“یہ وہی ہے نا جو گندی کہانیاں لکھتا ہے؟”

Manto copy

غضنفر علی


گذشتہ 68 برس میں پاکستانی سماج کو جن خطوط پر پروان چڑھایا گیا ہے اس کے نتیجے میں یہی امید کی جا سکتی ہے کہ سعادت حسن منٹو جیسے بے باک اور سچے لکھاری پر بنائی جانے والی فلم بھی اس سماج کی طرح منافقت کا لبادہ اوڑھے ہوگی۔ یہ علیحدہ بحث ہے کہ فلم کی کاسٹ کیسی تھی، فنکاروں کی اداکاری کس معیار کی تھی، کیمرہ ورک کیسا تھا، وغیرہ وغیرہ۔


بنیادی طور پر یہ ایک بائیو پک ہے اور کسی بھی بائیو پک کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ فلم دیکھنے کے بعد حاضرین کا اس شخص سے درست تعارف ہوجائے جس پر وہ فلم بنائی گئی ہے۔ اس فلم میں کچھ تکنیکی مسائل بھی ہیں جیسا کہ کیمرہ ورک سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک ٹیلی ویژن ڈرامہ بڑی اسکرین پر دیکھا جا رہا ہے۔

لیکن تکنیکی مسائل اپنی جگہ، یہاں صرف یہ دیکھنا ہوگا کہ منٹو کے مرنے کے 60 برس بعد کیا ہم اس فلم کے ذریعے منٹو کو وہ مقام دے سکے ہیں جس کا وہ حقدار تھا؟ آپ بہتر جانتے ہیں کہ ہمارے سماج میں منٹو کا تعارف کچھ اچھا نہیں ہے، منٹو کے بارے میں ایک عام رائے ہے کہ وہ فحش نگار تھا۔ جو اکثریت اس رائے کو تسلیم کرتی ہے انہوں نے کبھی منٹو کو پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور نہ ہی وہ لوگ کوشش کرنا چاہتے ہیں، محض عمومی رجحان کی پیروی میں وہ ببانگ دہل یہی بات دہراتے ہیں۔


اس فلم کو دیکھنے والی اکثریت بھی انہی لوگوں کی ہے۔ قابلِ ذکر اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس فلم کی بدولت نہ صرف اس غلط رجحان کو مزید تقویت ملے گی بلکہ سعادت حسن منٹو پر ایک ایسے شرابی کا لیبل بھی لگ جائے گا جو اپنی بیمار اولاد کے لیے دوا کے بجائے اپنے لیے شراب کو ترجیح دیتا ہے۔ جبکہ منٹو صاحب کے اپنے الفاظ آج بھی محفوظ ہیں کہ “جب میں اپنی بیٹیوں کی کوئی فرمائش تنگدستی کی بناء پر پوری نہیں کر پاتا تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔”


منٹو صاحب شراب پیتے تھے لیکن یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ فلم میں سعادت صاحب کو شراب کے حصول کے لیے حیوانیت کا مظاہرہ کرتے دکھایا گیا ہے۔ منٹو صاحب کے افسانے ‘ممی’ اور ‘بابو گوپی ناتھ’ اس بات کے گواہ ہیں کہ شراب نوشی کے باوجود انہوں نے خود کو انسانیت کے بلند تر مقام سے کبھی نیچے نہیں گرایا۔ عصمت چغتائی کہتی ہیں “میں کبھی نہ سمجھ سکی کہ منٹو پی کر بہکتا ہے یا بہک کر پیتا ہے۔”

اس میں کوئی شک نہیں کہ اکثریت کی جانب سے اس فلم کو بہت پذیرائی ملی ہے لیکن اس ضمن میں فلم بینوں کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ یہ وہ اکثریت ہے جس کو ادب سے کوئی لگاؤ نہیں، جو دائیں بازو، بائیں بازو، اشتراکیت، اشتمالیت اور سرمایہ دارانہ نظام جیسی اصطلاحات کو سمجھنے سے قاصر ہیں، جو تاریخ کے بارے میں صرف وہی معلومات رکھتے ہیں جو انہیں سرکاری مطالعہء پاکستان میں پڑھائی گئی ہے۔

