سیاسی کھیت

Picture1

اقتداری سازشوں نے سندھ کی سیاست کو ایک بار پھر اس اوپن ائیر جیل میں تبدیل کردیا ہے ؛ جہاں ووٹ دینے والے غلام قید ہیں۔ وہ قید ہیں قبائل کے نام پر! وڈیرے کی وفاداری کے نام پر! پیری مریدی کے دام میں اب اس سندھ کا دم نہیں گھٹتا جو جمہوری جدوجہد کی صاف ستھری ہوا میں سانس لیتا تھا۔ ایسا نہیں کہ وہ لوگ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انہیں گاؤں کی سرحد عبور کرنے کی اجازت حاصل نہیں۔


وہ آزاد غلام ہیں۔ جہاں جائیں آزاد ہیں۔ جو کریں آزاد ہیں۔ چاہیں تو کھیتوں میں ہل چلائیں۔ چاہیں تو بھنبھناتی مکھیوں والے دیہاتی ہوٹلز پر دودھ پتی چائے پئیں اور رات دیر تک جنریٹر پر چلتا ہوا ٹی وی دیکھیں۔ چاہیں تو چور بن جائیں ۔ اور چاہیں تو بوریا بستر باندھ کر کراچی کے طرف آنے والی کوچ میں بیٹھ جائیں اور یہاں کسی نجی سکیورٹی کمپنی میں گارڈ بن جائیں اور کلاشنکوف کی طرح نظر آنے والی ایک زنگ آلود گن لیکر کسی بنک کے دروازے پر کھڑے ہوجائیں۔ 


وہ آزاد ہیں۔
اس ترکی نظم کی طرح جس میں سرد جنگ کے دوراں گرم گیت لکھنے والے شاعر نے استنبول سے بہت دور بستے ہوئے اس ہم وطن کسان کے لیے لکھا تھا کہ :
’’وہ آزاد ہے
چاہے اپنے سر کی جوئیں
نکالے یا نہیں!‘‘
اسی طرح بیوی پر حملے کی طرح محبت کرنے والا وہ دیہاتی سندھی آزاد ہے جو کچھ نہیں کماتا۔ اور پڑوسی کی بیوی کے ساتھ ’’مس کال‘‘ والی محبت کرتا ہے۔ اس کی ’’پیکیج‘‘ والی پوزیشن بھی نہیں۔ وہ اپنی چارپائی پر تنہا لیٹ کر ’’مس کال‘‘ دیتا ہے اور ’’مس کال ‘‘ لیتا ہے۔ وہ اس دوسری چارپائی کی طرف دیکھتا تک نہیں جہاں اس کی محنت کش بیوی چار بچوں کے ساتھ گہری نیند میں غرق ہوتی ہے۔
وہ شخص شہر میں آزاد اور گاؤں میں غلام ہے۔ وہ جو گھر والی پر تشدد کرتا ہے۔ مگر وڈیرے کی اوطاق پر ذلیل ہوتا ہے۔ وہ چھوٹے گاؤں کا چھوٹا وڈیرہ جو ولائتی بوتل میں لوکل شراب پیتا ہے اور آؤٹ ہوکر سب کو گالیاں دیتا ہے۔ اور جب صبح ہوتی ہے تب ’’ایس ایچ او صاحب‘‘ کی دعوت کو مینیج کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔وہ وڈیرہ جو اپنے کمدار سے کہتا ہے کہ ’’ایس ایچ او صاب صرف کھانے پینے تو نہیں آ رہا۔ باقی انتظام بھی کرلیا ہے؟‘‘
’’جی سائیں‘‘ کمدار پروفیشنل انداز میں کہتا ہے۔
پھر صحت مند مرغی کٹتی ہے اور بیمار لڑکی ناچتی ہے۔
محفل آدھی رات تک چلتی ہے!
دوسرے دن دوپہر کے کھانے پر منسٹر صاحب کا مقامی ایجنٹ آتا ہے اور وڈیرے کو بتاتا ہے کہ ’’صاحب نے اس بار بلدیاتی انتخابات میں اپنے بھانجے کو کھڑا کیا ہے اور اس کو کامیاب کرنا ہم سب کی عزت کا سوال ہے‘‘
وڈیرہ کی محفل کا تھکا ہوا وڈیرہ انگڑائی لیتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’وزیر صاحب کی عزت ہماری عزت ہے۔میرے دو پولنگ اسٹیشن اور دو ہزار ووٹ ہیں۔ وہ نوٹوں کی طرح سائیں پر نچھاور کردیں گے‘‘
وزیر کا مقامی ایجنٹ مسرت سے مسکراتا ہے اور وزیر صاحب کو فون ملاتا ہے اور اس کا آفیشل سیکریٹری بتاتا ہے کہ ’’صاحب ابھی تیار ہو رہے ہیں‘‘ اور مقامی ایجنٹ خوشی میں کھل کر کہتا ہے ’’ٹھیک ہے‘‘ اور فون کال کو آف کرتے ہیں وڈیرے کو بتاتا ہے کہ ’’صاحب وزیر اعلی سے میٹنگ میں مصروف ہیں مگر میرا وعدہ ہے کہ صاحب آپ سے خودبات کریں گے‘‘
اور وڈیرہ امید سے چہک اٹھتا ہے۔اور کہتا ہے ’’ کوئی بات نہیں۔ وزیر صاحب فون نہ بھی کریں تب بھی ہمارے ووٹ آپ کے ہوئے‘‘


