’فخر کیسا؟ بیٹے کو سکول بھیجا تھا میدان جنگ نہیں‘

Picture1

ہارون رشید

قیام پاکستان سے لے کر آج تک ایک فارمولا مجرب ثابت ہوا ہے۔ حکمرانوں نے اس میں مہارت کی وہ اعلیٰ صلاحیت پائی ہے کہ اس کی تعریف کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔

وہ صلاحیت ہے کسی بھی واقعے، حادثے یا سانحہ کے بعد اس کے ذمہ دار افراد کو بچانے اور تمام معاملے کو نظر انداز کرنے کی۔

آج پشاور سکول حملے کو ایک سال مکمل ہوا، اور شاید اس سے بہتر وقت نہیں ہو گا کہ ہم اس وقت کیا کھویا کیا پایا جیسے کلیدی اور بنیادی سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

سوالات بہت ہیں۔

یہ وقت شاید ان جیسے سوالات کے اٹھانے کا نہیں لیکن پس منظر کے لیے ان کا ذکر ضروری ہے۔


کارگل کس نے کیا اور کون اس لاحاصل مہم کا ذمہ دار تھا؟ افغان طالبان اور القاعدہ کے مسلح جنگجو منہ اٹھائے اس علاقے میں سالوں تک خون کی ہولی کھیلتے رہے، ہمارا کیوں ضمیر نہیں جاگا؟


قومی ایکشن پلان کو پشاور سکول حملے کا منتظر کیوں ہونا پڑا؟ شدت پسندوں کی فوج کو ملک کے اندر کن کی مدد حاصل تھی یا کس نے ان کی سرگرمیوں سے پہلو تہی کرتا رہا؟


القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھی کیسے زندگی پانچ سال تک ایبٹ آباد میں پرامن اور پرآسائش بسر کرتے رہے؟


 

اس کے توڑ کے لیے کیسے امریکہ صاحب منھ اٹھائے دو مئی 2011 کو کتنی آسانی سے وہاں پہنچے اور مار کر لاش تک ساتھ لے گئے۔ یہ صرف اسامہ تک کی بات نہیں بلکہ نیک محمد، بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود جیسے شدت پسند بھی ہم نہیں ختم کر سکے بلکہ امریکہ صاحب کو کرنا پڑا۔ سوال بہت ہیں۔

ان تمام واقعات میں حکومت پاکستان اور اس کے ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے؟ پشاور سکول حملے کے متاثرہ والدین اگر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ سکول کی سکیورٹی کی ذمہ داری کس کی تھی، کیوں اور کس نے ایک سال قبل اس کی سکیورٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا؟

کیا کسی نے ان سوالات کے جواب تلاش کرنے یا دکھی والدین کو مطمئن کرنے کی کوشش کی؟ گذشتہ دنوں جن چار افراد کو سکول کے حملے کے لیے پھانسی پر لٹکایا گیا وہ کون تھے، ان کا کردار کیا تھا، انھیں ملوث ثابت کرنے کے شواہد کیا تھے؟

یہ سب عوام جاننے کا حق رکھتے ہیں۔ اکثر لوگوں کے لیے یہ محض چار نام تھے جو کوئی زیادہ معنی نہیں رکھتے۔ ایک ماں کا درست کہنا تھا کہ وہ تو ان کے مجرم تھے انھیں تو کم از کم اس بابت اعتماد میں لیا جاتا۔

ایک چھوٹی مثال۔

اب بھی افسوس ہوتا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت خفیہ ایجنسیوں کے درمیان رابطہ بڑھانے کی ضرورت کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کی بات کی گئی۔

ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اس ادارے کو موثر بنانے کے لیے انھیں 35 ماہر افسران چاہییں، لیکن وہ اب تک محض تین افسر فراہم کر سکے ہیں۔ وجہ انتہائی کمزور بتائی گئی ہے، اور وہ یہ کہ یہ سینیئر افسران جہاں اس وقت تعینات ہیں وہاں انھیں چار کنال پر محیط رہائش اور ان گنت ملازم اور سرکاری گاڑیاں دستیاب ہیں۔ وہ یہ سب چھوڑ کر اسلام آباد جیسے مہنگے ترین شہر میں کیوں آئیں جہاں وہ خاندان کو بھی ساتھ نہیں رکھ سکتے؟

اس میں دو پہلو چبھتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ذاتی آرام اور آسائش قومی ضرورت پر مقدم ہے، دوسرا یہ کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مفید ثابت ہو سکتے ہیں تو انھیں اسلام آباد میں حاضر کرنے کا حکم جاری کرے۔


کسی کی کیا مجال کہ وہ نہ کریں۔ لیکن یہ معاملہ آخری اطلاعات تک تاخیر کا شکار ہے۔

ایک ٹی وی چینل پر کسی اینکر نے متاثرہ والد سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے؟

جواباً والد گویا ہوئے ’فخر کیسا؟ میں نے تو اپنے بیٹے کو یونیفارم میں سکول بھیجا تھا اس کو وردی پہنا کر میدان جنگ میں نہیں بھیجا تھا۔۔۔ فخر وہ محسوس کریں جو اپنے بیٹوں کو میدان جنگ میں بھیجتے ہیں۔‘


بشکریہ بی بی سی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s