عرب، وحشت اور دہشت

RT-1 copyحرم شریف میں بجلی گرنے کے باعث کرین حادثے میں 107 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 200 سے زیادہ ہے۔ حادثے کے بعد حرم شریف کی انتظامیہ کا ردّعمل انتہائی بے حسی اور لاتعلقی پر مبنی تھا۔ نیچے جس وڈیو کا لنک دیا گیا ہے، اس کو کلک کرکے آپ خود بھی ملاحظہ فرماسکتے ہیں کہ جائے حادثہ پر کوئی انتظامی اہلکار دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کی وجہ سے سعودی معیشت بھی زوال سے دوچار ہے، چنانچہ اس کی توجہ اور انحصار انحصار حج و عمرہ سے ہونے والی آمدنی پر بڑھتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے حکمران مارکیٹنگ کے اصولوں کے تحت پوری مسلم دنیا میں مذہب پرستی اور ظاہر پرستی کی وباء کو ایک طے شدہ منصوبے کے تحت فروغ دے رہے ہیں تاکہ اس کے نتیجے میں حج و عمرہ کے لیے آنے والے زائرین کی تعداد میں ہر سال معقول اضافہ ہوسکے۔ حرمین شریفین کی بے ہنگم اور حد سے زیادہ توسیع بھی اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ سعودی حکمرانوں کا بس ہی نہیں چل رہا ہے کہ وہ کروڑوں افراد کو حرمین میں کس طرح اکھٹا کردیں۔

گزشتہ سال حج سے حاصل ہونے والی آمدنی میں مثبت اضافہ دیکھا گیا تھا، جب 90 لاکھ زائد زائرین حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے آئے تھے اور حج اور عمرہ سے سعودی مملکت کو 70 ارب سعودی ریال (تقریباً 2 کھرب پاکستانی روپے) کا خطیر منافع حاصل ہوا۔ حاجیوں کی آمد سے سعودی مصنوعات کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سال امید کی جارہی ہے کہ 80 کروڑ سعودی ریال (تقریباً 22 ارب پاکستانی روپے) تک مالیت کی سعودی مصنوعات فروخت ہوسکتی ہیں۔