وزیر کا مقامی ایجنٹ مسکرا کر کہتا ہے ’’آپ کو ایک ووٹ کے پانچ سو مل جائیں گے‘‘
’’صرف پانچ سو!!!!؟‘‘ یہ کہتے ہوئے وڈیرے کا چہرہ اتر جاتا ہے۔ اور وہ وزیر کے مقامی ایجنٹ سے کہتا ہے کہ ’’مجھے ایک ووٹ کے پانچ ہزار روپیے کی آفر ہے ۔ مگر میں نے کہا کہ ہم وفادار ہیں۔ اس لیے معافی کے طلبگار ہیں۔ مگر آپ بھی تو سوچیں کہ پانچ سو میں کیا ہوگا؟ اس سے اچھا ہے ہم آپ کو اپنے سارے ووٹ مفت دے دیں‘‘
مقامی ایجنٹ کچھ کہنا چاہتا ہے مگروڈیرہ اسے روکتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’اب ایک کوڑی لینا بھی حرام ہے۔ ووٹ آپ کے ہوئے۔ بس۔۔۔۔۔!!‘‘


’’بس نہیں‘‘ وزیر کا مقامی ایجنٹ ذرا قریب کھسک کر وڈیرے سے کہتا ہے کہ ’’آج کل صاحب ذرا بڑے خرچوں میں آگئے ہیں مگر صلہ ملے گا۔ شاید ان انتخابات کے ہوتے ہی صاحب وزیر اعلی بن جائیں۔ پھر ٹھاٹھ کرنا۔۔۔۔!ٹھاٹھ۔۔۔۔۔!!‘‘
وزیر کا مقامی ایجنٹ مصنوعی مسرت کا مکمل اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے ۔
اور آخر میں ایک ووٹ پندرہ سو پر بات طعہ ہوجاتی ہے۔
وڈیرہ ایڈوانس لیتا ہے اور کمدار کو دیتا ہے اور مقامی ایجنٹ کو رات ٹھرنے کی دعوت دیتا ہے۔
’’نہیں۔ مجھے ابھی جانا ہے۔ آج شام کو کراچی روانہ ہونا ہے۔ واپسی پر پہلی دعوت آپ کی‘‘ یہ کہتے ہوئے مقامی ایجنٹ بوسکی کی قمیض سلوٹیں ٹھیک کرتے ہوئے اٹھتا ہے اور وڈیرہ اسے کار تک چھوڑنے آتا ہے اور روایتی طور پر رخصت ہوکر کمدار سے پوچھتا ہے ’’پیسے گن لیے؟‘‘
’’جی سائیں! پورے بیس لاکھ ہیں‘‘ کمدار خوش ہوکر بتاتا ہے۔
اور دوسری دوپہر کو سارے گاؤں والوں کو بلاتا ہے اور وڈیرہ ان کو بتاتا ہے کہ ’’کل وزیر صاحب نے مجھ سے ایک گھنٹہ فون پر بات کی اور کہا کہ ’’تمہارا بھانجہ الیکشن میں کھڑا ہو رہا ہے۔ تم چاہو گے تو جیتے گا۔ نہ چاہو گے تو ہار جائے گا۔ اب تمہاری مرضی ہے۔ کامیاب کرو یا ناکام؟؟میں نے وزیر صاحب سے کہا کہ آپ کی عزت ہماری عزت ہے۔ مگر مجھے اپنے لوگوں سے مشورہ کرنا ہے۔ تو کیا ہے مشورہ آپ کا؟‘‘ وہ سب سر جھکا کر کہتے ہیں ’’جو حکم سائیں!!‘‘
