گلگت بلتستان کی تقسیم؛ ایک غیر دانشمندانہ تجویز

Giglit-Baltistan-Laaltain-890x395_c


Sher Ali Anjum:گلگت بلتستان کی تقسیم؛ ایک غیر دانشمندانہ تجویز


قوموں کی زندگی میں اُتار چڑھاو کا آنا کوئی بڑی بات نہیں لیکن کوئی قوم غافل رہے، اپنے حقوق کی جدوجہد کو علاقائی امن اور معاشرے کے لیے نقصان دہ سمجھ کر خاموش رہے اور کوئی آ کر اس قوم کو دو لخت کرنے کی سازش شروع کر دے تو یقیناً وہ قوم اپنی تاریخ، شناخت اور اہمیت سے ناواقف اور بے بہرہ ہے۔ گلگت بلتستان کی تاریخ کا اگر انقلاب گلگت بلتستان سے لے کر آج تک کے دور کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم تاریخی شعور سے محروم ہونے کے باعث ہی آج تک اپنی شناخت اور حقوق سے محروم رہے ہیں۔ یہی لاعلمی ہے جس کی وجہ سے ہم آج تک اپنی جدوجہد کے ثمرات حاصل نہیں کر سکے۔ ہمارے قومی ہیرو کرنل مرزا حسن خان مرحوم کو کئی بار سلاخوں کے پیچھے صرف اس لیے دھکیلا گیا کیوں کہ اُنہوں نے عوام کوان کے حقوق سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ آج بھی ہمارے ہاں یوم آزادیِ گلگت بلتستان سرکاری طور پر منایا جاتا ہے جو کرنل مزرا حسن خان اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کے لیے ایک خراج تحسین ہے۔

افسوس گزشتہ اڑسٹھ سالوں سے حسن خان کی سرزمین کو آئین اور قانون کے دھارے سے باہر رکھ کر ہمارے رہنما اور عوام اس بات کی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ ہم نے الحاق کیا تھا۔ یہ مغالطہ عام ہے کہ ہمارے آباواجداد نے قربانیاں دے کر اس خطے کو پاکستان میں شامل کرایا تھا۔ یہ تاریخی غلطی کہ ہم اپنے خطے کا ماضی کرنل حسن خان کی بجائے سردار عالم اور میجر بروان سے جوڑ رہے ہیں، ہماری اس خوش فہمی کی بنیاد ہے کہ کبھی نہ کبھی ہم گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہماری تمام تر خوش فہمیوں کے برعکس پاکستان میں ایک طرف تو اس معاملے کو کشمیر کے ساتھ نتھی کر دیا گیا اور دوسری طرف اس علاقے کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی حمایت بھی شروع کر دی گئی ہے۔ گلگت بلتستان کی تقسیم کا معاملہ اس علاقے کی جغرافیائی، دفاعی اور تجارتی اہمیت میں مزید سنگین شکل اختیار کرلیتا ہے۔ وفاق اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ یہاں کے حکمران اس قابل نہیں کہ وہ اس فیصلے کے خلاف کوئی بھرپور ردعمل پیش کر سکیں۔ اگر دیانت دارانہ تجزیہ کیا جائے تو


 جو نظام اس وقت گلگت بلتستان میں نافذ ہے پاکستان کے وفاقی اور آئینی بندوبست میں اس نظام کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ دستور پاکستان میں اس نظام کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ گلگت بلتستان کا سیاسی ڈھانچہ ایک صدارتی حکم نامے کے سہارے کھڑا ہے۔


آئین کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے نظام میں کسی بھی قسم کی ترمیم کرنے کے لیے وفاق ان ترامیم کی منظوری کے لیے سینٹ اور قومی اسمبلی کا محتاج نہیں۔ وفاق جب بھی محسوس کرتا ہے کہ اس کے مفادات کو زد پہنچنے کا خدشہ ہے تو مرکزی حکومت گلگت بلتستان کے معاملے پر فوراً اپنا موقف تبدیل کر لیتی ہے۔ اقتصادی راہداری کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے اس علاقے کو ہی تقسیم کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان کو قانونی حیثیت دینا ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے لیکن اس ضمن میں یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ہندوستان بھی اس علاقے کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اُس وقت ہوا جب ہم نے گلگت بلتستان کے حوالے سے ہندوستان کے ایک مشہور چینل پر

پرائم ٹائم پروگرام دیکھا۔ پروگرام میں میزبان اور مہمان یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ بھارت گلگت بلتستان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور گلگت بلتستان کو جو حقوق پاکستان نے نہیں دیئے، بھارت دینے کے لیے تیار ہے۔ پروگرام میں شریک پاکستانی تجزیہ نگاروں کا گلگت بلتستان کے حوالے سے لاعلمی اور خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔

اس صورت حال میں پاکستان کے حکمرانوں کو سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے خطے کی غیر آئینی حیثیت کے باوجود بھی پاکستان میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان اس خطے کے حوالے سے ہمیشہ پس و پیش سے کام لیتا آیا ہے۔ درحقیقت وفاقی حکومت کی انتظامی مشینری پر ایک ہی صوبے کا غلبہ ہے جو اس خطے کو کشمیر کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کا قائل ہے۔

گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت میں ہمارے وزیراعلیٰ سے لے کر ان کی کابینہ کے کسی رکن تک کو گلگت بلتستان کی تقسیم کی مبینہ تجویز کی سنگینی کا اندازہ تک نہیں۔ قاری حفیظ اپنے کئی ٹی وی انٹرویوز میں اس بات کی طرف اشارہ کر چُکے ہیں کہ خطے کومسلکی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے عوامی مطالبات موجود ہیں۔ استور کے ایک مولوی صاحب کے افشاء کرنے پر یہ ہانڈی بیچ چوراہے پھوٹی ہے وگرنہ تو اس حوالے سے عوام یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس خبر کے دوسرے دن سپیکر اعلان کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو ہم برداشت نہیں کریں گے۔ قاری حفیظ نے گلگت بلتستان کے کچھ حصے یعنی ہنزہ، نگر، گلگت اور یاسین کو ماضی میں ان علاقوں کے کشمیری راجاوں سے نام نہاد الحاق کی بنیاد پر بلتستان ریجن اور استور کو کشمیر میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ گلگت بلتستان کے علاقوں کو کشمیر میں شامل کرنے کے حوالے سے عوام کو باشعور بنانے کی ضرورت ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ بلتستان سے تعلق رکھنے والے تمام اراکیں قانون ساز اسمبلی قاری حفیظ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاتے ہیں یا قانون ساز اسمبلی اسے استعفیٰ دے کر ریاست کے جعرافیے کو بچانے اور اقتصادی راہدری میں مناسب حقوق دلانے کے لیے عوام کوسڑکوں پر لے کر آتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی تقسیم کی بات کرنے والا وزیراعلیٰ یقیناً اپنے لوگوں اور اپنے خطے کا غدار ہے۔ گلگت بلتستان ایک اکائی ہے اور یہاں کے لوگ اس علاقے کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔


تقسیم گلگت بلتستان کسی بھی طرح نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی یہاں کے سیاسی مسائل کا درست آئینی حل۔ ایسے ہی غیر سنجیدہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ماضی میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بیج بو چکا ہے، کیا اب مقامی آبادی کو بھی بلوچوں کی طرح مسلح مزاحمت کے ذریعے اپنی بات وفاق تک پہنچانا ہو گی؟


Contresy byLaaltain
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s