ہندوستان کی آزادی کے لیے چلائی جانے والی تحریک میں کانگریس اور مسلم لیگ کی سیاست اور ان دونوں جماعتوں کے متوازی مارکسسٹ جد و جہد کے بارے میں کوئی معلومات نہ رکھنے والی یہ اکثریت کبھی نہ سمجھ سکے گی کہ منٹو نے اپنے افسانے کس پس منظر میں تحریر کیے ہیں۔


فلم بین تو کجا فلم بنانے والے خود منٹو سے ناواقف معلوم ہوتے ہے، مذکورہ فلم اس بات کی گواہ ہے کہ فلم بنانے والوں نے بھی منٹو کو محض فلم بنانے کے مقصد سے پڑھا ہے جس کے نتیجے میں فلم بنانے میں سنگین غلطیاں کی گئی ہیں۔ ایک طرف تو فلم میں صرف 1947 کے بعد کے واقعات کو فلمایا گیا ہے جبکہ دوسری طرف منٹو کو افسانہ “ہتک” لکھتے دکھایا گیا ہے جو منٹو نے 1944 میں لکھا تھا۔


فلم میں منٹو کا تعارف کروانے کے بجائے اس کے کچھ افسانوں کو فلمایا گیا اور انہیں جوڑ کر وقت پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ دیانت داری کے بجائے خود ساختہ سنسر شپ کو ترجیح دیتے ہوئے ان افسانوں کو اس انداز سے فلمایا گیا ہے کہ تمام مفہوم اور مرکزی خیال ہی تبدیل کر دیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر جنہوں نے منٹو کو پڑھ اور سمجھ رکھا ہے وہ بہتر جانتے ہیں کہ ‘ہتک’ کی مرکزی کردار سوگندھی کے کمرے میں کون سی تصویریں پائی جاتی تھیں اور فلم میں کیا ظاہر کیا گیا ہے۔ اس فلم میں وہ منٹو نہیں دکھایا گیا جس کے کمرہ میں بھگت سنگھ کا مجسمہ رکھا تھا، جو افسانہ نگاری میں روسی ادیب میکسم گورکی سے متاثر تھا، جس نے کارل مارکس، اقبال، گاندھی، اور جناح پر قلم اٹھایا، جس نے ہندوستان میں مارکسسٹ تحریک کو موضوع بنایا، جس نے طلباء پر پولیس تشدد سے متعلق لکھا، جس نے “عصمت فروشی”، “ترقی یافتہ قبرستان”، “گناہ کی بیٹیاں، گناہ کے باپ” جیسے لازوال اور حقیقت پسند مضمون لکھ کر غلیظ سماج کو اس کا اصل چہرہ دکھایا، جس نے تقسیم کے دوران اور بعد ہونے والی قتل و غارت کو کھل کر حیوانیت کہا۔


اس فلم میں اس منٹو کو نہیں دکھایا گیا جس نے “چچا سام کے نام خطوط” میں اس خطے میں امریکی مداخلت اور جہاد کے نام پر مذہب فروشی و قتل و غارت گری کا لبادہ چاک کیا، ہمیں وہ منٹو دیکھنے کو نہیں ملا جس کی نظر اگلے 50 برس سے بھی آگے دیکھتی تھی۔