اور سائیں خوش ہوجاتا ہے۔ وہ سائیں جس کا کراچی میں ایک چھوٹا سا فلیٹ بھی ہے۔ جہاں وہ منسٹر صاحب سے ملنے کے لیے دس بارہ دن ٹہرا رہتا ہے اور سندھ سیکریٹریٹ سے لیکر سندھ اسیمبلی تک کلف والے کاٹن کے کپڑے پہن کر خوار ہوتا رہتا ہے۔ منسٹر کے اسٹاف کی دعوتیں کرتا ہے اور پھر بھی اس کا کام نہیں ہوتا اور پھر گاؤں واپس لوٹتے ہوئے سپرہائے پر ڈرائیور سے شکایت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’پورا ایک لاکھ روپیہ خرچ ہوگیا اور کام بھی نہیں ہوا۔۔۔۔خیر آنے دو انتخابات۔۔۔۔کہاں جائے گا یہ منسٹر؟‘‘ پھر پانچ برس پرانی کرولا کی اےئرکنڈیشنڈ ہوا میں اسے نیند آنے لگتی ہے اور وہ کراچی میں قیام کے دوراں کی جانے والی عیاشی کو یاد کرتے ہوئے سوجاتا ہے۔ اور جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تب وہ اپنے سر پر ٹوپی کو سیدھا کرتے ہوئے ڈرائیور سے پوچھتا ہے ’’حیدرآباد آگیا؟‘‘ ڈرائیور ٹال پلازہ کا اسپیڈ بریکر عبور کرتے ہوئے گاڑی کو دوسرے گےئر میں اٹھاتا ہے اور کہتا ہے ’’سائیں بائے پاس پر ہیں۔ حیدرآباد چلنا ہے؟‘‘ وڈیرہ دریائے سندھ کی لہروں پرچمکتے ہوئے سورج کے کرنوں پر نظر ڈال کر کہتا ہے کہ ’’نہیں۔ گاؤں چلو۔ ‘‘ اور پھر جیب سے موبائل فون نکال کر کمدار کو فون کرتا ہے اور اس کو کہتا ہے کہ ’’دو گھنٹوں میں پہنچنے والا ہوں۔ گاؤں میں خیریت ہے؟‘‘کمدار اسے کچھ بتانا چاہتا ہے مگر وہ اسے ڈانٹ کر کہتا ہے کہ ’’ولی محمد تمہارے سارے بال سفید ہوگئے ہیں مگر تمہیں ابھی تک عقل نہیں آئی۔ ایسی باتیں فون پر نہیں کی جاتیں۔ جانتے بھی ہو کہ آج کل کیسے حالات چل رہے ہیں۔ دو گھنٹوں میں پہنچ رہا ہوں۔ باقی باتیں روبرو‘‘
وہ وڈیرہ شام کو گاؤں کی کچی سڑک پر دھول اڑاتے ہوئے اپنے پکے مکان کے دروازے پر پہنچتا ہے۔ کمدار ’’بسم اللہ بسم اللہ‘‘ کہتے ہوئے اس کا عزت سے استقبال کرتا ہے۔ اور وڈیرہ گھر میں داخل ہوتا ہے۔ جہاں اس کی چھوٹی بیوی شہر سے آنے والے تحفے کی انتظار میں ہے اور بڑی بیوی نئے کپڑے پہنے اس کی طرف کچھ شوق اور کچھ شکایت سے دیکھتی ہے۔ چھوٹے گاؤں میں شام کا سورج ڈھلنے سے قبل یہ خبر عام ہوجاتی ہے کہ ’’سائیں واپس آگیا‘‘ مگر اس رات وہ اوطاق پر محفل نہیں جماتا۔ وہ رات وہ گھر پر گذارتا ہے۔ بڑی بیگم کی شکایتیں سنتا ہے۔ چھوٹی بیگم کو محبت سے مناتا ہے۔ اور دوسرے دن صبح کو کمدار بتاتا ہے کہ ’’عاقل خان ملنا چاہتا ہے‘‘ وڈیرہ مکھن سے پراٹھ کھاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’اس کے وارنٹ نکلے ہوئے ہیں۔ اسے کہو آج رات دیر سے آئے‘‘ کمدار جھک کر کہتا ہے ’’جو حکم سائیں‘‘