حج کے علاوہ عمرہ کےلیےآنے والے زائرین ایک اندازے کے مطابق کم سے کم 270 ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ عازمین کی عمرہ کی رہائش، ٹرانسپورٹ اور غذا کی فراہمی سے سعودی معیشت کو ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے ۔ گزشتہ برس مکہ مکرمہ میں عمرہ کا سیزن پچھلے سال گزشتہ کے مقابلے میں بہتر رہا تھا اور وسطی علاقے میں تمام فائیو اسٹار ہوٹلز بھر گئے تھے۔
جس حساب سے سعودی مملکت کو حج و عمرہ سے آمدنی ہورہی ہے، اس حساب سے زائرین کی جان و مال کی حفاظت کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے۔
ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت کی بصیرت و بصارت پر عقیدت کا کالا موتیا پڑچکا ہے، اس لیے انہیں وہاں معجزات و کرشمات ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ملک سے جانے والے زائرین تو وہاں حرمین میں صفائی ستھرائی کو ہی دیکھ کر اس کو الوہی معجزہ قرار دے دیتے ہیں، اس لیے کہ حرم سے کچھ فاصلے پر آبادیوں اور ہوٹلوں کے اطراف کے علاقوں میں صفائی کی صورتحال کم و بیش ہمارے ملک کے بیشتر شہروں کی مانند ہی بدترین رہتی ہے۔ لیکن اندھی عقیدت کی وجہ سے نہ تو وہ انتظامیہ کی سستی اور نااہلی کی شکایت کرتے ہیں اور نہ ہی وطن واپس آکر کسی سے ان کا تذکرہ کرتے ہیں کہ اس طرح ثواب کی بوری ہلکی پڑجائے گی۔
ہمارے ہاں عربوں کے متعلق جس طرح کی تقدیسیت اور تصورات پائے جاتے ہیں، وہ اس کے برعکس اتنے ہی زیادہ وحشی اور غیرمہذب ہیں۔ قبل از اسلام سے ہی ان میں روایت تھی کہ دنیا بھر سے لوگ بیت ایل یا بیت اللہ کی زیارت کے لیے آتے تھے، یہ عرب ان کو اپنے جانور قربانی کے لیے مہنگے داموں فروخت کرتے تھے اور ذبح کیے جانے والے جانوروں کا گوشت بھی خود ہی ہتھیا لیتے تھے۔ بعد از اسلام بھی یہی سلسلہ جاری رہا کہ جانور انہی سے خریدو اور گوشت بھی ان کے ہی حوالے کردو۔ پہلے بھی لوٹ مار کے علاوہ اسی پر ان کی معیشت کا انحصار تھا، بعد میں بھی یہی دستور رائج رہا۔ تاہم پٹرولیم کی دریافت کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی۔ لیکن اس قوم کی فکری ابتری بنیادی طور پر اسی سطح پر برقرار رہی، جیسے کہ پہلے تھی۔
آج بھی حج اور عمرہ سیزن کے دوران لڑکیوں کی خریدوفروخت کا کاروبار عروج پر ہوتا ہے۔ اس دوران لڑکیاں اغوا بھی ہوتی ہیں۔ اسی لیے حجاب یعنی منہ ڈھانپنا وہاں شرع کے حکم سے زیادہ جان و عزت بچانے کے لیے لازم ہے۔ اس دوران لوٹ مار بھی جاری رہتی ہے۔ تاہم ہمارے لوگ لاکھوں میں سے کسی ایک کی ایمانداری کا ڈھول تو خوب پیٹتے ہیں، لیکن لوٹ مار، چوری ڈکیتیوں کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا۔
جیسے جیسے زائرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، کچل کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد بے تحاشہ بڑھ گئی ہے۔ اس طرح کے واقعات کا لوگ بہت کم ہی تذکرہ کرتے ہیں، یا ان واقعات کی ہولناکی بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں، اس لیے کہ ان کے ذہن میں یہ تصور ہوتا ہے کہ مرنے والا تو سیدھے جنت میں گیا ہوگا۔ میرے ایک کزن نے کافی برس پہلے حج کیا تھا، ان دنوں وہ مذہب پسند نہیں تھے، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بہت سے تلخ حقائق مجھ سے بیان کیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ ہندوستان کے تین افراد تھے، ایک دادا تھا، دوسرا بیٹا اور تیسرا پوتا۔ دادا رمی کو جاتے ہوئے لڑکھڑا گئے اور ہجوم ان کو روندتا ہوا آگے بڑھتا گیا، بیٹا ان کو بچانے کے لیے جھکا، وہ بھی کچلا گیا، اور پوتے کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ بعد میں جب ہجوم چلا گیا تو انتظامیہ کے اہلکار ان تینوں کے جسم کے لوتھڑے اکھٹا کرکے لے گئے، جن پر مکھیاں اور کوئے منڈلا رہے تھے۔
انہوں نے ایک اور ہولناک واقعہ سنایا، جسے میں بہیمانہ قتل کہتا ہوں۔ طوافِ کعبہ کے دوران حجراسود کے قریب ہجوم بوسہ دینے کے لیے دیوانہ وار لپک رہا تھا کہ ایک خاتون کعبہ کی دیوار سے ٹکرائی اور پھر ہجوم کا دباؤ نے اس کو اس بری طرح پیس کر رکھ دیا کہ اس کی پسلیاں اور دیگر ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور پریشر اتنا تھا کہ پھیپھڑوں کے ٹکڑے خون کے فوارے کے ساتھ اس کے حلق سے ابل پڑے تھے۔ اس کی آنکھوں کے ڈیلے بھی باہر آگئے تھے۔ تاہم طواف اس دوران جاری رہا۔ جب ہجوم کم ہوا تو انتظامیہ کے اہلکار صفائی کے لیے پہنچ گئے۔
یہ تو ایک فرد کے مشاہدات ہیں۔
لڑکیوں کے اغوا کے واقعات اس لیے دب جاتے ہیں کہ حج کے دوران لڑکیوں کو ‘‘استعمال’’ کے بعدواپس کردیا جاتا ہے۔ سہمی ڈری اور خوفزدہ لڑکیاں کچھ کہہ نہیں پاتیں اور جو کچھ کہتی بھی ہیں تو ان کے والدین یا دیگر سرپرست چپ رہنے اور کسی سے کچھ تذکرہ نہ کرنے کی سختی سے ہدایت کرکے مناسک حج کی ادائیگی کے بعد ثواب کی بوریاں لاد کر وطن واپس لوٹ جاتے ہیں۔ اگر کوئی بے وقوف شکایت لے کر کسی دفتر پہنچ جائے تو اس کو ہی پکڑ کر بند کردیا جاتا ہے، پھر بھاری رشوت دے کر ہی نجات ملتی ہے، یا پھر برسوں جیل میں سڑتا رہتا ہے۔
سعودی عرب میں بسلسلہ روزگار مقیم افراد تو وہاں سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں بلکہ بھگت رہے ہوتے ہیں لیکن یہاں آکر سبحان اللہ اور جزاک اللہ کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں مجال ہے کہ ایک لفظ بھی عربوں کے خلاف زبان سے نکل جائے۔

عرب جیسے ماضی میں تھے آج بھی اسی قدر وحشی ہیں۔ میرے ایک کولیگ تھے انہوں نے اپنے دادا کا قصہ سنایا تھا جو تقسیم ہندوستان سے قبل حج کے لیے گئے تھے۔ وہ مکہ میں اپنی قیام گاہ سے حرم کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں گرمی کی شدت سے ہانپ کر ایک گھر کے سائے میں کچھ دیر آرام کی غرض سے بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر گزری ہوگی کہ مکان مالک باہر نکلا اور ان سے اشاروں میں کہنے لگا کہ اتنی رقم اس کے حوالے کی جائے۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا، ایک ہم وطن راہگیر جو عربی سے واقف تھا، ان سے کہنے لگا کہ یہ عرب دیوار کے سائے میں بیٹھنے کا معاوضہ مانگ رہا ہے۔ وہ سخت حیران ہوئے اور بولے کہ میں اس کو اس قدر بھاری رقم محض اس کی دیوار کے سائے میں بیٹھنے کے معاوضے میں کیوں دوں؟

ان کے ہموطن نے انہیں سمجھایا کہ کچھ نہ کچھ دے کر گلو خلاصی کروالیں، ورنہ یہ کوئی الزام عائد کردے گا، اور یوں بطور سزا آپ کا کچھ نہ کچھ کاٹ دیا جائے گا۔
آج بھی یہی صورتحال ہے، لوگوں کا کچھ نہ کچھ کاٹ کر بھیج دیا جاتا ہے،وطن پہنچ کر کہتے ہیں مشین میں ہاتھ آگیا تھا۔

جمیل خان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s