یہ بات بہت معنی رکھتی ہے کہ منٹو کی ہزاروں تحریروں میں سے ‘ہتک’، ‘ٹھنڈا گوشت’، ‘اوپر نیچے اور درمیان’، اور ‘کھول دو’ جیسے افسانوں کو فلما کر یہ سب ٹکڑے ملا دیے جائیں اور فلم بنانے کا دعویٰ کیا جائے۔ درج بالا افسانوں میں نہ معلوم کیا ایسا ہے جسے فحش نگاری کہا جاسکے، ان افسانوں میں تو منٹو صاحب نے سماجی ناانصافی اور غلاظت کو بے نقاب کیا ہے جبکہ فلم میں اسے فحش تحریر بتایا گیا ہے۔ بنیادی طور پر متنازع افسانوں کو فلمانے کا مقصد ہی توجہ کا حصول تھا، اور فلم کا مقصد پیسہ کا حصول، جس میں وہ کامیاب رہے۔

ان صاحبان کی ذہنی سطح اس قدر نہیں کہ وہ ‘بو’، ‘اللہ دتا’، یا ‘بلاؤز’ جیسے افسانوں کی نفسیات کو سمجھ سکیں، یا بیان کر سکیں کہ ‘ترقی یافتہ قبرستان’ میں سماج کے کس ضابطے پر تنقید کی گئی ہے۔

نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ منٹو کے جن افسانوں کو فلمایا گیا ہے وہ محض فلم کی مقبولیت بڑھانے کی غرض سے شامل کیے گئے ہیں اور ان میں مزید مرچ مصالحے اور عامیانہ جملہ بازی کا استعمال کر کے ایک مخصوص طبقے کو فلم دیکھنے کی جانب راغب کیا گیا ہے، فلمائے گئے افسانوں کے حوالے سے اس منٹو کو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے دکھایا گیا ہے جس نے کبھی سرکاری و عدالتی سنسر شپ کی بھی پرواہ نہیں کی۔

انتہائی حساس طبیعت کے مالک سعادت حسن منٹو کو حلقہء اربابِ ذوق میں ایک ایسے شدت پسند کے روپ میں پیش کیا گیا ہے جو کسی دوسرے کی بات سننے کا روادار نہیں اور بھری محفل میں دوسروں پر عامیانہ جملے بازی کرتا ہے حالانکہ اگر منٹو کا وہ مضمون پڑھا جائے جو انہوں نے احمد ندیم قاسمی کے مضمون کے جواب میں لکھا تھا تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سعادت صاحب اپنے خلاف اٹھنے والی شدید ترین آوازوں اور تحریکوں کو بھی کسی خاطر میں نہ لاتے اور اس پر براہ راست مزید تبصرے سے بھی گریز کرتے۔

ہمارے آج اور مستقبل کے سماج اور آئندہ نسلوں کے لیے انتہائی پریشان کن امر یہ ہے کہ منٹو جیسے حساس اور سچے ادیب کا چہرہ بری طرح مسخ کر دیا گیا ہے۔ عوام کی اکثریت کی نفسیات ایسی ہے کہ وہ منٹو کے بارے میں کوئی بھی حتمی رائے قائم کرنے کے لیے ان کی تحریروں کے بجائے سنی سنائی باتوں اور اس فلم پر انحصار کرے گی۔

یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہوگا کے منٹو فلم کے نام پر جو کچھ بھی اس قوم کو دیکھنے کو ملا ہے وہ بجا طور پر کارپوریٹ میڈیا اور ضیاء الحق کے آمرانہ دور کی باقیات کی پیداوار ہے۔ اگر مختصراً کہا جائے کہ اس فلم میں اس سعادت حسن منٹو کو بیچ دیا گیا ہے جو خود کبھی نہیں بکا تو غلط نہ ہوگا، فلم بنانے والوں کا واحد مقصد فلم کی کامیابی تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے ہیں لیکن منٹو صاحب پر فحش نگار شرابی کا ٹھپا بھی لگا گئے ہیں۔

ہماری آئندہ نسلوں کے سامنے جب بھی منٹو صاحب کا نام لیا جائے گا تو شاید یہی سننے کو ملے جو فلم کے ایک سین میں منٹو صاحب کو کوٹھے پر خوش آمدید کہنے والی طوائف کہتی ہے “یہ وہی ہے نا جو گندی کہانیاں لکھتا ہے؟”


بشکریہ ڈان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s