واقع کے کچھ عرصے بعد چلاس سنٹر میں کمانڈر خلیل کےگھرکو آگ لگانے والے پولیس ایس پی ہلال ایک کرنل اور ایک کیپٹن کو شہید کر دیا گیا اس کے بعد حکومت کو جس کیس میں ملزم نہ ملتا زمہ دار کمانڈر خلیل شاہ فیصل اور حضرت نور کو ٹھرایا گیا ان کی سر کی قیمت مقرر کی گئ اس کے علاوہ ان کو پکڑنے کی کوئ سنجیدہ کوشش نہیں کی گئ .
ایک بار جب میں چھٹیاں گزارنے پاکستان گیا تھا قربان عید کے دوسرے دن کمانڈر خلیل شاہ فیصل اور حضرت نور میرے گھر کھنبری سیئر آئے تھے۔ میں گھر پر موجود نہیں تھا چلاس گیا تھا۔ وہ مجھے پیغام چھوڑ گئے تھے وہ اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کرنا چاہتے ہیں بشرطیکہ ان کے ساتھ انصاف ھو وہ عدالت میں اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کر کے ایک اچھا شہری بن کے زندگی گزارنا چاھتے تھے .
میں نے ان کی اس خواہش جہاں تک میری پہنچ تھی پہنچادی مگر کسی نے دلچسپی کا اظہار نیہں کیا دلچسپی نہ لینے کی وجہ خدا جانتا ھے.


اب  بروز جمعرات صبح سات بجے کمانڈر حضرت نور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا بقول سکیورٹی فورسسز کمانڈر نے خود کش کر کے اپنے آپ کو دو فوجی جوان اپنی بیوی بیٹی کو ہلاک اور دو معصوم طیبہ اور صوفیہ کو جن کی عمریں 9سال اور 4 سال کو شدید زخمی کیا جو اس وقت چلاس ھسپتال میں زیر علاج ھیں. کمانڈر حضرت نور کے ورثا کا بیان ھے گرنیڈ باہر سے پھنکے گئے تھے جس سے اتنی ہلاکتیں ھوئیں۔ اللہ جانے کیاسچ ھے یہ تو وقت بتائے گا۔


کمانڈر خلیل اور کمانڈر شاہ فیصل ابھی تک غائب ہیں. فرض کرتے ہیں کمانڈر حضرت نور دھشت گرد تھا پر ان کی بیوی بچی جو اس واقع میں ہلاک ھوگئیں ان کا کیا قصور تھا ان دو فوجی جوانوں کا کیا قصور تھا.
اس وقت میرے مشورے پر عمل کیا جاتا ان ملزمان کو انصاف ملتا تو اُس کے بعد یہ سارے واقعات نہ ھوتے دو فوجی کمانڈر حضرت نور اس کی بیوی بیٹی نہ مرتیں اور کمانڈر اور فوجی جوانوں کے بچے یتیم نہ ھوتے اب اس حادثے کے بعد جہادیوں کے لئے علاقے میں ہمدردی میں اضافہ اور زندہ بچ جانے والے کمانڈروں میں زندہ رہنے کی امید ختم اور انتقام کی آگ زور پکڑتی جارہی ہے۔ اب اللہ خیر کرے آگے کچھ نہ کچھ ھونے جارہا ھے اس لئے حکومت کو اپنے کان اور آنکھیں کھولنے پڑیں گے۔ ورنہ کسی بھی وقت کچھ بھی ھو سکتا ھے۔
اس کے علاوہ حکومت وقت کو انصاف کا بول بالا کرنا پڑے گا. معصوم بچوں خواتین کو دھشت گرد قرار دینے کا وطیرہ بدلنا ھوگا۔ نو جوانوں کو تعلیم دے کر روزگار دے کر اچھے شہری بنانا پڑے گااور خواتین کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا پڑے گا .
حکومت کو یہ ذہن میں رکھناھو گا پتھر دور نہیں اکیسوی صدی ھے بندوق اور گولی مسائل کا حل نہیں عوامی زمینوں پر نہیں دلوں پر قبضہ کیا جائے ورنہ علاقے میں لوگوں کے دل ودماغ میں پکنے والا لاوہ کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s