پھر وہی اوطاق؛ وہی وڈیرہ! دن کو فیصلے اور رات کو محفلیں!!
وہ وڈیرہ جو اب یہ جان گیا ہے کہ زراعت میں وہ آمدنی نہیں جو سیاسی کاروبار میں ہے۔ وہ اپنے گاؤں اور آس پاس کے لوگوں کو ڈاکوؤں کے معرفت ڈرا کر رکھتا ہے اور ڈاکوؤں کو پولیس والوں سے اور پولیس والوں کے اعزاز میں محفلیں منعقد کرتا ہے اور جب ایس ایچ او ذرا مخمور ہوکر وڈیرے سے پوچھتا ہے کہ ’’بھوتار! اس بار شہر میں کچھ زیادہ دن ٹہر گئے‘‘ تب شہر کی ذلتیں یاد کرتے ہوئے وڈیرہ کہتا ہے کہ ’’ایس ایچ او صاحب! کیا کریں؟ ہر رات منسٹر صاحب کی دعوت!! ہربار کہتے رہے کہ نورل خان کبھی کبھار تو ہمارے مہمان بنتے ہو۔ تم کو ایسے نہیں چھوڑیں گے‘‘ ایس ایچ اور خوشامدی قہقہ لگاتا ہے اور وڈیرہ موچھوں کو تاؤ دیتا ہے!!
پھر اس رات کی صبح ہوتی ہے۔ مجبور لوگ اوطاق پر انتظار کرتے ہیں۔ کسی کی بیٹی اٹھائی گئی اور کسی کا بیٹا لاکپ ہوا۔ سوالی لوگوں کی حسب حیثیت بے عزتی کرنے والا وڈیرہ باربار فون ملاتا رہتا ہے اور کسی سے نیچی آواز میں تو کسی سے گرج کر بات کرتا ہے اور دوپہر کو تھک ہار کر حویلی کی طرف جاتا ہے ۔ جہاں اس کی دونوں بیویاں کسی دن آپس میں محبت کے ساتھ باتیں کرتی نظر آتی ہیں۔ اور وڈیرہ خوش ہوکر کہتا ہے کہ آج سورج کس طرف سے طلوع ہوا تھا؟ وڈیرے کی بات سن کر دونوں مسکراتی ہیں اور بڑی بیگم ذرا نخرے سے کہتی ہے کہ ’’میں چھوٹی کو کہہ رہی تھی کہ اپنے میاں سے کہو کہ کبھی اوطاق سے اٹھ کر کھیتوں کا چکر بھی لگا کر آئے‘‘ چھوٹی بیگم آنکھیں مٹکا کر کہتی ہے ’’جی‘‘
اور وڈیرہ کہتا ہے کہ ’’جو فاعدہ سیاسی کھیتوں میں ہے وہ زرعی کھیتوں میں کہاں؟ مگر تم عورتوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی!!‘‘
دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے وڈیرہ ہاتھ دھوتا ہے۔ بڑی بیگم کھانا لگاتی ہے۔ چھوٹی شرما کر کھاتی ہے۔ اور دیوار پر بیٹھا ہوا کوا ملک کی سیاسی صورتحال پر کسی اینکر پرسن کی طرح بولے چلا جاتا ہے!!

 بشکریہ اعجاز منگی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s